ہائیڈرنٹس شہر میں پانی کی قلت اور خطرات کا سبب بن رہے ہیں سندھ ہائیکورٹ
بعض علاقوں میں پانی میسر نہیں ایسی صور ت حال میں پانی کی فراہمی کے کاروبار کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
ہائیڈرنٹس شہر میںپانی کی قلت، شورشرابے اور خطرے کا باعث بن رہے ہیں، سندھ ہائی کورٹ ۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے اپنی آبزرویشن میں کہا ہے کہ کراچی کے واٹر ہائڈرینٹس وبا کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔
یہ ہائیڈرنٹس شہر میںپانی کی قلت، شورشرابے اور خطرے کا باعث بن رہے ہیں، فاضل بینچ نے یہ آبزرویشن واٹر ٹینکرزمالکان ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران دی، فاضل بینچ نے سیکریٹری بلدیات، ایم ڈی واٹر بورڈ ،ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ڈی آئی جی ویسٹ سمیت دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہائیڈرینٹس مالکان کو پانی کی فراہمی کا اجازت نامہ جاری کرنے سے روک دیا ہے۔
درخواست میں محکمہ بلدیات،ایم ڈی واٹر بورڈ، ایڈیشنل آئی جی اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن کے180ارکان شہر میں صنعتوں اور گھریلو صارفین کوپانی کی فراہمی کا کام کررہے ہیں، 13 مئی 2012 کو کمشنر کراچی،ایم ڈی واٹر بورڈ اور دیگر فریقین کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں ہائیڈرینٹس کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہائیڈرینٹس مالکان کوشہر میں پانی کی فراہمی کالائسنس جاری کیا جائے گا اور پالیسی کی حتمی منظوری تک واٹرٹینکرز اپنا کام جاری رکھیں گے۔
اس ضمن میں ایم ڈی واٹر بورڈ نے آئی جی پولیس، ٹریفک پولیس، شہری انتظامیہ اور دیگر کو بھی آگاہ کردیا تھا،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے درخواست کی تھی کہ اس ضمن میں باقاعدہ اجازت نامے جاری کیے جائیں مگر اجازت نامے جاری نہیں کیے گئے جسکے باعث علاقہ پولیس واٹر ٹینکر مالکان کو ہراساں اور رشوت طلب کرتی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈی آئی جی (زون غربی)نے اپنے علاقے کے تمام ایس ایچ اوز کو ہدایت کی ہے حدود میں تمام واٹر ہائیڈرنٹس بند کردیے جائیں جو کہ غیر قانونی حکم ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایم ڈی واٹر بورڈ کو حکم دیا جائے کہ فوری طورپر پانی کی فراہمی کے اجازت نامے جاری کیے جائیں۔
عدالت نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ عدالت پہلے ہی اس ضمن میں احکامات جاری کرچکی ہے کہ صرف مخصوص شرائط پر ہائیڈرینٹس کوکام کرنے کی اجازت دی جائے کیوں کہ بعض علاقوں میں پانی میسر نہیں ایسی صور ت حال میں پانی کی فراہمی کے کاروبار کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
یہ ہائیڈرنٹس شہر میںپانی کی قلت، شورشرابے اور خطرے کا باعث بن رہے ہیں، فاضل بینچ نے یہ آبزرویشن واٹر ٹینکرزمالکان ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران دی، فاضل بینچ نے سیکریٹری بلدیات، ایم ڈی واٹر بورڈ ،ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ڈی آئی جی ویسٹ سمیت دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہائیڈرینٹس مالکان کو پانی کی فراہمی کا اجازت نامہ جاری کرنے سے روک دیا ہے۔
درخواست میں محکمہ بلدیات،ایم ڈی واٹر بورڈ، ایڈیشنل آئی جی اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن کے180ارکان شہر میں صنعتوں اور گھریلو صارفین کوپانی کی فراہمی کا کام کررہے ہیں، 13 مئی 2012 کو کمشنر کراچی،ایم ڈی واٹر بورڈ اور دیگر فریقین کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں ہائیڈرینٹس کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہائیڈرینٹس مالکان کوشہر میں پانی کی فراہمی کالائسنس جاری کیا جائے گا اور پالیسی کی حتمی منظوری تک واٹرٹینکرز اپنا کام جاری رکھیں گے۔
اس ضمن میں ایم ڈی واٹر بورڈ نے آئی جی پولیس، ٹریفک پولیس، شہری انتظامیہ اور دیگر کو بھی آگاہ کردیا تھا،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے درخواست کی تھی کہ اس ضمن میں باقاعدہ اجازت نامے جاری کیے جائیں مگر اجازت نامے جاری نہیں کیے گئے جسکے باعث علاقہ پولیس واٹر ٹینکر مالکان کو ہراساں اور رشوت طلب کرتی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈی آئی جی (زون غربی)نے اپنے علاقے کے تمام ایس ایچ اوز کو ہدایت کی ہے حدود میں تمام واٹر ہائیڈرنٹس بند کردیے جائیں جو کہ غیر قانونی حکم ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایم ڈی واٹر بورڈ کو حکم دیا جائے کہ فوری طورپر پانی کی فراہمی کے اجازت نامے جاری کیے جائیں۔
عدالت نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ عدالت پہلے ہی اس ضمن میں احکامات جاری کرچکی ہے کہ صرف مخصوص شرائط پر ہائیڈرینٹس کوکام کرنے کی اجازت دی جائے کیوں کہ بعض علاقوں میں پانی میسر نہیں ایسی صور ت حال میں پانی کی فراہمی کے کاروبار کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔