پاک بھارت سیریز مزید دور ہو گئی
ہماری جیت اس بات کی بھی غماز ہے کہ جیت کے لیے نئے خون کی ضرورت ہے
msuherwardy@gmail.com
لاہور:
پاکستان میں آجکل تاریخ رقم کرنے کا موسم ہے۔ جس طرح وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر تاریخ رقم کی ہے۔ اسی طرح سرفراز الیون نے بھی کرکٹ کی چیمپئن ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو ہرا کر تاریخ رقم کر دی ہے۔پوری قوم سرفراز الیون کو مبارکباد دے رہی ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کا بھی یہی موقف ہے کہ تاریخ رقم کرنے پر قوم ان کو مبارکباد دے رہی ہے۔ لیکن بہر حال سیاست اپنی جگہ کرکٹ کی جیت نے پوری قوم کو خو ش کر دیا۔
بھارت مسلسل پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے سے انکاری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کی اس ہار سے پاک بھارت کے کرکٹ کے دروازے مزید بند ہو گئے ہیں یا کھل گئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کی ہار کا پاک بھارت کرکٹ معاملہ سے گہرا تعلق ہے۔ بھارت کی سیاسی قیادت اس لیے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے سے انکاری ہے کیونکہ ہار کی صورت میں انھیں اپنے ملک میں ایک بڑے ردعمل کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن ایسا صرف بھارت میں نہیں ہے۔ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہے۔
چیمپئن ٹرافی کے اس فائنل سے پہلے پاکستان کے سوشل میڈیا میں ایسے پیغامات وائرل تھے جن میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نہیں چاہتے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت کو ہرائے۔ اس ضمن میں نواز شریف کی مودی کے ساتھ دوستی کو بہانہ بنا کر ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف نجم سیٹھی کو حکم دے رہے ہیں کہ کرکٹرز کو کہیں کہ بھارت سے نہیں جیتنا۔ اور جیسے جیسے میچ پاکستان کے حق میں جا رہا تھا ایسے پیغامات کی زبان بھی بدلتی جا رہی تھی اور پیغامات یہ کہہ رہے تھے کہ نواز شریف نجم سیٹھی کو کہہ رہے ہیں کہ ہم میچ کیوں جیت رہے ہیں تو جواب میں نجم سیٹھی کہہ رہے ہیں کہ کوئی کرکٹر ان کا فون نہیں اٹھا رہا۔
یقینا سوشل میڈیا پر چلنے والی یہ مہم سنجیدہ نہیں تھی لیکن اس کے اثرات سنجیدہ تھے۔خود عمران خان جب بھی پاکستان کی کرکٹ ٹیم ہارتی تو اس کی ذمے داری نواز شریف اور نجم سیٹھی پر ہی عائد کرتے تھے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وہ کرکٹ ٹیم کی ہار اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جذبات اور رد عمل کو نواز شریف کے خلاف ا ستعمال کرنے کی بھر پور کوشش کرتے تھے۔ اور اب جب کل پاکستان ایک لمبے عرصہ بعد بھارت سے جیت گیا ہے حکومت اس جیت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے مدینہ سے جیت پر مبارکباد کا پیغام دیا ہے۔ شہباز شریف نے پاکستان کی شرٹ پہن کر میچ دیکھنے کی تصویر بھی جاری کی ہے۔ اس طرح پاک بھارت کرکٹ میچ کا پاکستان کی سیاست میں ایک گہرا اثر ہے۔ اسی لیے سب حکمرانوں نے میچ دیکھتے ہوئے اپنی تصویریں اور پیغامات جاری کیے ہیں۔ ورنہ ایک سوال تو یہ بھی ہے کہ کل جب پاکستان کے سارے حکمران اور ارباب اختیار میچ ہی دیکھ رہے تھے تو ملک کون چلا رہا تھا۔
آپ مانیں یہی صورتحال دوسری طرف بھارت میں بھی ہے ۔ بھارت میں بھی پاکستان کے ساتھ میچ کے ساتھ کے ملک کی سیاست پر گہرے اثرات ہیں۔ یہ درست ہے کہ بھارت کا پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکارکی ایک بڑی وجہ پاکستان کرکٹ کو مالی طور پر کمزور کرنا ہے۔ لیکن پھر بھی نہ کھیلنے کی بڑی وجہ سیاسی ہے۔ بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت بھارت میں پاکستان دشمنی کی بنیاد پر سیاست کر رہی ہے۔ آپ لائن آف کنٹرول کی صورتحال دیکھیں۔گرم سرحدیں بھارت میں برسراقتدار سیاسی ٹولے کی سیاسی ضرورت ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ لڑنے کا بھی کوئی موڈ نہیں رکھتے۔ لیکن وہ صلح کا بھی کوئی موڈ نہیں رکھتے۔ وہ پاکستان دشمنی کو بھارت کی اندرونی سیاست میں ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کی ایک پالیسی ہے بھی اور نہیں بھی۔
کیا یہ مضحکہ خیز نہیں کہ بھارت پاکستان کے ساتھ با ہمی سیریز کھیلنے کو تو تیار نہیں۔ بھارت کی حکومت بھارتی بورڈ کو معاہد ہ کے باوجود پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز کھیلنے کی اجازت نہیں دے رہی لیکن بین الاقومی ٹورنامنٹس میں بھارت پاکستان کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار ہے۔ یہ ایک مبہم اور دوغلی پالیسی ہے۔ جو لوگ ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ پاکستانی قوم بھارت کے ساتھ میچ میں ایسے ہی جذباتی ہو جاتی ہے۔ میچ کو میچ سمجھنا چاہیے۔ کھیل کو کھیل سمجھنا چاہیے۔کیا وہ یہ بات بھارت کی سیاسی قیادت اور قوم کو بھی سمجھا سکتے ہیں۔کیا کل سے بھارت میں جو صف ماتم بچھی ہے اس کا کسی کے پاس کوئی جواب ہے۔کیا بھارتی عوام کا رد عمل پاکستانی قوم سے زیادہ پر تشدد نہیں۔ پاکستان تو بھارت سے بھارت میں ہارا تو ہم نے صبر کیا۔ پاکستان بھارت سے پاکستان میں بھی ہارا تو ہم نے مہمان نواز ی کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھا لیکن جواب میں بھارت میں ہونے والے رد عمل کو سامنے رکھنا ہو گا۔
اس لیے بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت اپنی سیاسی پالیسیوں کی وجہ سے ایک ایسی بند گلی میں پہنچ چکی ہے جہاں وہ پاکستان کے ساتھ کھیلے تو بھی مرتی ہے اور نہ کھیلے تو بھی مرتی ہے۔ ویسے تو بھارت کی مسلسل جیت نے بھی پاک بھارت کے کرکٹ دروازے کھولنے میں کوئی مدد نہیں کی ہے لیکن بھارت کی ہار پاک بھارت کرکٹ کو مزید دور ضرور کر دے گی۔ یہ ایک ہار مودی کے لیے کافی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے دروازے بند رکھنے کے فیصلہ پر بضد رہیں۔
پاکستان کرکٹ کا چیمپئن بن گیا ہے۔ پاکستان کی ٹیم بلاشبہ اچھا کھیلی ہے۔ لیکن پھر بھی ہمیں پتہ ہے کہ کچھ قسمت نے بھی ساتھ دیا ہے۔ جیت ہمارے مقدر میں تھی۔ اس لیے جیت کے دروازے کھلتے گئے۔ سب کہہ رہے ہیں کہ یہ جیت رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی وجہ سے بھی ہے۔ نو بال نے بھی کمال دکھایا ہے۔ مخالف ٹیموں نے ہمارے اہم کیچ چھوڑ کر بھی ہمیں راستہ دیا ہے۔ لیکن یہ سب کھیل کا حصہ ہے۔ جب پاکستان ہارتا ہے تب ہم کیچ چھوڑتے ہیں۔ ہمارے بولر نو بال کرتے ہیں۔ یہی اس کھیل کا حسن ہے۔ اسی لیے کرکٹ بائی چانس بھی کہا جاتا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ مودی صاحب کوئی چانس لینے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔اقتدار کے کھیل میں نہ چانس لیا جاتا ہے اور نہ ہی چانس دیا جاتا ہے۔ یہ ایک بے رحم کھیل ہے۔
ہماری جیت اس بات کی بھی غماز ہے کہ جیت کے لیے نئے خون کی ضرورت ہے۔ پٹے ہوئے گھوڑے اور مہرے جیت نہیں لا سکتے۔ نیا ٹیلنٹ اور نیا خون ہی جیت کا جذبہ رکھتا ہے۔ جو لوگ کہہ رہے تھے کہ شرجیل خان کو اس لیے معافی دے دینی چاہیے کہ قومی ٹیم کو اس کی ضرورت ہے ان کی یہ دلیل بھی نئے ٹیلنٹ نے ختم کر دی ہے۔ فخر نے ثابت کیا ہے کہ ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ ہمیں نئے خون اور نئے ٹیلنٹ کو راستہ اور موقع دینا ہوگا۔ ہر بار پرانے چہروں کو واپس بلانے کی پالیسی بھی درست ثابت نہیں ہوئی ہے۔ یہ بھی ایک فطری عمل ہے کہ جیت کا سب کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور ہار کی ذمے داری کوئی نہیں لیتا۔ اسی لیے آپ کی مرضی ہے جیت کا کریڈٹ ٹیم کو دیں ،کپتان کو دیں۔ رمضان کو دیں۔ بورڈ کو دیں۔
پاکستان میں آجکل تاریخ رقم کرنے کا موسم ہے۔ جس طرح وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر تاریخ رقم کی ہے۔ اسی طرح سرفراز الیون نے بھی کرکٹ کی چیمپئن ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو ہرا کر تاریخ رقم کر دی ہے۔پوری قوم سرفراز الیون کو مبارکباد دے رہی ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کا بھی یہی موقف ہے کہ تاریخ رقم کرنے پر قوم ان کو مبارکباد دے رہی ہے۔ لیکن بہر حال سیاست اپنی جگہ کرکٹ کی جیت نے پوری قوم کو خو ش کر دیا۔
بھارت مسلسل پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے سے انکاری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کی اس ہار سے پاک بھارت کے کرکٹ کے دروازے مزید بند ہو گئے ہیں یا کھل گئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کی ہار کا پاک بھارت کرکٹ معاملہ سے گہرا تعلق ہے۔ بھارت کی سیاسی قیادت اس لیے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے سے انکاری ہے کیونکہ ہار کی صورت میں انھیں اپنے ملک میں ایک بڑے ردعمل کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن ایسا صرف بھارت میں نہیں ہے۔ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہے۔
چیمپئن ٹرافی کے اس فائنل سے پہلے پاکستان کے سوشل میڈیا میں ایسے پیغامات وائرل تھے جن میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نہیں چاہتے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت کو ہرائے۔ اس ضمن میں نواز شریف کی مودی کے ساتھ دوستی کو بہانہ بنا کر ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف نجم سیٹھی کو حکم دے رہے ہیں کہ کرکٹرز کو کہیں کہ بھارت سے نہیں جیتنا۔ اور جیسے جیسے میچ پاکستان کے حق میں جا رہا تھا ایسے پیغامات کی زبان بھی بدلتی جا رہی تھی اور پیغامات یہ کہہ رہے تھے کہ نواز شریف نجم سیٹھی کو کہہ رہے ہیں کہ ہم میچ کیوں جیت رہے ہیں تو جواب میں نجم سیٹھی کہہ رہے ہیں کہ کوئی کرکٹر ان کا فون نہیں اٹھا رہا۔
یقینا سوشل میڈیا پر چلنے والی یہ مہم سنجیدہ نہیں تھی لیکن اس کے اثرات سنجیدہ تھے۔خود عمران خان جب بھی پاکستان کی کرکٹ ٹیم ہارتی تو اس کی ذمے داری نواز شریف اور نجم سیٹھی پر ہی عائد کرتے تھے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وہ کرکٹ ٹیم کی ہار اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جذبات اور رد عمل کو نواز شریف کے خلاف ا ستعمال کرنے کی بھر پور کوشش کرتے تھے۔ اور اب جب کل پاکستان ایک لمبے عرصہ بعد بھارت سے جیت گیا ہے حکومت اس جیت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے مدینہ سے جیت پر مبارکباد کا پیغام دیا ہے۔ شہباز شریف نے پاکستان کی شرٹ پہن کر میچ دیکھنے کی تصویر بھی جاری کی ہے۔ اس طرح پاک بھارت کرکٹ میچ کا پاکستان کی سیاست میں ایک گہرا اثر ہے۔ اسی لیے سب حکمرانوں نے میچ دیکھتے ہوئے اپنی تصویریں اور پیغامات جاری کیے ہیں۔ ورنہ ایک سوال تو یہ بھی ہے کہ کل جب پاکستان کے سارے حکمران اور ارباب اختیار میچ ہی دیکھ رہے تھے تو ملک کون چلا رہا تھا۔
آپ مانیں یہی صورتحال دوسری طرف بھارت میں بھی ہے ۔ بھارت میں بھی پاکستان کے ساتھ میچ کے ساتھ کے ملک کی سیاست پر گہرے اثرات ہیں۔ یہ درست ہے کہ بھارت کا پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکارکی ایک بڑی وجہ پاکستان کرکٹ کو مالی طور پر کمزور کرنا ہے۔ لیکن پھر بھی نہ کھیلنے کی بڑی وجہ سیاسی ہے۔ بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت بھارت میں پاکستان دشمنی کی بنیاد پر سیاست کر رہی ہے۔ آپ لائن آف کنٹرول کی صورتحال دیکھیں۔گرم سرحدیں بھارت میں برسراقتدار سیاسی ٹولے کی سیاسی ضرورت ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ لڑنے کا بھی کوئی موڈ نہیں رکھتے۔ لیکن وہ صلح کا بھی کوئی موڈ نہیں رکھتے۔ وہ پاکستان دشمنی کو بھارت کی اندرونی سیاست میں ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کی ایک پالیسی ہے بھی اور نہیں بھی۔
کیا یہ مضحکہ خیز نہیں کہ بھارت پاکستان کے ساتھ با ہمی سیریز کھیلنے کو تو تیار نہیں۔ بھارت کی حکومت بھارتی بورڈ کو معاہد ہ کے باوجود پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز کھیلنے کی اجازت نہیں دے رہی لیکن بین الاقومی ٹورنامنٹس میں بھارت پاکستان کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار ہے۔ یہ ایک مبہم اور دوغلی پالیسی ہے۔ جو لوگ ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ پاکستانی قوم بھارت کے ساتھ میچ میں ایسے ہی جذباتی ہو جاتی ہے۔ میچ کو میچ سمجھنا چاہیے۔ کھیل کو کھیل سمجھنا چاہیے۔کیا وہ یہ بات بھارت کی سیاسی قیادت اور قوم کو بھی سمجھا سکتے ہیں۔کیا کل سے بھارت میں جو صف ماتم بچھی ہے اس کا کسی کے پاس کوئی جواب ہے۔کیا بھارتی عوام کا رد عمل پاکستانی قوم سے زیادہ پر تشدد نہیں۔ پاکستان تو بھارت سے بھارت میں ہارا تو ہم نے صبر کیا۔ پاکستان بھارت سے پاکستان میں بھی ہارا تو ہم نے مہمان نواز ی کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھا لیکن جواب میں بھارت میں ہونے والے رد عمل کو سامنے رکھنا ہو گا۔
اس لیے بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت اپنی سیاسی پالیسیوں کی وجہ سے ایک ایسی بند گلی میں پہنچ چکی ہے جہاں وہ پاکستان کے ساتھ کھیلے تو بھی مرتی ہے اور نہ کھیلے تو بھی مرتی ہے۔ ویسے تو بھارت کی مسلسل جیت نے بھی پاک بھارت کے کرکٹ دروازے کھولنے میں کوئی مدد نہیں کی ہے لیکن بھارت کی ہار پاک بھارت کرکٹ کو مزید دور ضرور کر دے گی۔ یہ ایک ہار مودی کے لیے کافی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے دروازے بند رکھنے کے فیصلہ پر بضد رہیں۔
پاکستان کرکٹ کا چیمپئن بن گیا ہے۔ پاکستان کی ٹیم بلاشبہ اچھا کھیلی ہے۔ لیکن پھر بھی ہمیں پتہ ہے کہ کچھ قسمت نے بھی ساتھ دیا ہے۔ جیت ہمارے مقدر میں تھی۔ اس لیے جیت کے دروازے کھلتے گئے۔ سب کہہ رہے ہیں کہ یہ جیت رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی وجہ سے بھی ہے۔ نو بال نے بھی کمال دکھایا ہے۔ مخالف ٹیموں نے ہمارے اہم کیچ چھوڑ کر بھی ہمیں راستہ دیا ہے۔ لیکن یہ سب کھیل کا حصہ ہے۔ جب پاکستان ہارتا ہے تب ہم کیچ چھوڑتے ہیں۔ ہمارے بولر نو بال کرتے ہیں۔ یہی اس کھیل کا حسن ہے۔ اسی لیے کرکٹ بائی چانس بھی کہا جاتا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ مودی صاحب کوئی چانس لینے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔اقتدار کے کھیل میں نہ چانس لیا جاتا ہے اور نہ ہی چانس دیا جاتا ہے۔ یہ ایک بے رحم کھیل ہے۔
ہماری جیت اس بات کی بھی غماز ہے کہ جیت کے لیے نئے خون کی ضرورت ہے۔ پٹے ہوئے گھوڑے اور مہرے جیت نہیں لا سکتے۔ نیا ٹیلنٹ اور نیا خون ہی جیت کا جذبہ رکھتا ہے۔ جو لوگ کہہ رہے تھے کہ شرجیل خان کو اس لیے معافی دے دینی چاہیے کہ قومی ٹیم کو اس کی ضرورت ہے ان کی یہ دلیل بھی نئے ٹیلنٹ نے ختم کر دی ہے۔ فخر نے ثابت کیا ہے کہ ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ ہمیں نئے خون اور نئے ٹیلنٹ کو راستہ اور موقع دینا ہوگا۔ ہر بار پرانے چہروں کو واپس بلانے کی پالیسی بھی درست ثابت نہیں ہوئی ہے۔ یہ بھی ایک فطری عمل ہے کہ جیت کا سب کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور ہار کی ذمے داری کوئی نہیں لیتا۔ اسی لیے آپ کی مرضی ہے جیت کا کریڈٹ ٹیم کو دیں ،کپتان کو دیں۔ رمضان کو دیں۔ بورڈ کو دیں۔