امان اﷲ یوسفزئی پر قاتلانہ حملے کیخلاف عدالتوں کا بائیکاٹ

وکلا احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے،ریلی نکالی اور نیشنل ہائی وے پر دھرنا دیا.

وکلا احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے،ریلی نکالی اور نیشنل ہائی وے پر دھرنا دیا . فوٹوـ آن لائن

ملیر بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر و ممبر سندھ بار کونسل امان اﷲ یوسفزئی پر قاتلانہ حملے کے خلاف ہفتے کو ملیر بار ایسوسی ایشن نے ملیر کی تمام ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔

وکلا کی جانب سے عدالتی بائیکاٹ کے باعث سیکڑوں مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی، جیل سے لائے گئے قیدیوں کو بھی عدالتوں میں پیش کیے بغیر واپس جیل بھیج دیا گیا، وکلا نے احتجاجی ریلی نکالی اور نیشنل ہائی وے پر دھرنا دیا، اس موقع پر نیشنل ہائی وے پر ٹریفک معطل ہوگئی، ملیر بار کے صدر اشرف سموں اور جنرل سیکریٹری و دیگر نے امان اﷲ یوسفزئی پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی۔




ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے امان اﷲ نے کہا کہ انھوں نے پولیس کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا تھا تاہم ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروںکی ملی بھگت سے گرفتار ملزم کو فرار کرادیا گیا ہے، انکی گرفتاری تک دھرنا جاری رہے گا، جس پر ایس ایس پی اور ڈی آئی جی نے مفرور ملزمان کو دو روز میں گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی، وکلا نے اعلیٰ افسران کی یقین دہانی کرانے پر دھرنا ختم کردیا تاہم بائیکاٹ جاری رکھا۔
Load Next Story