وٹو صاحب سے ملاقات اور کھلونے سے محروم بچی کا ذکر
تخت لاہور خشک راوی سے آگے کم ہی دیکھتا ہے۔ اس کی نظریں کمزور ہیں۔
Abdulqhasan@hotmail.com
کرم فرما منیر احمد خان کی مہربانی سے برسوں بعد میاں منظور احمد وٹو سے دوپہر کے کھانے پر ملاقات ہوئی۔ ان کے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے بعد ان سے ملاقات شاید نہیں ہوئی یا کم ہوئی لیکن ان کی وضع داری' مروت اور مزاج کی شائستگی ہمیشہ میرے ذہن میں رہی۔ ہم لوگ جو دیہاتی ہیں' دیہات سے تعلق کو توڑتے نہیں' مجبوراً بہت سفارشی ہوتے ہیں۔ ہمیں کوئی نہ کوئی کام پڑا ہی رہتا ہے۔ اگرچہ میں افسر شاہی سے اس قدر مایوس ہو چکا ہوں کہ میں ہر نقصان برداشت کر لیتا ہوں مگر سرکار دربار سے رابطہ نہیں کرتا لیکن رشتہ داری اور تعلق کی وجہ سے کام تو پڑتا ہی رہتا ہے۔
میاں صاحب جب وزیراعلیٰ تھے تو کام پڑ جاتے تھے لیکن تب تک مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ ''وٹو'' بھی ہیں۔ انھوں نے وزارت اعلیٰ اپنی سیاسی ذہانت کی طاقت سے قائم کر رکھی تھی ورنہ ان کے ساتھ ارکان اسمبلی کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی لیکن ایک بار ان کی وزارت کچھ خطرے میں پڑ گئی مگر وہ بچ نکلے تو انھوں نے یہ تاریخی فقرہ کہا کہ ''وٹوؤں کے گھر تو کسی کا کٹا بھی آ جائے تو وہ اسے بھی واپس نہیں کرتے' گھر آئی وزارت اعلیٰ کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔'' رک رک کر دھیمے سروں میں بولنے والے میاں منظور وٹو ان دنوں پیپلزپارٹی کے وزیر ہیں اور پارٹی عہدیدار بھی۔
سیاست سے باہر تو کبھی نہیں نکلے کہ پھر کہاں جائیں' یہی ان کا گھر ہے اس لیے وہ اب اپنے حلقے کی سیاست کے ساتھ ساتھ بذریعہ میڈیا سیاست کے قومی میدان میں بھی ہیں۔ مجھے ان کے اس سطح پر سرگرم ہونے سے خوشی ہوئی کہ اب کوئی سلام دعا والا بھی پیپلز پارٹی کے ہجوم میں دکھائی دے گا ورنہ سب جیالے ہی ہیں جو اپنے لیے جیتے ہیں یا اس کے نام پر جس کی نرینہ اولاد میں سے اب کوئی بھی پیپلزپارٹی میں موجود نہیں ہے۔
کسی پنجاب حکومت کا تخت بلاشبہ لاہور میں بچھا ہے لیکن پنجاب لاہور سے باہر بھی ہے اور اقتدار کی طاقت کو اس تخت کی صورت میں لاہور میں قید کر لینے کا ایک نتیجہ جنوبی پنجاب کا صوبہ نکلا ہے۔ اب وہ زمانے گئے جب سکھوں کے دور میں لاہور شہر کو تخت پنجاب کہا گیا تھا۔ اب یہ تخت پورے پنجاب میں بچھے گا تو تخت کہلائے گا۔ ملتان اور بہاولپور والے جو اپنے اپنے ہاں کبھی یہ تخت بچھا چکے ہیں، اب اس سے مستقل محرومی کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ آج کے زمانے میں اقتدار کو محدود نہیں کیا جا سکتا' اسے پھیلانا اور تقسیم کرنا پڑتا ہے۔
جمہوریت نام ہی اقتدار میں سب کی شراکت کا ہے ورنہ وہ آمریت بن جاتی ہے اور سول آمریت پریشان کن ہوتی ہے جس کی پسند ناپسند بہت سخت ہوتی ہے۔ جنوبی پنجاب کے ایک کامیاب سیاست دان نے لاہور میں ایک جگہ فوارے دیکھ کر مجھ سے کہا کہ ہم آرائشی فوارے تو نہیں مانگتے مگر پینے کے پانی کا نلکا ضرور مانگتے ہیں اور میرے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وقت کس بے رحمی کے ساتھ کروٹیں بدلتا ہے۔ آج ان دنوں میرے گاؤں میں بھی پینے کا پانی نہیں ہے کیونکہ سرکار کے پاس پیسے نہیں ہیں اور گاؤں کے لوگ پینے کا پانی خریدتے بھی ہیں۔
میں یہ لکھ چکا ہوں کہ جب لاہور پڑھائی کے لیے آنے لگا تو میری ماں نے میرے بڑے بھائی سے کہا کہ اسے خرچ زیادہ دینا کیونکہ میں نے سنا ہے کہ لاہور میں تو پانی بھی بکتا ہے۔ آج لاہور کی طرح میری ماں کے گاؤں میں بھی پانی بک رہا ہے کیونکہ تخت لاہور خشک راوی سے آگے کم ہی دیکھتا ہے۔ اس کی نظریں کمزور ہیں۔ امارت اور خوشحالی تقسیم بے شک نہ کریں لیکن کم از کم روزی تو ہر ایک کا حق ہے اور آج ہی میں نے اپنے اخبار میں ٹی وی کے ایک پروگرام کی رپورٹ پڑھی ہے۔ ان دنوں ٹی وی میری پسند کا نہیں ہے لیکن اس پروگرام کی خبر پڑھ کر میں کم از کم آدھا مر گیا ہوں' آدھا جوں توں کر کے زندہ ہوں۔
ایکسپریس ٹی وی کے پروگرام تکرار نے محدود آمدنی والے گھر کی یہ دردناک تصویر کھینچی ہے۔ اینکر پرسن عمران خان نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک عام شہری کس حال میں زندہ ہے اور گرانی نے کس طرح اس کی بنیادی ضرورت کی چیزیں بھی چھین لی ہیں۔ لاہور کے ایک شہری ملک عقیل نے کہا ہے میں دو بچیوں اور بیوی کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہوں۔ میری تنخواہ دس ہزار روپے ہے۔ گھر کا کرایہ اور بچیوں کی فیس نکال کر چار پانچ ہزار روپے بچتے ہیں جن میں پورا مہینہ گزارنا ممکن نہیں ہے۔ گھر میں مہمان آ جائے تو پریشانی ہوتی ہے۔ میں آٹے کا تھیلا نہیں خرید سکتا' پانچ کلو آٹا' دو کلو چینی اور دو کلو گھی لا کر پورا مہینہ گزارتا ہوں۔ گوشت کو بچیاں ترستی ہیں۔ ان کی خواہشات سن کر میں ان کو ڈرا دھمکا کر انھیں خاموش کرا دیتا ہوں۔ عقیل کی بیوی نے کہا بارہ سال قبل ہماری شادی ہوئی تو ہم نے باہر جا کر کھانا کھایا تھا۔ اب تو ہوٹل بھی نہیں جا سکتے۔ بیٹی اقراء نے کہا مجھے یاد نہیں میں نے آخری کھلونا کب خریدا تھا اور مجھے یاد نہیں ہم آخری بار سیر پر کب گئے تھے۔ دوسری بیٹی نے بتایا کہ مجھے آخری بار کھلونا میری نانی اماں نے دیا تھا۔
میں نے اس رپورٹ کی چونکا دینے والی سرخی دیکھ کر خبر پڑھ لی اور اب سوچتا ہوں کہ تخت لاہور کا یہ شہری کیا اسی زندگی کا حق دار ہے۔ یہ سب پڑھ کر میں اپنے آپ کو مجرم اور سخت گنہگار سمجھتا ہوں۔ میں بس اس شہر میں رہتا ہوں اور عقیل کے ساتھ اپنی زندگی کا موازنہ کر کے اس شہری کو مزید دکھی نہیں کر سکتا۔ میرے گھر میں بھی دو چھوٹی بچیاں ہیں۔ ان میں سے صرف ایک بچی کا اسکول فیس، کتابوں، کپڑوں اور کھلونوں کا خرچ ملک عقیل کا پوری ماہانہ آمدنی کے برابر ہے۔ ربیع الاول کے اس مبارک مہینے میں اپنے ہادی و رہنما صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یاد تو بہت کرتا ہوں مگر میرا عمل ان کی ہدایت و احکام اور ان کی زندگی کے برعکس ہے۔ ضعیف العمر ابوہریرہؓ اپنے گاؤں گئے تو میزبانوں نے مہمان کے بڑھاپے کی وجہ سے انھیں تنور کی نرم روٹی دی۔
انھوں نے اس نرم گرم روٹی کا پہلا لقمہ توڑا تو اسے واپس رکھ دیا اور رونے لگے۔ میزبانوں نے پریشان ہو کر پوچھا کہ کیا کھانے میں کوئی چیز ناپسند گزری ہے یا ہم سے کوئی گستاخی ہوئی ہے۔ حضورؐ کے صحابیؓ نے حوصلہ جمع کر کے کہا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو زندگی بھر ایسی نرم روٹی کھانے کو نہیں ملی۔ میں یہ نہیں کھائوں گا مگر آج میں کوئی کروڑ کی آبادی کے اس شہر میں ایک خوشحال زندگی بسر کرتا ہوں مگر نہ اس امتی کو اپنے کسی نادار ہمسائے کی خبر ہے نہ کسی ایسی بچی کو جانتا ہوں جسے اپنا کھلونا یاد نہیں، مگر میں پھر بھی مسلمان ہونے کا دعویدار ہوں اور حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب اس مہینے میں اخباروں میں ان کی مدح و ثنا کرتا بھی ہوں اور پڑھتا بھی ہوں ''ہے کوئی مجھ سے بڑا منافق مسلمان''
میاں صاحب جب وزیراعلیٰ تھے تو کام پڑ جاتے تھے لیکن تب تک مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ ''وٹو'' بھی ہیں۔ انھوں نے وزارت اعلیٰ اپنی سیاسی ذہانت کی طاقت سے قائم کر رکھی تھی ورنہ ان کے ساتھ ارکان اسمبلی کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی لیکن ایک بار ان کی وزارت کچھ خطرے میں پڑ گئی مگر وہ بچ نکلے تو انھوں نے یہ تاریخی فقرہ کہا کہ ''وٹوؤں کے گھر تو کسی کا کٹا بھی آ جائے تو وہ اسے بھی واپس نہیں کرتے' گھر آئی وزارت اعلیٰ کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔'' رک رک کر دھیمے سروں میں بولنے والے میاں منظور وٹو ان دنوں پیپلزپارٹی کے وزیر ہیں اور پارٹی عہدیدار بھی۔
سیاست سے باہر تو کبھی نہیں نکلے کہ پھر کہاں جائیں' یہی ان کا گھر ہے اس لیے وہ اب اپنے حلقے کی سیاست کے ساتھ ساتھ بذریعہ میڈیا سیاست کے قومی میدان میں بھی ہیں۔ مجھے ان کے اس سطح پر سرگرم ہونے سے خوشی ہوئی کہ اب کوئی سلام دعا والا بھی پیپلز پارٹی کے ہجوم میں دکھائی دے گا ورنہ سب جیالے ہی ہیں جو اپنے لیے جیتے ہیں یا اس کے نام پر جس کی نرینہ اولاد میں سے اب کوئی بھی پیپلزپارٹی میں موجود نہیں ہے۔
کسی پنجاب حکومت کا تخت بلاشبہ لاہور میں بچھا ہے لیکن پنجاب لاہور سے باہر بھی ہے اور اقتدار کی طاقت کو اس تخت کی صورت میں لاہور میں قید کر لینے کا ایک نتیجہ جنوبی پنجاب کا صوبہ نکلا ہے۔ اب وہ زمانے گئے جب سکھوں کے دور میں لاہور شہر کو تخت پنجاب کہا گیا تھا۔ اب یہ تخت پورے پنجاب میں بچھے گا تو تخت کہلائے گا۔ ملتان اور بہاولپور والے جو اپنے اپنے ہاں کبھی یہ تخت بچھا چکے ہیں، اب اس سے مستقل محرومی کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ آج کے زمانے میں اقتدار کو محدود نہیں کیا جا سکتا' اسے پھیلانا اور تقسیم کرنا پڑتا ہے۔
جمہوریت نام ہی اقتدار میں سب کی شراکت کا ہے ورنہ وہ آمریت بن جاتی ہے اور سول آمریت پریشان کن ہوتی ہے جس کی پسند ناپسند بہت سخت ہوتی ہے۔ جنوبی پنجاب کے ایک کامیاب سیاست دان نے لاہور میں ایک جگہ فوارے دیکھ کر مجھ سے کہا کہ ہم آرائشی فوارے تو نہیں مانگتے مگر پینے کے پانی کا نلکا ضرور مانگتے ہیں اور میرے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وقت کس بے رحمی کے ساتھ کروٹیں بدلتا ہے۔ آج ان دنوں میرے گاؤں میں بھی پینے کا پانی نہیں ہے کیونکہ سرکار کے پاس پیسے نہیں ہیں اور گاؤں کے لوگ پینے کا پانی خریدتے بھی ہیں۔
میں یہ لکھ چکا ہوں کہ جب لاہور پڑھائی کے لیے آنے لگا تو میری ماں نے میرے بڑے بھائی سے کہا کہ اسے خرچ زیادہ دینا کیونکہ میں نے سنا ہے کہ لاہور میں تو پانی بھی بکتا ہے۔ آج لاہور کی طرح میری ماں کے گاؤں میں بھی پانی بک رہا ہے کیونکہ تخت لاہور خشک راوی سے آگے کم ہی دیکھتا ہے۔ اس کی نظریں کمزور ہیں۔ امارت اور خوشحالی تقسیم بے شک نہ کریں لیکن کم از کم روزی تو ہر ایک کا حق ہے اور آج ہی میں نے اپنے اخبار میں ٹی وی کے ایک پروگرام کی رپورٹ پڑھی ہے۔ ان دنوں ٹی وی میری پسند کا نہیں ہے لیکن اس پروگرام کی خبر پڑھ کر میں کم از کم آدھا مر گیا ہوں' آدھا جوں توں کر کے زندہ ہوں۔
ایکسپریس ٹی وی کے پروگرام تکرار نے محدود آمدنی والے گھر کی یہ دردناک تصویر کھینچی ہے۔ اینکر پرسن عمران خان نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک عام شہری کس حال میں زندہ ہے اور گرانی نے کس طرح اس کی بنیادی ضرورت کی چیزیں بھی چھین لی ہیں۔ لاہور کے ایک شہری ملک عقیل نے کہا ہے میں دو بچیوں اور بیوی کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہوں۔ میری تنخواہ دس ہزار روپے ہے۔ گھر کا کرایہ اور بچیوں کی فیس نکال کر چار پانچ ہزار روپے بچتے ہیں جن میں پورا مہینہ گزارنا ممکن نہیں ہے۔ گھر میں مہمان آ جائے تو پریشانی ہوتی ہے۔ میں آٹے کا تھیلا نہیں خرید سکتا' پانچ کلو آٹا' دو کلو چینی اور دو کلو گھی لا کر پورا مہینہ گزارتا ہوں۔ گوشت کو بچیاں ترستی ہیں۔ ان کی خواہشات سن کر میں ان کو ڈرا دھمکا کر انھیں خاموش کرا دیتا ہوں۔ عقیل کی بیوی نے کہا بارہ سال قبل ہماری شادی ہوئی تو ہم نے باہر جا کر کھانا کھایا تھا۔ اب تو ہوٹل بھی نہیں جا سکتے۔ بیٹی اقراء نے کہا مجھے یاد نہیں میں نے آخری کھلونا کب خریدا تھا اور مجھے یاد نہیں ہم آخری بار سیر پر کب گئے تھے۔ دوسری بیٹی نے بتایا کہ مجھے آخری بار کھلونا میری نانی اماں نے دیا تھا۔
میں نے اس رپورٹ کی چونکا دینے والی سرخی دیکھ کر خبر پڑھ لی اور اب سوچتا ہوں کہ تخت لاہور کا یہ شہری کیا اسی زندگی کا حق دار ہے۔ یہ سب پڑھ کر میں اپنے آپ کو مجرم اور سخت گنہگار سمجھتا ہوں۔ میں بس اس شہر میں رہتا ہوں اور عقیل کے ساتھ اپنی زندگی کا موازنہ کر کے اس شہری کو مزید دکھی نہیں کر سکتا۔ میرے گھر میں بھی دو چھوٹی بچیاں ہیں۔ ان میں سے صرف ایک بچی کا اسکول فیس، کتابوں، کپڑوں اور کھلونوں کا خرچ ملک عقیل کا پوری ماہانہ آمدنی کے برابر ہے۔ ربیع الاول کے اس مبارک مہینے میں اپنے ہادی و رہنما صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یاد تو بہت کرتا ہوں مگر میرا عمل ان کی ہدایت و احکام اور ان کی زندگی کے برعکس ہے۔ ضعیف العمر ابوہریرہؓ اپنے گاؤں گئے تو میزبانوں نے مہمان کے بڑھاپے کی وجہ سے انھیں تنور کی نرم روٹی دی۔
انھوں نے اس نرم گرم روٹی کا پہلا لقمہ توڑا تو اسے واپس رکھ دیا اور رونے لگے۔ میزبانوں نے پریشان ہو کر پوچھا کہ کیا کھانے میں کوئی چیز ناپسند گزری ہے یا ہم سے کوئی گستاخی ہوئی ہے۔ حضورؐ کے صحابیؓ نے حوصلہ جمع کر کے کہا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو زندگی بھر ایسی نرم روٹی کھانے کو نہیں ملی۔ میں یہ نہیں کھائوں گا مگر آج میں کوئی کروڑ کی آبادی کے اس شہر میں ایک خوشحال زندگی بسر کرتا ہوں مگر نہ اس امتی کو اپنے کسی نادار ہمسائے کی خبر ہے نہ کسی ایسی بچی کو جانتا ہوں جسے اپنا کھلونا یاد نہیں، مگر میں پھر بھی مسلمان ہونے کا دعویدار ہوں اور حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب اس مہینے میں اخباروں میں ان کی مدح و ثنا کرتا بھی ہوں اور پڑھتا بھی ہوں ''ہے کوئی مجھ سے بڑا منافق مسلمان''