پاکستان کے گرد حصار آخر کیوں

ٹرمپ حکومت پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی سخت کرنے کا جائزہ لے رہی ہے

ٹرمپ حکومت پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی سخت کرنے کا جائزہ لے رہی ہے ۔ فوٹو: فائل

امریکی حکومت افغانستان میں حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان میں ڈرون حملے تیز کرنے اور امداد روکنے پر غور کررہی ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں امریکی حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان میں طالبان اپنی محفوظ پناہ گاہوں سے افغانستان پر حملے کرتے ہیں اور دوبارہ منظم ہوتے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ حکومت پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی سخت کرنے کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ پاکستان میں موجود مبینہ افغان عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا سکے۔

حیرت ہے کہ اسی اثنا میں امریکا میں افغانستان کے سفیر حمداﷲ محب نے پاک افغان تعلقات کے حوالہ سے واشنگٹن میں ایک فورم پر پاک افغان صورتحال کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے میں مبالغہ آمیزی کی حد کردی جب کہ پاکستان کے سفیر برائے امریکا اعزاز چوہدری کے مفاہمانہ جذبات کو تحقیر آمیز لہجے میں مسترد کیا،انھوں نے یہ پیشگوئی بھی کی کہ ماضی کے مقابلے میں ''اس بار'' امریکا کی پاکستان سے متعلق پالیسی کافی سخت ہوگی۔


ادھر پاکستانی حکومت کے ایک اعلیٰ افسرنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان پہلے ہی اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کر رہا ہے اور ہم اس سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال میں سارا الزام پاکستان کو دینا زمینی حقائق کی نفی ہے، منگل کو واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے پریس منسٹر عابد سعید نے پاکستان کے متعلق ممکنہ امریکی اقدامات کی خبروں پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا افغانستان کی صورتحال کا ساراملبہ پاکستان پر ڈالنا درست نہیں جب کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر نیویارک میں عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل انٹونیوگوتریز کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دیرپا امن کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، افغان حکام اور امریکی انتظامیہ کو کم از کم زمینی حقائق اور پاکستان کی مثبت کوششوں سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے، تاہم بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ سشما سوراج نیا موقف لے کر حاضر ہوئی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیر عالمی مسئلہ ہے ہی نہیں بلکہ بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے جس میں کسی طور پر تیسرے فریق کی ثالثی قابل قبول نہیں ہو سکتی۔امریکا کو دیکھنا چاہیے کہ بھارتی حکمرانوں کے ''ڈبل گیم'' کی شرم ناکی اس عالمی رپورٹ سے بھی آشکار ہوئی ہے جس کے تحت بھارت شدت پسند تنظیم داعش کو بارودی مواد فراہم کرنیوالا دوسرا بڑا ملک نکلا، یعنی پاکستان کے خلاف الزامات کے جنون میں مبتلا بھارت خطے کے امن اور انسانی اقدار کی تباہی پر کمربستہ داعش کو مہلک اسلحہ فروخت کرتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق لندن میں کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ نامی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ شام اور عراق میں داعش جو بم اور دھماکا خیز مواد استعمال کر رہی ہے اس کی تاریں، سیفٹی فیوز، ڈیٹونیٹرز اور دیگر سامان بھارتی کمپنیوں کے تیارکردہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے کی صورتحال کا سیناریو امریکی ممکنہ اقدامات کے تناظر میں انتہائی گمبھیر شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، مبصرین کے مطابق پاکستان کو چار طرف سے محاصرے میں لینے کی تیاریاں عروج پر ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ فرصت ملتے ہی ادھر کا رخ کریگی ، پھر شاید حالات کسی کے بس میں نہ ہوں۔ حالانکہ اس محاصرے کا کوئی جواز نہیں؟ ایک بااعتماد حلیف پر مسلسل دباؤ چہ معنی دارد! چنانچہ اغلب امکان ہے کہ پیش بندی اور جنم لینے والے اندیشوں کے پیش نظر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایات پر پاک افغان سرحد پر حفاظتی باڑلگانے کا عمل شروع ہوگیا ہے، پہلے مرحلے میں باجوڑ، مہمند اور خیبر ایجنسیوں میں باڑ لگائی جارہی ہے، ایسے مقامات پر پہلے باڑ لگائی جارہی ہے جہاں پر دراندازی کے زیادہ واقعات ہورہے ہیں، دوسرے مرحلے میں بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں جہاں پاک افغان سرحدی علاقہ ہے، وہاں حفاظتی باڑ لگائی جائے گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج اور ایف سی پاک افغان سرحد پر پوسٹیں اور قلعے تعمیر کر رہی ہے جس کا مقصد سرحدی نگرانی کو مزید بہتر بنانا ہے کیونکہ محفوظ سرحد دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے، امن و استحکام کے لیے بارڈر کوآرڈی نیشن میکنزم ضروری ہے۔ بہرکیف یہ حیران کن و خوش آیند اطلاع ہے کہ افغانستان کی جانب سے پاکستانی حکام کے لیے افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا ، فلیگ میٹنگ بھی ہوئی، اس موقع پر بریگیڈیئر ندیم سہیل کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کا دشمن ایک ہے جس سے ملکر مقابلہ کرنا ہوگا، جب کہ سرحدی تنازعات بھی مذاکرات سے حل کیے جائینگے۔ اس موقع پر افغان قومی مشیر حاجی فدا خان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا دوست ملک ہے، سرحد کے دونوں جانب ایک ہی قبائل آباد ہیں، ہمیں بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا۔ لیکن حاجی صاحب ! تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، خیرسگالی کا یہی پیغام صدر ڈونلڈ ٹرمپ اورصدر اشرف غنی تک بھی پہنچ جائے تو برا کیا ہے۔
Load Next Story