آئی جی جیل نے ممنوعہ سامان کا رینجرز کا دعویٰ مسترد کردیا
اضافی کچن بی کلاس کے قیدیوں کیلیے ہیں، پنکھے، ٹی وی، واٹر کولر امداد میں ملے ہیں
جیل میں کینٹین اور اسٹال ہیں، رقم ہوگی تو قیدی خریداری کریں گے ، نصرت منگن کی گفتگو۔ فوٹو : منور اے خان / ایکسپریس
آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگن نے رینجرز کی جانب سے سینٹرل جیل میں آپریشن کے دوران برآمد کیے جانے والے ممنوعہ سامان کے دعوے کو مسترد کردیا۔
آئی جی جیل خانہ جات نے ایکسپریس کو بتایاکہ جیل آپریشن کے دوران جو بھی اشیا برآمد کی گئی ان میں صرف موبائل فون غیر قانونی ہے لیکن وہ بھی ناکارہ ہے جبکہ باقی تمام اشیا جیل کی ضرورت ہیں اور کوئی بھی غیر قانونی چیز نہیں ہے، آپریشن کے دوران اضافی اور غیر قانونی چیزیں بتائی گئی ہیں وہ جیل مینوئل اور قانون کے مطابق ہیں اور ان کی اجازت ہے۔
نصرت منگن نے کہا کہ اضافی کچن کے حوالے سے جو بتایاگیا وہ غیر قانونی نہیں ہے بلکہ بی کلاس کے قیدیوں کے لیے ہیں جبکہ پنکھے، ٹی وی، واٹر کولر اور دیگر اشیا مختلف مواقع پر امداد کی صورت میں یا چندے میں ملی ہیں اور جیل کی ضرورت کی اشیا ہیں۔ جیل میں کوئی بھی جدید ڈیوائس استعمال نہیں کی جاتی لیکن یہ ضرور ہے کہ جیل میں جیمرز بجلی فیل ہونے یا لوڈ شیڈنگ کے موقع پر کام چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس جیمرز کا بیک اپ پاور سسٹم موجود نہیں۔
آئی جی جیل خانہ جات نے کہا کہ جیل سے رقم کی بڑی تعداد کا جو بتایا گیا ہے وہ رقم ہر قیدی سے500 روپے بھی برآمد کیے جاتے تو یہ رقم 30لاکھ روپے بنتی ہے جو برآمد کی گئی رقم سے زیادہ بنتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جیل میں کینٹین اور ضروری اشیا کے اسٹال ہیں، ظاہر ہے کہ قیدی خریداری بھی کرتے ہیں تو ان کے پاس رقم ہونا چاہیے۔
ایک سوال پر نصرت منگن نے کہا کہ برآمد کیے جانے والے موبائل فونز کے حوالے سے یہ دیکھا جائے گا کہ کس قیدی سے برآمد ہوا ہے اس کے بعد اس کے خلاف کیاقانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آئی جی جیل خانہ جات نے ایکسپریس کو بتایاکہ جیل آپریشن کے دوران جو بھی اشیا برآمد کی گئی ان میں صرف موبائل فون غیر قانونی ہے لیکن وہ بھی ناکارہ ہے جبکہ باقی تمام اشیا جیل کی ضرورت ہیں اور کوئی بھی غیر قانونی چیز نہیں ہے، آپریشن کے دوران اضافی اور غیر قانونی چیزیں بتائی گئی ہیں وہ جیل مینوئل اور قانون کے مطابق ہیں اور ان کی اجازت ہے۔
نصرت منگن نے کہا کہ اضافی کچن کے حوالے سے جو بتایاگیا وہ غیر قانونی نہیں ہے بلکہ بی کلاس کے قیدیوں کے لیے ہیں جبکہ پنکھے، ٹی وی، واٹر کولر اور دیگر اشیا مختلف مواقع پر امداد کی صورت میں یا چندے میں ملی ہیں اور جیل کی ضرورت کی اشیا ہیں۔ جیل میں کوئی بھی جدید ڈیوائس استعمال نہیں کی جاتی لیکن یہ ضرور ہے کہ جیل میں جیمرز بجلی فیل ہونے یا لوڈ شیڈنگ کے موقع پر کام چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس جیمرز کا بیک اپ پاور سسٹم موجود نہیں۔
آئی جی جیل خانہ جات نے کہا کہ جیل سے رقم کی بڑی تعداد کا جو بتایا گیا ہے وہ رقم ہر قیدی سے500 روپے بھی برآمد کیے جاتے تو یہ رقم 30لاکھ روپے بنتی ہے جو برآمد کی گئی رقم سے زیادہ بنتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جیل میں کینٹین اور ضروری اشیا کے اسٹال ہیں، ظاہر ہے کہ قیدی خریداری بھی کرتے ہیں تو ان کے پاس رقم ہونا چاہیے۔
ایک سوال پر نصرت منگن نے کہا کہ برآمد کیے جانے والے موبائل فونز کے حوالے سے یہ دیکھا جائے گا کہ کس قیدی سے برآمد ہوا ہے اس کے بعد اس کے خلاف کیاقانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔