معطل خالد لطیف نے وزیر اعظم سے فریاد کردی
کارروائی کا شفاف طریقہ اختیارنہیں ہوا،پیشی کیلیے وقت نہیں دیا جا رہا، کرکٹر
29 جون کو پیش نہ ہوئے تو پینل یکطرفہ طور پر فیصلہ سنا دے گا،وکیل پی سی بی۔ فوٹو: فائل
پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث خالد لطیف نے وزیر اعظم سے فریاد کردی۔
لاہور ہائیکورٹ میں ٹریبیونل کی کارروائی رکوانے کی ناکام کوشش کرنے والے خالد لطیف نے وزیر اعظم کو بھی خط لکھ دیا،پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس کے ملزم معطل کرکٹر نے درخواست میں کہا کہ کارروائی کیلیے شفاف طریقہ اختیار نہیں کیا گیا،وہ بھاگ نہیں رہے لیکن انھیں پیشی کیلیے وقت نہیں دیا جا رہا۔
دوسری جانب پی سی بی ڈسپلنری پینل نے خالد لطیف کی جانب سے ٹریبیونل کے سربراہ پر عدم اعتماد پر درخواست کی سماعت کرلی، مگر کرکٹر یا ان کے وکیل سامنے پیش نہیں ہوئے، انھوں نے کارروائی کی اطلاع تاخیر سے ملنے کا عذر پیش کیا ہے۔
ادھر بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 2روز قبل مطلع کیا گیا تھا، اطلاع دیر سے ملنے کا جواز درست نہیں،اس لیے کارروائی جاری رکھی گئی۔ چیئرمین پی سی بی کی جانب سے مقرر کردہ ڈسپلنری پینل کے سربراہ جسٹس (ر) فضل میراں چوہان سے گزارش کی گئی ہے کہ کرکٹر تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں، اس لیے ہمارے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنا دیا جائے، مگر انھوں نے کہا ہے کہ خالد لطیف کو ایک اور موقع دیا جائے گا۔
تفضل رضوی نے کہا کہ 29 جون کو کرکٹر کی درخواست پر مزید کارروائی ہو گی اور اگر وہ پیش نہ ہوئے تو پینل ہمارے دلائل سننے کے بعد یکطرفہ طور پر فیصلہ سنا دے گا،خالد لطیف وزیر اعظم سمیت کسی کو بھی درخواست دے سکتے ہیں تاہم ٹریبیونل ضابطے کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کا مجاز ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں ٹریبیونل کی کارروائی رکوانے کی ناکام کوشش کرنے والے خالد لطیف نے وزیر اعظم کو بھی خط لکھ دیا،پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس کے ملزم معطل کرکٹر نے درخواست میں کہا کہ کارروائی کیلیے شفاف طریقہ اختیار نہیں کیا گیا،وہ بھاگ نہیں رہے لیکن انھیں پیشی کیلیے وقت نہیں دیا جا رہا۔
دوسری جانب پی سی بی ڈسپلنری پینل نے خالد لطیف کی جانب سے ٹریبیونل کے سربراہ پر عدم اعتماد پر درخواست کی سماعت کرلی، مگر کرکٹر یا ان کے وکیل سامنے پیش نہیں ہوئے، انھوں نے کارروائی کی اطلاع تاخیر سے ملنے کا عذر پیش کیا ہے۔
ادھر بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 2روز قبل مطلع کیا گیا تھا، اطلاع دیر سے ملنے کا جواز درست نہیں،اس لیے کارروائی جاری رکھی گئی۔ چیئرمین پی سی بی کی جانب سے مقرر کردہ ڈسپلنری پینل کے سربراہ جسٹس (ر) فضل میراں چوہان سے گزارش کی گئی ہے کہ کرکٹر تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں، اس لیے ہمارے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنا دیا جائے، مگر انھوں نے کہا ہے کہ خالد لطیف کو ایک اور موقع دیا جائے گا۔
تفضل رضوی نے کہا کہ 29 جون کو کرکٹر کی درخواست پر مزید کارروائی ہو گی اور اگر وہ پیش نہ ہوئے تو پینل ہمارے دلائل سننے کے بعد یکطرفہ طور پر فیصلہ سنا دے گا،خالد لطیف وزیر اعظم سمیت کسی کو بھی درخواست دے سکتے ہیں تاہم ٹریبیونل ضابطے کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کا مجاز ہے۔