آڈیٹر جنرل کو قابل ٹیکس افراد کا ڈیٹا فراہم نہ کیے جانے کا انکشاف
تمام آر ٹی اوز اور ایل ٹی یوز کو بی ٹی بی کیسزمیں ڈیٹا 3جولائی تک فراہم کرکے رپورٹ کرنے کی ہدایت
تمام آر ٹی اوز اور ایل ٹی یوز کو بی ٹی بی کیسزمیں ڈیٹا 3جولائی تک فراہم کرکے رپورٹ کرنے کی ہدایت۔ فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریویو(ایف بی آر) کے ماتحت اداروں کی جانب سے آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی آڈٹ اتھارٹیز کو قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس نہ دینے والے امیر ترین لوگوں کا ڈیٹا نہ دینے کا انکشاف ہوا ہے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ انکشاف ڈپٹی آڈیٹر جنرل اسلام آباد خُرم ہمایوں کی جانب سے ایف بی آر کو بھجوائی جانے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے جس پر ایکشن لیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے چیف اکاؤنٹنگ ڈائریکٹ ٹیکسز محمد امتیاز نے ملک بھر میں قائم اٹھارہ کے لگ بھگ ریجنل ٹیکس آفسز(آر ٹی اوز) کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفسز(سی آر ٹی اوز) اور لارج ٹیکس پیئر یونٹس (ایل ٹی یوز)کے چیف کمشنرز کو مراسلے ارسال کردیے ہیں جس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے حکام کی جانب سے ملنے والی رپورٹس و لیٹرز کاحوالہ دیا گیا ہے جس میں آڈٹ اتھارٹیز کی جانب سے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایف بی آر کے ماتحت اداروں کی جانب سے براڈننگ آف ٹیکس بیسڈ (بی ٹی بی)کے کیسوں میں آڈٹ اتھارٹیز کو ڈیٹا فراہم نہیں کیا جارہا ہے اور ریمائنڈرز بھجوانے پر بھی جزوی ڈیٹا فراہم کیا جارہا ہے جس سے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس نیٹ سے باہر امیر ترین لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں ہورہی ہے۔
دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیوہیڈ کوارٹرز کی جانب سے ملک بھر میں قائم اٹھارہ کے لگ بھگ ریجنل ٹیکس آفسز(آر ٹی اوز) کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفسز(سی آر ٹی اوز)اور لارج ٹیکس پیئر یونٹس(ایل ٹی یوز) کے چیف کمشنرز کو لکھے جانے والے خطوط میں ہدایت کی گئی ہے کہ براڈننگ آف ٹیکس بیسڈ کے کیسوں میں آڈٹ اتھارٹی کو مکمل ڈیٹا فراہم کیا جائے اور اس بارے میں تین جولائی 2017تک ایف بی آرہیڈ کوارٹرز کو فائینل کمپلائنس رپورٹ بھجوائی جائے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ انکشاف ڈپٹی آڈیٹر جنرل اسلام آباد خُرم ہمایوں کی جانب سے ایف بی آر کو بھجوائی جانے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے جس پر ایکشن لیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے چیف اکاؤنٹنگ ڈائریکٹ ٹیکسز محمد امتیاز نے ملک بھر میں قائم اٹھارہ کے لگ بھگ ریجنل ٹیکس آفسز(آر ٹی اوز) کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفسز(سی آر ٹی اوز) اور لارج ٹیکس پیئر یونٹس (ایل ٹی یوز)کے چیف کمشنرز کو مراسلے ارسال کردیے ہیں جس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے حکام کی جانب سے ملنے والی رپورٹس و لیٹرز کاحوالہ دیا گیا ہے جس میں آڈٹ اتھارٹیز کی جانب سے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایف بی آر کے ماتحت اداروں کی جانب سے براڈننگ آف ٹیکس بیسڈ (بی ٹی بی)کے کیسوں میں آڈٹ اتھارٹیز کو ڈیٹا فراہم نہیں کیا جارہا ہے اور ریمائنڈرز بھجوانے پر بھی جزوی ڈیٹا فراہم کیا جارہا ہے جس سے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس نیٹ سے باہر امیر ترین لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں ہورہی ہے۔
دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیوہیڈ کوارٹرز کی جانب سے ملک بھر میں قائم اٹھارہ کے لگ بھگ ریجنل ٹیکس آفسز(آر ٹی اوز) کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفسز(سی آر ٹی اوز)اور لارج ٹیکس پیئر یونٹس(ایل ٹی یوز) کے چیف کمشنرز کو لکھے جانے والے خطوط میں ہدایت کی گئی ہے کہ براڈننگ آف ٹیکس بیسڈ کے کیسوں میں آڈٹ اتھارٹی کو مکمل ڈیٹا فراہم کیا جائے اور اس بارے میں تین جولائی 2017تک ایف بی آرہیڈ کوارٹرز کو فائینل کمپلائنس رپورٹ بھجوائی جائے۔