پاکستان میں دہشت گردی اور شمال مغربی سرحد
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کوئی نئے نہیں ہیں
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کوئی نئے نہیں ہیں ۔ فوٹو : فائل
پارا چنار' کوئٹہ اور کراچی میں پے در پے دہشت گردی کے واقعات کے بعد گزشتہ روز پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جی ایچ کیوراولپنڈی میں اعلیٰ سطح کا سیکیورٹی اجلاس ہوا' اس اہم اجلاس میں ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا گیا' سیکیورٹی اداروں نے آرمی چیف کو حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر تفصیلی بریفنگ دی' اس بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گری کے تانے بانے افغانستان میں این ڈی ایس اور را کی سرپرستی میں کام کرنے والی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے ملتے ہیں۔
گزشتہ روز ہی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر' ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید اور آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم احمد انجم سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں انہوں نے کوئٹہ' پارا چنار اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعات پر معلومات حاصل کیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کوئی نئے نہیں ہیں' دہشت گردوں کی پشت پناہی' سرپرستی اور لانچنگ بورڈنگ کون کرتے ہیں' یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے'ملک کے سیکیورٹی اداروں ہی نہیں بلکہ فہمیدہ حلقوں کو بھی اس حوالے سے خاصی آگہی حاصل ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اب تک ہم نے کیا کیا ہے اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مستقبل میں کیا کرنا ہے' اس پر غور کیا جائے۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ جب تک پاک افغان سرحد کو محفوظ نہیں بنایا جاتا' پاکستان میں دہشت گردی کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ افغانستان سے ملنے والی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان نے اب آ کے کام شروع کیا ہے لیکن اس کام میں تیزی لانے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے آئینی و قانونی معاملات کو بھی طے کیا جانا چاہیے۔
پاکستان میں بہت سے ایسے گروپ موجود ہیں جو پاک افغان سرحد اور فاٹا میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے کنفیوژن ہی نہیں پھیلا رہے بلکہ ان اقدامات کی مزاحمت بھی کرتے ہیں'ان گروپوں کومن مانی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ پاکستان کی سلامتی کے معاملات ہیں اور ان معاملات میں کسی قسم کی مصلحت اور خوف کو آڑے نہیں آنا چاہیے۔ اس طرح بلوچستان میں ایران کے ساتھ لگنے والی سرحد کو بھی محفوظ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
نرم سرحد کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے درمیان بھی غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اگر ہماری سرحدیں فول پروف ہوں تو کم از کم باہر سے درازی تو بند ہو جائے گی' اس کے بعد ملک میں موجود دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کو ختم کرنا آسان ہو جائے گا۔ سرحدیں محفوظ ہوں گی تو پاکستان میں چھپے ہوئے دہشت گرد یا تخریب کار اور ملک دشمن عناصر فرار ہو کر ہمسایہ ممالک میں پناہ حاصل نہیں کر سکیں گے لہٰذا وقت کی اہم ترین ضرورت شمالی مغربی سرحدوں کو محفوظ اور فول پروف بنانا انتہائی ضروری ہے۔
ہم افغانستان اور بھارت کی خفیہ ایجنسیوں پر جتنے مرضی الزامات عائد کرتے رہیں لیکن جب تک شمال مغرب میں فول پروف انتظامات نہیں کیے جاتے ' ان ایجنسیوں کی سازشوں کو ناکام نہیں بنایا جا سکتا۔ پاک فوج کے سربراہ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ اپنی بساط سے بڑھ کر لڑی ہے' اب افغانستان کی باری ہے' بلاشبہ افغانستان کو بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے' بلاشبہ افغانستان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے تاہم اسے پاکستان کی مشکلات کا بھی اندازہ ہونا چاہیے۔
افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کے الزامات پاکستان پر عائد کرنے سے معاملات حل نہیں ہو سکتے۔افغانستان کو ڈیورنڈ لائن کے معاملے کو اچھالنے کے بجائے حالات کی نزاکت کا خیال رکھنا چاہیے اوراسے ادراک ہونا چاہیے کہ موجودہ حالات میں پاک افغان سرحد پر حفاظتی انتظامات انتہائی ضروری ہیں' اگر پاک افغان سرحد پر بلا روک ٹوک آمدورفت بند ہو جائے اور سرحد پر خاردار باڑ کے ساتھ ساتھ تیز روشنی اور کیمروں کا بندوبست ہو جائے تو دونوں ملکوں میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔
افغانستان کی حکومت کو اس باریک نکتے پر لازمی غور کرنا چاہیے' اگر ممکن ہو تو دونوں ملک باہمی مشاورت سے سرحد کو پیدل یا روڈ کے ذریعے عبور کرنے پر پابندی عائد کر دیں' صرف تجارتی ٹرک ہی سڑک استعمال کریں' عام اور کاروباری افراد یا سیاحوں کے لیے صرف ہوائی جہاز کے ذریعے ہی سرحد کراس کرنے کی سہولت ہو' اس طریقے سے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے' جب حالات نارمل ہو جائیں تو سرحد کو آزادانہ طور پر کھولا جا سکتا ہے' دونوں ملکوں کی قیادت کو یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہنگامی حالات میں ہنگامی اور غیرروایتی اقدامات کرنے پڑتے ہیں' موجودہ حالات میں ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کی اولین ترجیح دہشت گردوں کا خاتمہ ہونا چاہیے' چھوٹے موٹے تنازعات کو کسی اور وقت کے لیے چھوڑنا دینا بہتر ہو گا۔
گزشتہ روز ہی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر' ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید اور آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم احمد انجم سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں انہوں نے کوئٹہ' پارا چنار اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعات پر معلومات حاصل کیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کوئی نئے نہیں ہیں' دہشت گردوں کی پشت پناہی' سرپرستی اور لانچنگ بورڈنگ کون کرتے ہیں' یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے'ملک کے سیکیورٹی اداروں ہی نہیں بلکہ فہمیدہ حلقوں کو بھی اس حوالے سے خاصی آگہی حاصل ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اب تک ہم نے کیا کیا ہے اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مستقبل میں کیا کرنا ہے' اس پر غور کیا جائے۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ جب تک پاک افغان سرحد کو محفوظ نہیں بنایا جاتا' پاکستان میں دہشت گردی کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ افغانستان سے ملنے والی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان نے اب آ کے کام شروع کیا ہے لیکن اس کام میں تیزی لانے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے آئینی و قانونی معاملات کو بھی طے کیا جانا چاہیے۔
پاکستان میں بہت سے ایسے گروپ موجود ہیں جو پاک افغان سرحد اور فاٹا میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے کنفیوژن ہی نہیں پھیلا رہے بلکہ ان اقدامات کی مزاحمت بھی کرتے ہیں'ان گروپوں کومن مانی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ پاکستان کی سلامتی کے معاملات ہیں اور ان معاملات میں کسی قسم کی مصلحت اور خوف کو آڑے نہیں آنا چاہیے۔ اس طرح بلوچستان میں ایران کے ساتھ لگنے والی سرحد کو بھی محفوظ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
نرم سرحد کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے درمیان بھی غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اگر ہماری سرحدیں فول پروف ہوں تو کم از کم باہر سے درازی تو بند ہو جائے گی' اس کے بعد ملک میں موجود دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کو ختم کرنا آسان ہو جائے گا۔ سرحدیں محفوظ ہوں گی تو پاکستان میں چھپے ہوئے دہشت گرد یا تخریب کار اور ملک دشمن عناصر فرار ہو کر ہمسایہ ممالک میں پناہ حاصل نہیں کر سکیں گے لہٰذا وقت کی اہم ترین ضرورت شمالی مغربی سرحدوں کو محفوظ اور فول پروف بنانا انتہائی ضروری ہے۔
ہم افغانستان اور بھارت کی خفیہ ایجنسیوں پر جتنے مرضی الزامات عائد کرتے رہیں لیکن جب تک شمال مغرب میں فول پروف انتظامات نہیں کیے جاتے ' ان ایجنسیوں کی سازشوں کو ناکام نہیں بنایا جا سکتا۔ پاک فوج کے سربراہ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ اپنی بساط سے بڑھ کر لڑی ہے' اب افغانستان کی باری ہے' بلاشبہ افغانستان کو بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے' بلاشبہ افغانستان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے تاہم اسے پاکستان کی مشکلات کا بھی اندازہ ہونا چاہیے۔
افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کے الزامات پاکستان پر عائد کرنے سے معاملات حل نہیں ہو سکتے۔افغانستان کو ڈیورنڈ لائن کے معاملے کو اچھالنے کے بجائے حالات کی نزاکت کا خیال رکھنا چاہیے اوراسے ادراک ہونا چاہیے کہ موجودہ حالات میں پاک افغان سرحد پر حفاظتی انتظامات انتہائی ضروری ہیں' اگر پاک افغان سرحد پر بلا روک ٹوک آمدورفت بند ہو جائے اور سرحد پر خاردار باڑ کے ساتھ ساتھ تیز روشنی اور کیمروں کا بندوبست ہو جائے تو دونوں ملکوں میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔
افغانستان کی حکومت کو اس باریک نکتے پر لازمی غور کرنا چاہیے' اگر ممکن ہو تو دونوں ملک باہمی مشاورت سے سرحد کو پیدل یا روڈ کے ذریعے عبور کرنے پر پابندی عائد کر دیں' صرف تجارتی ٹرک ہی سڑک استعمال کریں' عام اور کاروباری افراد یا سیاحوں کے لیے صرف ہوائی جہاز کے ذریعے ہی سرحد کراس کرنے کی سہولت ہو' اس طریقے سے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے' جب حالات نارمل ہو جائیں تو سرحد کو آزادانہ طور پر کھولا جا سکتا ہے' دونوں ملکوں کی قیادت کو یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہنگامی حالات میں ہنگامی اور غیرروایتی اقدامات کرنے پڑتے ہیں' موجودہ حالات میں ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کی اولین ترجیح دہشت گردوں کا خاتمہ ہونا چاہیے' چھوٹے موٹے تنازعات کو کسی اور وقت کے لیے چھوڑنا دینا بہتر ہو گا۔