قاتلوں کے دستانے اتاریں

فخرالدین ابراہیم نے خبردار کیا ہے کہ کراچی کے حالات خراب ہیں اگر سیٹ اپ کو توسیع دی گئی تو تباہی آئیگی۔

ریاستی رٹ منوانے کے لیے قانون کے آہنی ہاتھوں کو حرکت میں آنا چاہیے تاکہ خونریزی بند ہو اورعوام کی منتظر نگاہیں قاتلوں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دیکھ سکیں۔ فوٹو: فائل

ملک کے معاشی مرکز اور سب سے بڑے شہر کراچی میں تشدد اور فائرنگ سے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات آخر کار اتنے بے قابو ہوگئے کہ ایک برطانوی اخبار 'انڈی پینڈنٹ' کے مطابق وفاقی کابینہ کراچی میں فوجی آپریشن پر غور کررہی ہے، اخبار نے اپنی رپورٹ میں کراچی کی مافیاز،گینگسٹرزاور ٹارگٹ کلرز کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں یومیہ ایک ارب روپے کا بھتہ وصول کیا جاتا ہے، شہر دولت مند ہے اور اپنے حجم،صنعتی اور تجارتی مفادات کے لحاظ سے سیاسی قوت کا مرکز بنا ہوا ہے ،اسے نقل مکانی،انفرااسٹرکچر کے فقدان، طالبان کی آمد،اور فرقہ وارانہ تنظیموں کی آویزش کا سامنا ہے۔

اس اطلاع کے پس منظر میں عندیہ یہی ملتا ہے کہ ارباب اختیار تنگ آمد بہ جنگ آمد کی حکمت عملی وضع کرنے پر مجبور ہوگئے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بلا کسی مصلحت کے کچھ عرصہ قبل ہی شروع کردیا جاتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی ۔اب ملک بھر کے تجزیہ نگار ، آئینی اداروں کے سربراہ ، قانون و انسداد جرائم کے ماہرین اور اتحادی جماعتوں کے رہنما بدامنی کے امڈتے آثار کی باتیں کررہے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکمنا مہ میں کہا ہے کہ فوج اور سول ادارے کوئی غیر قانونی کام نہ کریں، ایسا کوئی اقدام نہ کیا جائے جو الیکشن کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بنے۔

جمہوری قوتوں کو بھی بلیم گیم سے ہٹ کر امن اور مفاہمت کی ٹھوس کوششیں کرنی چاہئیں،ان عناصر کا راستہ روکنا چاہیے جو جمہوریت کا بوریا بستر گول کرنے کی تاک میں ہیں ۔ بلاشبہ ہر سطح پر معتوب رحمن ملک نے دہشت گردی کے جن اندیشوں کا اظہار کیا تھا، وہ بادی النظر میں بے بنیاد نہ تھے بلکہ ان کی پیش گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوتی نظر آرہی ہے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سیاسی و مذہبی مخالفین اور لینڈ مافیا بدامنی میںملوث ہیں۔ یہ بھی قابل غور امر ہے کہ اے این پی اور متحدہ کے مابین گزشتہ دنوں مفاہمت اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر خوش آیند اتفاق ہوا تھا مگر افسوس کراچی میں الٹا قانون شکنی اور قتل وغارت نے زور پکڑلیا، چنانچہ اب ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے کراچی کی صورتحال کو درست کرنا چیلنج سے کم نہیں، کراچی سے دہشت گردی ٹی وی ٹاک سے ختم نہیں ہوگی، اس کے لیے دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کی شناخت ان تک رسائی اور دندناتے پھرنے والے گینگ وار کارندوں کا سر کچلنا ہوگا۔


ریاستی رٹ منوانے کے لیے قانون کے آہنی ہاتھوں کو حرکت میں آنا چاہیے تاکہ خونریزی بند ہو اورعوام کی منتظر نگاہیں قاتلوں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دیکھ سکیں۔ دوسرا اہم نکتہ بدامنی کی نوعیت کا ہے جسے بعض فرقہ واریت کی جنگ اور کچھ لوگ اسے لسانی، سیاسی اور گینگ وار کارندوں، لینڈ اور ڈرگ مافیا کی داخلی کشمکش اور مجرمانہ مفادات کا کھلواڑ کہتے ہیں جس کا مقصد کراچی کو سول وار کی آگ میں جھونکنا ہے۔ تاہم اس سارے منظر نامے میں پولیس اور رینجرز کی پر اسرار اور معنی خیز ناکامی یا بے بسی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔کیا یہ درست نہیں کہ پی پی ،اے این پی اور متحدہ فرقہ وارانہ جماعتیںنہیں،وہ ترقی پسند، لبرل،اور روشن خیال سیاسی و جمہوری قوت ہونے کی دعویدار ہیں، طالبان فیکٹر کا تو ابھی پچھلے دو تین برسوں میں کراچی میں موجودگی کا شور اٹھا ہے،جب کہ بدامنی اور قتل وغارت کا قصہ بہت پرانا ہے۔مذکورہ تینوں اتحادی سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں، وہ فرقہ واریت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکتے ہیں ۔

وہ سول سوسائٹی کو ساتھ لے کر باہر نکلیں تو کسی دلاور کی مجال نہیں کہ اہل کراچی کو خون میں نہلا سکے۔ یہ سچ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسروں اور اہلکاروں نے جانیں دیں ،ان پر سب کو فخر ہے مگر جو ہزاروں شہری گزشتہ ایک عشرے سے دہشت گردوں ، بم دھماکوں ،خود کش حملوں میں ملوث القاعدہ اور طالبان نامی مختلف تنظیموں، اور گینگ وار قاتلوں کے ہاتھوں یا ڈرون حملوں میں جاں بحق ہورہے ہیں، ان کا خون یوں آسانی سے کس طرح رزق خاک سمجھا جائے؟ ستم ظریفی یہ ہے کہ جو وفاقی و صوبائی وزرا ، دانشور اور حکومت کے اتحادی رہنما دہشت گردوں کی عدالتوں سے رہائی کاصرف رونا روتے ہیں، وہ خود کو قتل و غارت سے الگ رکھتے ہوئے، حکومت سے امن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں ۔کتنی عجیب بات ہے کہ صرف طالبان طالبان کا شور مچایا جاتا ہے، عمل غائب ہے۔ جہاں تک کراچی کی بدامنی کی طویل تاریخ کا تعلق ہے اسے حل کرنے کے لیے سب کو قاتلوںکے ہاتھوںسے دستانے اور سروں پر ڈالی گئی چادریںاتارنی ہوں گی ۔

ادھر چیف الیکشن کمشنر کو دھمکیاں مل رہی ہیں، فخرالدین ابراہیم نے خبردار کیا ہے کہ کراچی کے حالات خراب ہیں اگر سیٹ اپ کو توسیع دی گئی تو تباہی آئیگی۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمن نے کراچی میں جمعہ کودہشت گردی کے پیش نظر دوپہر12بجے سے 3بجے تک موبائل فون سروس بند رکھی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سیاسی ومذہبی مخالفین اورلینڈ مافیا کے گروہوں کوبدامنی میں ملوث قرار دیتے ہیں ۔ شہر کے مختلف علاقوں میں جمعرات کو تین معروف علماء کرام سمیت 16 زندگیوں کے چراغ جس طرح دن دہاڑے گل کر دیے گئے، وہ کھلی بربریت اور بزدلانہ فعل ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں بد امنی کا مسئلہ ایک گمبھیرتا اور پیر تسمہ پا کی طرح جمہوریت کی گردن پر سوار ہے ۔ سپریم کورٹ بدامنی کیس کے فیصلے پر عملدرآمد پر زور دے رہی ہے ۔ فیصلہ میں سیاسی جماعتوںکے عسکری ونگز کے خاتمہ کی ہدایت واضح طور پر دی گئی، مگر اس سمت میں ٹھوس کارروائی اور نتیجہ خیز ٹارگیٹڈ آپریشن سے بوجوہ گریزکی حکمت عملی صورتحال کی مزید خرابی کا باعث بن سکتی ہے ،اور ایسا نہ ہو کہ دہشت گرد اس سے فائدہ اٹھائیں۔
Load Next Story