سیلاب بارشیں حادثات کچھ علاج اس کا بھی

طوفانی بارشوں کے بعد بہت سے مسائل بھی جنم لیتے ہیں

طوفانی بارشوں کے بعد بہت سے مسائل بھی جنم لیتے ہیں . فوٹو : فائل

پاکستان میں ہر سال مون سون کے موسم میں جہاں بارشیں تسلسل سے ہوتی ہیں، بارشوں سے گرمی کی شدت میں کمی واقعہ ہونے سے موسم خوشگوار اور سہانا ہوجاتاہے اور یہ پانی کے زیر زمین ذخائر اور فصلوں کے لیے بہتری کا سبب بنتی ہیں، وہیں طوفانی بارشوں کے بعد بہت سے مسائل بھی جنم لیتے ہیں، پرانے اور بوسیدہ گھروںکی چھتیں،دیواریں،کھلے تاروں سے کرنٹ لگنے سے اموات واقع ہوتی ہیں اور سیلابی ریلوں سے دیہات کی آبادیوں کو نقصان پہنچتا ہے ۔گزشتہ روز پنجاب میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں مختلف حادثات میں 7افراد جاں بحق جب کہ متعدد زخمی ہوئے' بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا۔شدید بارشوں کی زد میں جو علاقے آئے ان میں لاہور،گوجرانوالہ، فیصل آباد، شورکوٹ، سیالکوٹ، مری ،ملتان، ڈیرہ غازی خان، جام پور سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف علاقے شامل ہیں ، جب کہ سندھ میں جام شورو میں تیز ہواؤں سے مین ٹاورگر پڑے۔ سندھ میں بھی مون سون کا آغاز ہونے والاہے۔منظر نامہ یوں بنتا ہے کہ چند بوندیں پڑتے ہی سب سے پہلے تو فیڈرز ٹرپ کر جاتے ہیں اور پورے پورے علاقوں میں بجلی غائب ہو جاتی جوکہ کئی گھنٹوں اور بعض جگہوں پر کئی دن کے بعد بحال ہوتی ہے۔


اپ گریڈیشن کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوجاتاہے جس کی نکاسی نہیں ہوپاتی،اچانک سیلابی ریلے دیہات کو تباہ وبرباد کردیتے ہیں ۔ملتان میںمیٹرو بس سروس کے تمام روٹ پر فلائی اوور سے بارش کا پانی گرتا رہا۔ مدرسے اور گھروں کی چھتیں گرنے سے متعدد بچے اور بڑے زخمی اورجاں بحق ہوئے۔ آسمانی بجلی کی زد میں آکر دو خواتین،کرنٹ لگنے سے جان سے گئے۔

یہ ساری باتیں اس بات کی غماز ہیں کہ حکومتی سطح پر لاپروائی اورغفلت کا مظاہرہ اورعوام سے بے اعتنائی کا عنصر نمایاں ہے۔ عوام میں شعور وآگہی نہ ہونے کے سبب جان لیوا حادثات رونما ہوتے ہیں ۔ بوسیدہ مکانوں میں رہائش، چھتوں اور دیواروں کی مرمت نہ کروانا ، بجلی کے ننگے تار سے نہ بچانا، یا بارش کے وقت کھلے آسمان کے نیچے کھڑے ہونا، عوام کی کوتاہی میں شمار کیا جائے گا۔ مون سون سیزن سے پہلے احتیاطی تدابیراختیارکرنے کا نہ توحکومتی سطح پر کوئی رجحان ہے اور نہ عوام میں شعور وآگہی۔اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک مربوط پلان بنائے اورمیڈیا کے ذریعے عوام میں شعور بیدارکرے تاکہ نقصانات کم سے کم ہوں۔
Load Next Story