سانحہ بلدیہ کیس ملزمان کیخلاف ضمنی چالان پر سرکاری وکیل کا اعتراض
عدالت نے وکلا کو روک کر حتمی دلائل سننے کیلیے سماعت 16فروری تک ملتوی کردی ہے
سندھ ہائی کورٹ نے نے وکلا کے حتمی دلائل سننے کیلیے 16 فروری کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ فوٹو: فائل
سانحہ بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں نامزد فیکٹری مالکان عزیز بھائیلہ ، ارشد بھائیلہ ، شاہد بھائیلہ ، جنرل منیجر منصور احمد ، سیکیورٹی گارڈز ، فضل احمد ، ارشد محمود اور علی محمد کیخلاف مقدمے کا ضمنی چالان اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر سے رائے اور اعتماد میں لیے بغیر عدالت میں جمع کرانے پر وکیل سرکار نے اعتراض داخل کردیا ہے۔
فاضل عدالت نے وکلائے طرفین کے حتمی دلائل سننے کیلیے 16 فروری کی تاریخ مقرر کردی ہے،تفصیلات کے مطابق ہفتے کو جیل حکام نے ملزمان کو پیشی کیلیے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی عبداﷲ چنہ کے روبرو پیش کیا تھا اور ضمانت پر رہا عزیز بھائیلہ بھی عدالت میں موجود تھے،سماعت کے موقع پر مقدمے کے اسپیشل پبلک پراسکیوٹر شازیہ نے مقدمے کے تفتیشی افسر کی جانب سے ملزمان کیخلاف ضمنی چالان جمع کرنے پر تحریری طور پر اعتراض داخل کیا اور موقف اختیار کیا کہ پولیس افسر نے ضمنی چالان انکی منظوری ، رائے اور اعتماد میں لیے بغیر عدالت میں جمع کرایا ہے جوکہ قانونی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں چالان سماعت کیلیے منظور نہ کرنے کی استدعا کی اس موقع پر وکلائے صفائی نے بھی اپنے دلائل دینے سے متعلق استدعا کی جس پر فاضل عدالت نے طرفین کے وکلا کو روک کر حتمی دلائل سننے کیلیے سماعت 16فروری تک ملتوی کردی ہے، واضح رہے کہ 5 جنوری کو مقدمے کے تفتیشی افسر نے مقدمے کے ضمنی چالان میں قتل کی دفعہ کو خارج کردیا تھا اورعدالت کی جانب سے ملزم قرار دیے گئے محکمہ محنت کے ڈائریکٹر زاہد گلزار شیخ ، ایم ڈی سائٹ رشید احمد سولنگی ، ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس غلام اکبر اور الیکٹرک انسپکٹر امجد علی کو بے گناہ قرار دیاتھا۔
فاضل عدالت نے وکلائے طرفین کے حتمی دلائل سننے کیلیے 16 فروری کی تاریخ مقرر کردی ہے،تفصیلات کے مطابق ہفتے کو جیل حکام نے ملزمان کو پیشی کیلیے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی عبداﷲ چنہ کے روبرو پیش کیا تھا اور ضمانت پر رہا عزیز بھائیلہ بھی عدالت میں موجود تھے،سماعت کے موقع پر مقدمے کے اسپیشل پبلک پراسکیوٹر شازیہ نے مقدمے کے تفتیشی افسر کی جانب سے ملزمان کیخلاف ضمنی چالان جمع کرنے پر تحریری طور پر اعتراض داخل کیا اور موقف اختیار کیا کہ پولیس افسر نے ضمنی چالان انکی منظوری ، رائے اور اعتماد میں لیے بغیر عدالت میں جمع کرایا ہے جوکہ قانونی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں چالان سماعت کیلیے منظور نہ کرنے کی استدعا کی اس موقع پر وکلائے صفائی نے بھی اپنے دلائل دینے سے متعلق استدعا کی جس پر فاضل عدالت نے طرفین کے وکلا کو روک کر حتمی دلائل سننے کیلیے سماعت 16فروری تک ملتوی کردی ہے، واضح رہے کہ 5 جنوری کو مقدمے کے تفتیشی افسر نے مقدمے کے ضمنی چالان میں قتل کی دفعہ کو خارج کردیا تھا اورعدالت کی جانب سے ملزم قرار دیے گئے محکمہ محنت کے ڈائریکٹر زاہد گلزار شیخ ، ایم ڈی سائٹ رشید احمد سولنگی ، ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس غلام اکبر اور الیکٹرک انسپکٹر امجد علی کو بے گناہ قرار دیاتھا۔