امریکی وزیر دفاع کا پاکستان کے حوالے سے سخت موقف
پریسلرز ترمیم اور کیری لوگر بل امریکی طرز عمل کی نمایاں مثالیں ہیں۔
پاکستان کے لیے شرائط طے کرتے ہوئے یہ امر یقینی بنایا جائے کہ یہ پیشرفت امریکا کے تزویراتی (اسٹرٹیجک) مفادات کے حق میں ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
امریکا کے نامزد وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد غیر مشروط نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ امداد کڑی شرائط کے ساتھ دی جانی چاہیے، جن کے پورا نہ ہونے پر امداد روک لی جائے۔ نامزد امریکی وزیردفاع نے تو یہ بات اس انداز سے کہی ہے جیسے قبل ازیں پاکستان کو ملنے والی امداد غیر مشروط ہوتی ہے حالانکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان کو روز اول سے ہی جو بھی امداد ملی ہے، وہ کڑی شرائط کے ساتھ ہی ملتی رہی ہے، اور جہاں بھی امریکا نے محسوس کیا کہ کوئی ایک شرط یا مجموعہ شرائط کی کسی ایک شق میں بھی پاکستان کی طرف سے کوئی کمی رہ گئی ہے تو جھٹ سے وہ امداد روک لی جاتی ہے۔
پریسلرز ترمیم اور کیری لوگر بل امریکی طرز عمل کی نمایاں مثالیں ہیں۔ نامزد امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی میں جمع کرائے گئے 112 صفحات پر مشتمل سوالنامے کے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان کے لیے شرائط طے کرتے ہوئے یہ امر یقینی بنایا جائے کہ یہ پیشرفت امریکا کے تزویراتی (اسٹرٹیجک) مفادات کے حق میں ہے۔ پاکستان کے لیے ہماری سیکیورٹی اور دوسری معاونت امریکا کے بہترین مفاد میں اور نہایت موثر ہو۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا القاعدہ کو نہ صرف شکست دینے بلکہ اس کے مکمل خاتمے کے علاوہ طویل مدتی علاقائی استحکام، بشمول افغانستان میں پائیدار امن کے قیام اور بحر ہند کی سیکیورٹی کے حوالے سے تقریباً یکساں مفادات رکھتے ہیں۔
لیکن پاکستان میں دہشتگردوں کے نیٹ ورک ،ملکی استحکام اور افغانستان کی بحالی اور تعمیر نو کے علاوہ علاقائی امن اور سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ دہشتگردی کے کیمپوں کی پاکستان واشگاف انداز میں تردید کر چکا ہے لیکن بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے بھارت کے اندر آر ایس ایس اور بی جے پی کے کیمپوں کا اعتراف کیا ہے جہاں ہندو انتہا پسندوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے لیکن نامزد امریکی وزیر دفاع سے پاکستان میں دہشتگردی کے کیمپوں کا ذکر سن کر ایسا محسوس ہوا ہے جیسے موصوف بھارت کی زبان بول رہے ہیں ۔
پریسلرز ترمیم اور کیری لوگر بل امریکی طرز عمل کی نمایاں مثالیں ہیں۔ نامزد امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی میں جمع کرائے گئے 112 صفحات پر مشتمل سوالنامے کے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان کے لیے شرائط طے کرتے ہوئے یہ امر یقینی بنایا جائے کہ یہ پیشرفت امریکا کے تزویراتی (اسٹرٹیجک) مفادات کے حق میں ہے۔ پاکستان کے لیے ہماری سیکیورٹی اور دوسری معاونت امریکا کے بہترین مفاد میں اور نہایت موثر ہو۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا القاعدہ کو نہ صرف شکست دینے بلکہ اس کے مکمل خاتمے کے علاوہ طویل مدتی علاقائی استحکام، بشمول افغانستان میں پائیدار امن کے قیام اور بحر ہند کی سیکیورٹی کے حوالے سے تقریباً یکساں مفادات رکھتے ہیں۔
لیکن پاکستان میں دہشتگردوں کے نیٹ ورک ،ملکی استحکام اور افغانستان کی بحالی اور تعمیر نو کے علاوہ علاقائی امن اور سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ دہشتگردی کے کیمپوں کی پاکستان واشگاف انداز میں تردید کر چکا ہے لیکن بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے بھارت کے اندر آر ایس ایس اور بی جے پی کے کیمپوں کا اعتراف کیا ہے جہاں ہندو انتہا پسندوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے لیکن نامزد امریکی وزیر دفاع سے پاکستان میں دہشتگردی کے کیمپوں کا ذکر سن کر ایسا محسوس ہوا ہے جیسے موصوف بھارت کی زبان بول رہے ہیں ۔