سندھ میں ضم ہونے کا راستہ

کراچی کو ماس ٹرانزٹ کی ضرورت ہے۔ اب کراچی میں انڈرگراؤنڈ ٹرین ، ٹرام اور بڑی بسیں چلنی چاہیئیں

tauceeph@gmail.com

سندھ کی تاریخ باقی صوبوں سے مختلف ہے۔ 40ء کی دھائی میں مسلم لیگی رہنما جی ایم سید نے سندھ اسمبلی میں قرارداد منظور کرائی کہ ہندوستان کے مسلمان سندھ میں آکرآباد ہوجائیں، یوں ہندوستان کی ریاست بہار میں فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرین ہونے والے بہاری کراچی آئے۔1947ء میں پورے ہندوستان سے اردو بولنے والے سندھ آکر آباد ہوئے۔ سندھ اور باقی صوبوں میں فرق یہ تھا کہ سندھیوں نے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو خوش آمدیدکہا اور ان کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے، یوں سندھیوں اور اردو بولنے والوں میں ملنے کا عمل شرع ہوا۔ اردو بولنے والے طالب علموں نے اسکولوں اور کالجوں میں سندھی زبان پڑھنا شروع کر دی، اردو بولنے والی بیوروکریسی اور سیاست دان پنجاب کی بیوروکریسی سے اتحاد کے وقتی فائدے نظر آنے لگے۔ جنرل ایوب خان نے 1958ء میں مارشل لاء نافذکیا۔ حیدر آباد ڈویژن کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر ٹکا خان بن گئے۔

ان کے بیٹے کو اسکول میں سندھی پڑھنے پر مشکل پیش آئی تو ایک مارشل لاء حکم کے ذریعے سندھی کی تدریس ختم کردی گئی۔ اردو بولنے والوں نے اس ناانصافی کے خلاف سندھیوں کا ساتھ نہیں دیا، یوں نئی نسل کے زبان سیکھنے اور ایک دوسرے میں مدغم ہونے کے معاملات رک گئے۔ ون یونٹ نے سندھ کی نمایندگی کو محدود کردیا اور سندھ کی قدیم ثقافت کو نقصان پہنچایا۔ سندھی مڈل کلاس نے اس ناانصافی پر احتجاج کیا۔ اردو بولنے والے ترقی پسند کارکنوں اور رہنماؤں نے سندھیوں کے حقوق کی حمایت کی مگر دائیں بازو کی جماعتوں کی قیادت نے اردو بولنے والی برادری میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے اردو سندھی جھگڑے کو ہوا دی، یوں سندھ میں ایک کشیدگی کی فضاء پید ا ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے قیام میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (N.S.F) کی قیادت نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

این ایس ایف کے سابق رہنما معراج محمد خان نے پیپلز پارٹی کے سامراج مخالف رہنما اور مزدوروں، کسانوں اور غریبوں کے ہمدرد کے طور پر کردار کو خوب ابھارا تھا۔1969ء کی ایوب خان کے خلاف تحریک این ایس ایف کے کارکنوں نے شروع کی تھی۔ 1972ء تک پیپلز پارٹی کراچی کی مقبول جماعت تھی۔کمیونسٹ پارٹی چین نواز گروپ کی غیر فطری پالیسی کی بناء پر پیپلز پارٹی کے رہنما معراج محمد خان جنھیں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنا جانشین قرار دیا تھا اور ان کے ساتھیوں نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا جس کا فائدہ دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں نے اٹھایا۔ جن کی قیادت نے 1972ء میں سندھ میں لسانی فساد کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے کراچی اور حیدرآباد کے معاملات سے خود کو دورکرلیا۔ اگرچہ بھٹو صاحب کے دور میں کراچی میں بڑی سڑکیں، اسپتال اور تعلیمی ادارے تعمیر ہوئے مگر پیپلز پارٹی کی قیادت اردو بولنے والوں کے ذہنوں سے یہ تاثر دور کرنے میں ناکام رہی کہ وہ ان کی دوست نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی این اے کی تحریک کا ایک مرکز کراچی بنا تھا۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں اردو بولنے والوں نے پیپلزپارٹی اوردیگر جماعتوں کی جانب سے مزاحمتی تحریک کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پہلے بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی کے کونسلر زیادہ تعداد میں کامیاب ہوئے اور اس بات کے قوی امکانات تھے کہ پیپلزپارٹی میئرکے امیدوار عبدالخالق اﷲ والا کامیاب ہوجائیں گے مگر مارشل لاء ریگولیشن استعمال ہوا، دوکونسلر نظربند ہوئے اور پھر جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی میئر منتخب ہوگئے مگر پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف ڈیڈا ڈپٹی میئر کے انتخاب جیت گئے۔


پیپلز پارٹی کے کراچی کے کارکنوں نے تحریک بحالی جمہوریت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ کئی تو جان سے گئے اور خلیل قریشی جیسے کارکنوں نے 8 سال ملک کی مختلف جیلوں میں گزارے۔کچھ نادیدہ قوتوں کی پشت پناہی اور کچھ معروضی حالات کے نتیجے میں ایم کیو ایم قائم ہوئی تو پیپلز پارٹی کی حکومت نے اردو بولنے والی برادری سے آنکھیں پھیر لیں۔ 1988ء سے 1999ء تک پیپلز پارٹی دو دفعہ اقتدار میں آئی۔ ان ادوار میں کراچی اور حیدرآباد اس کی ترجیحات میں شامل نہیں رہے۔ ایم کیو ایم پہلے سندھیوں سے اتحاد کے نعرے پر وجود میں آئی تھی اور پھر پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں معاہدہ ہوا۔ جنرل اسلم بیگ میدان میں آگئے۔کراچی اور حیدرآباد میدانِ جنگ بنے رہے۔کسی کے ایما پر ایم کیو ایم میاں نواز شریف کی اتحادی بن گئی۔ ایم کیو ایم کی تاریخ بھی عجیب ہے۔

اس تنظیم کے عسکری ونگ نے بہت تباہی مچائی اور زیادہ نقصان اردو بولنے والوں کا ہوا۔ اگرچہ کراچی اور حیدرآباد میں ترقی ہوئی اور اردو بولنے والوں کو ملازمتیں ملیں مگر ساتھ ہی چائنا کٹنگ رائج ہوگئی۔ پہلے مقامی ایجنسیو ں کی ایماء پر ٹارگٹ کلنگ کے الزامات لگتے تھے اور پھر غیر ملکی ایجنسیوں کے نام میڈیا پر آنے لگے۔ اردو بولنے والوں کی دو نسلیں اس صورتحال میں تباہی کا شکار ہوئیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی سے اردو بولنے والے بھی متاثر ہوئے۔ جمعیت علمائے پاکستان کا شیرازہ بکھرے تو عرصہ ہوا، البتہ جماعت اسلامی اپنے مضبوط ڈھانچے کے ساتھ اب بھی موجود ہے۔ اب کراچی میں سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں کی آزادی ہے مگر آخری بلدیاتی انتخابات کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اب جماعت اسلامی اپنی جڑیں کھو چکی ہے اور مذہبی انتہاپسند تنظیمیں کراچی کی بستیوں میں اپنی جڑیں مضبوط کررہی ہیں۔

اردو بولنے والی برادری پھر ایک خطرناک صورتحال کا شکار ہونے جارہی تھی۔ تحریک انصاف 11 مئی 2013ء کو کراچی کی مقبو ل ترین جماعت بنی مگر عمران خان اس کامیابی کو محسوس نہ کرسکے۔ کراچی اور اردو بولنے والی برادری کے دکھوں کا مداوا صرف پیپلز پارٹی کرسکتی ہے ۔ سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ایم کیو ایم کے بعض اراکین نے کراچی صوبے کا نعرہ لگایا۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اپنی جوابی تقریر میں واضح کیا کہ سندھ کی تقسیم کا کوئی تصور نہیں، سندھ میں سب سندھی ہیں اور سب کو سندھ میں ضم ہونا چاہیے۔ مراد علی شاہ کی بات بالکل حقیقت پر مبنی ہے مگر پیپلز پارٹی کو اپنی پالیسی کو بھی تبدیل ہونا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ کو یورپ اور امریکا کی ترقی کے ماڈلز پر غور کرنا چاہیے۔

سندھ کو ایک خودمختار و فعال بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کے مسائل ان کے گھروں پر حل ہوپائیں۔ کراچی شہر اس وقت بجلی اورپانی کے بحران کا شکار ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ ختم ہوچکی ہے اور امن و امان کی صورتحال بہت زیادہ بہتر نہیں۔ کراچی کے نوجوانوں کو نہ تو صوبے میں ملازمت ملتی ہے اور نہ ہی وفاقی اداروں میں ان کے لیے گنجائش ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اقتدار میں آتے ہی کراچی کی سڑکوں کی مرمت کے پروجیکٹ شروع کیے جو مقررہ وقت پر مکمل ہوگئے مگر یہ پروجیکٹ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔

کراچی کو ماس ٹرانزٹ کی ضرورت ہے۔ اب کراچی میں انڈرگراؤنڈ ٹرین ، ٹرام اور بڑی بسیں چلنی چاہیئیں۔ پانی اور بجلی کی کمی دور کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ کراچی کے نوجوانوں کو صوبائی محکموں میں میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں ملنی چاہئیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کی یہ بات درست ہے کہ کراچی کا مستقبل سندھ سے وابستہ ہے۔ سندھ اور حیدرآباد کو توڑنے کا کوئی تصور نہیں کرتا مگر پیپلز پارٹی کو اپنی پالیسی میں کراچی کو قبول کرنے کا بیانیہ شامل کرنا ہوگا۔ اس بیانیے کا آغاز حیدرآباد شہر میں یونیورسٹی کے قیام کے اعلان سے کیا جاسکتا ہے مگر کراچی کی ترقی سندھ کی ترقی سے منسلک ہے اس سے کوئی معقول انسان انکار نہیں کرسکتا۔
Load Next Story