فیکٹری آتشزدگی کیس میں تفتیشی افسر نے چالاکی کی
تفتیشی افسر نے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی حتمی رائے اور اعتماد میں لیے بغیر ذاتی طور پر فاضل عدالت میں جمع کرادیا تھا.
وکیل سرکار نے تفتیشی افسر کو آگاہ کیا تھا کہ وہ چالان اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے توسط سے عدالت میں جمع کرائے۔ فوٹو: فائل
سانحہ بلدیہ آتشزدگی کیس کے تفتیشی افسر جہاں زیب نے مقدمے کا ضمنی چالان عدالت میں جمع کرانے کیلیے نہایت چالاکی کا مظاہرہ کیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق5 جنوری کو پولیس افسر نے ضمنی چالان اسسٹنٹ ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر غربی کے آفس میں جمع کرایا تھا جس پر وکیل سرکار نے تفتیشی افسر کو تحریری طور پر آگاہ کیا تھا کہ وہ چالان اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے توسط سے عدالت میں جمع کرائے تاہم تفتیشی افسر نے پبلک پراسیکیوٹر کے احکامات نظرانداز کرتے ہوئے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی حتمی رائے اور اعتماد میں لیے بغیر ہی ذاتی طور پر فاضل عدالت میں جمع کرادیا تھا کیونکہ تفتیشی افسر کو علم تھا کہ فاضل عدالت نے چالان کے بغیر مقدمے کی سماعت سے معذرت کی ہے اور ریفرنس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی کو ارسال کردیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق5 جنوری کو پولیس افسر نے ضمنی چالان اسسٹنٹ ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر غربی کے آفس میں جمع کرایا تھا جس پر وکیل سرکار نے تفتیشی افسر کو تحریری طور پر آگاہ کیا تھا کہ وہ چالان اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے توسط سے عدالت میں جمع کرائے تاہم تفتیشی افسر نے پبلک پراسیکیوٹر کے احکامات نظرانداز کرتے ہوئے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی حتمی رائے اور اعتماد میں لیے بغیر ہی ذاتی طور پر فاضل عدالت میں جمع کرادیا تھا کیونکہ تفتیشی افسر کو علم تھا کہ فاضل عدالت نے چالان کے بغیر مقدمے کی سماعت سے معذرت کی ہے اور ریفرنس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی کو ارسال کردیا تھا۔