مساج سینٹرکے نام پرجسم فروشی 3غیرملکی خواتین گرفتار
’’بات سے بات‘‘ کی ٹیم اورپولیس کے چھاپے پر شراب، انجکشن اورجنسی ادویات برآمد
’’بات سے بات‘‘ کی ٹیم اورپولیس کے چھاپے پر شراب، انجکشن اورجنسی ادویات برآمد فوٹو: فائل
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''بات سے بات'' کی ٹیم نے لاہور کے علاقے پنجاب سوسائٹی میں مساج سینٹر کے نام پر ہونے والی مبینہ جسم فروشی کے دھندے میں ملوث3 غیرملکی خواتین کو گرفتارایک 14 سالہ پاکستانی لڑکی اس کے گھرپہنچادیا۔
'' بات سے بات'' کی ٹیم پروگرام کی میزبان ڈاکٹرماریہ ذوالفقار کی قیادت میں پولیس کے ساتھ مساج سنٹر میں پہنچی تووہاں موجود غیر ملکی خاتون نے دعویٰ کیا میں ایک ڈاکٹر ہوں اور خواتین کی ٹریٹمنٹ کرتی ہوں، لیکن جب وہ ڈاکٹر ہونے کا لائسنس نہ دکھا سکی تو اس نے بیان بدل لیااورکہا کہ مجھے حکومت پاکستان نے مساج سنٹر چلانے کی اجازت دے رکھی ہے۔
اس بات کا بھی وہ کوئی ایسا ثبوت فراہم نہ کر سکی۔خاتون نے بتایا کہ مساج سینٹر کی جگہ کا مالک سہیل خان ہے جو امریکا میں مقیم ہے۔ غیر ملکی خاتون کا کہنا تھا کہ اسکے پاس خواتین کی ٹریٹمنٹ کی ادویات ہیں، جو وہ مریض خواتین کو دیتی ہے۔تلاشی کے دوران غیر رجسٹرڈ کمپنی کی بنائی جنسی تعلقات میں استعمال ہونے والی ادویات کے علاوہ شراب کی بوتلیں، انجکشن اور حمل ٹیسٹ کرنے کی ادویات برآمد ہوئیں۔
خاتون نے ساتھی غیر ملکی خواتین کے حوالے سے کہا کہ میرا آپریشن ہوا تھا اور یہ میری تیمارداری کیلیے چین سے آئی ہیں۔مساج سینٹر میں موجود پاکستانی لڑکی نے بتایا کہ یہاں پر 2 چینی اور ایک روسی لڑکی ہے، جو مساج کے ساتھ ساتھ جسم فروشی کا کام بھی کرتی ہیں۔ میں دو دن سے یہاں آرہی ہوں اور مجھے ہرروز ایک ہزارروپے ملتے ہیں۔ مجھے میرے والد نے والدہ سے لڑ کر اس جگہ پر چھوڑا ہوا ہے ۔
لڑکی کی والدہ کا کہنا تھا کہ اس کا باپ کوئی کام نہیں کرتا ،بیٹی کو 50 ہزار میں فروخت کردیا تھا اور اب مساج سینٹر چھوڑ آیا ہے۔ لڑکی کے والد نے فون پر بتایا کہ مجھے نہیں پتہ کہ مساج سینٹر میں کیا ہوتا ہے، میں نے تو بیٹی کو صفائی ستھرائی کیلے بھیجا تھا ۔ ایکسپریس کی ٹیم کے ساتھ گفتگو کے دوران بلال یاسین نامی ڈرگ انسپکٹر نے مساج سینٹر کی مالک چینی خاتون کی وکالت کرنے کی کوشش کی، لیکن سوالات کا جواب نہ دینے پر فرار ہوگیا۔
'' بات سے بات'' کی ٹیم پروگرام کی میزبان ڈاکٹرماریہ ذوالفقار کی قیادت میں پولیس کے ساتھ مساج سنٹر میں پہنچی تووہاں موجود غیر ملکی خاتون نے دعویٰ کیا میں ایک ڈاکٹر ہوں اور خواتین کی ٹریٹمنٹ کرتی ہوں، لیکن جب وہ ڈاکٹر ہونے کا لائسنس نہ دکھا سکی تو اس نے بیان بدل لیااورکہا کہ مجھے حکومت پاکستان نے مساج سنٹر چلانے کی اجازت دے رکھی ہے۔
اس بات کا بھی وہ کوئی ایسا ثبوت فراہم نہ کر سکی۔خاتون نے بتایا کہ مساج سینٹر کی جگہ کا مالک سہیل خان ہے جو امریکا میں مقیم ہے۔ غیر ملکی خاتون کا کہنا تھا کہ اسکے پاس خواتین کی ٹریٹمنٹ کی ادویات ہیں، جو وہ مریض خواتین کو دیتی ہے۔تلاشی کے دوران غیر رجسٹرڈ کمپنی کی بنائی جنسی تعلقات میں استعمال ہونے والی ادویات کے علاوہ شراب کی بوتلیں، انجکشن اور حمل ٹیسٹ کرنے کی ادویات برآمد ہوئیں۔
خاتون نے ساتھی غیر ملکی خواتین کے حوالے سے کہا کہ میرا آپریشن ہوا تھا اور یہ میری تیمارداری کیلیے چین سے آئی ہیں۔مساج سینٹر میں موجود پاکستانی لڑکی نے بتایا کہ یہاں پر 2 چینی اور ایک روسی لڑکی ہے، جو مساج کے ساتھ ساتھ جسم فروشی کا کام بھی کرتی ہیں۔ میں دو دن سے یہاں آرہی ہوں اور مجھے ہرروز ایک ہزارروپے ملتے ہیں۔ مجھے میرے والد نے والدہ سے لڑ کر اس جگہ پر چھوڑا ہوا ہے ۔
لڑکی کی والدہ کا کہنا تھا کہ اس کا باپ کوئی کام نہیں کرتا ،بیٹی کو 50 ہزار میں فروخت کردیا تھا اور اب مساج سینٹر چھوڑ آیا ہے۔ لڑکی کے والد نے فون پر بتایا کہ مجھے نہیں پتہ کہ مساج سینٹر میں کیا ہوتا ہے، میں نے تو بیٹی کو صفائی ستھرائی کیلے بھیجا تھا ۔ ایکسپریس کی ٹیم کے ساتھ گفتگو کے دوران بلال یاسین نامی ڈرگ انسپکٹر نے مساج سینٹر کی مالک چینی خاتون کی وکالت کرنے کی کوشش کی، لیکن سوالات کا جواب نہ دینے پر فرار ہوگیا۔