غیر آئی اقدام برداشت نہیں ہوگا چیف جسٹس
اعلیٰ عدلیہ نے شخصیات کا لحاظ کیے بغیر آئین و قانون کے مطابق فیصلے کی، افتخار چوہدری
لاہور: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ فوٹو: اے پی پی
قومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی نے اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائرڈ ججز کو سرکاری عہدے چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے۔
گزشتہ روز کمیٹی میں اس بات کا نوٹس لیا گیا کہ بہت سارے ریٹائرڈ ججز نے ریٹائرمنٹ کے بعد عہدے قبول کئے ہیں جوکہ عدلیہ اور ان کے وقار کے منافی ہیں۔ اجلاس میں جرائم کی شرح کم ظاہر کرنے کیلیے ایف آئی آر درج نہ کرنے والے ایس ایچ اوز کے خلاف سخت کاروائی کرنے اور بھتہ کی رقم موبائل ایزی ٹرانسفر کے ذریعے منتقل کرنے پر قابو پانے کیلیے ارسال کنندہ اور وصول کنندہ کا مکمل ریکارڈ رکھنے کا بھی حکم جاری کیا گیا۔
اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ بروقت مقدمات کے چالان پیش نہ کرنیوالے تفتیشی افسران کے خلاف کاروائی کرنے کیلیے اقدامات کیے جائیں جبکہ ججوں کی تعداد بڑھانے کے معاملے پر حکومتی سرد روئیے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں منعقدہ قومی جودیشل پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس میں ڈسٹرکٹ عدلیہ کی کارکردگی کاجائزہ لیا گیا جبکہ ہائیکورٹ کی طرف سے مقدمات کے اعداد و شمار کمیٹی کے روبرو پیش کئے گئے۔
ریکارڈ کے مطابق پرانے مقدمات میں سے90 فیصد مقدمات پر فیصلہ کرنے کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ججوں کی تعداد میں کمی کے باوجود پالیسی کے نتائج کو حوصلہ افزاء قرار دیا۔ اس ضمن میں اجلاس میں عدلیہ پر کام کے بوجھ کو کم کرنے کیلیے ججوں کی تعداد بڑھانے کے معاملے پر حکومتی سرد روئیے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت آئین کے آرٹیکل 37 کے تحت سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے کیلیے باڈی کی سفارشات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ججوں کی تعداد بڑھائے۔
اجلاس میں ملکی امن واما ن کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں صوبائی حکومت کو ججوں کی سکیورٹی کیلیے اقدامات کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بعض اخبارات میں خبریں چھپی ہیں کہ مالی معاملات میں حکم امتناعی جاری ہونے کے باعث ریکوری نہیں ہو رہی تو تمام حکومتیں ایسے معاملات میں جن میں حکم امتناعی نہیں ہیں، ان کیسوں میں فوری ریکوری کا سلسلہ شروع کریں جبکہ تمام ہائیکورٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے مقدمات کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں ترحیجی بنیادوں پر جلد سے جلد نمٹائیں۔
اجلاس میں 2012ء میں درج ہونے والے مقدمات کا جائزہ بھی لیا گیا اور یہ بات مشاہدے میں آئی کہ مقدمات کے فیصلے میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ چالان کا بروقت پیش نہ ہونا ہے، اس تاخیرسے عدلیہ کی بدنامی ہوتی ہے حالانکہ ایف آئی آر درج ہونے کے 14روز کے اندر اندر چالان عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے جو نہیں ہو رہے۔
کمیٹی نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ہدایت کی کہ وہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب ٗ ہوم سیکرٹری پنجاب ٗ آئی جی پنجاب اور پرایسیکویٹر جنرل کو ہدایات جاری کریں ۔ اجلاس میں بعض ریٹائرڈ جج صاحبان کی طرف سے اپنے رتبے سے کم عہدے قبول کرنے کے معاملے میں بھی اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ جج صاحبان رضا کارانہ طور پر یہ عہدے قبول نہ کریں یا جو ایسے عہدوں پر کام کر رہے ہیں جو ان کے شان شایان نہیں ہیں وہ چھو ڑ دیں۔
گزشتہ روز کمیٹی میں اس بات کا نوٹس لیا گیا کہ بہت سارے ریٹائرڈ ججز نے ریٹائرمنٹ کے بعد عہدے قبول کئے ہیں جوکہ عدلیہ اور ان کے وقار کے منافی ہیں۔ اجلاس میں جرائم کی شرح کم ظاہر کرنے کیلیے ایف آئی آر درج نہ کرنے والے ایس ایچ اوز کے خلاف سخت کاروائی کرنے اور بھتہ کی رقم موبائل ایزی ٹرانسفر کے ذریعے منتقل کرنے پر قابو پانے کیلیے ارسال کنندہ اور وصول کنندہ کا مکمل ریکارڈ رکھنے کا بھی حکم جاری کیا گیا۔
اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ بروقت مقدمات کے چالان پیش نہ کرنیوالے تفتیشی افسران کے خلاف کاروائی کرنے کیلیے اقدامات کیے جائیں جبکہ ججوں کی تعداد بڑھانے کے معاملے پر حکومتی سرد روئیے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں منعقدہ قومی جودیشل پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس میں ڈسٹرکٹ عدلیہ کی کارکردگی کاجائزہ لیا گیا جبکہ ہائیکورٹ کی طرف سے مقدمات کے اعداد و شمار کمیٹی کے روبرو پیش کئے گئے۔
ریکارڈ کے مطابق پرانے مقدمات میں سے90 فیصد مقدمات پر فیصلہ کرنے کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ججوں کی تعداد میں کمی کے باوجود پالیسی کے نتائج کو حوصلہ افزاء قرار دیا۔ اس ضمن میں اجلاس میں عدلیہ پر کام کے بوجھ کو کم کرنے کیلیے ججوں کی تعداد بڑھانے کے معاملے پر حکومتی سرد روئیے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت آئین کے آرٹیکل 37 کے تحت سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے کیلیے باڈی کی سفارشات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ججوں کی تعداد بڑھائے۔
اجلاس میں ملکی امن واما ن کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں صوبائی حکومت کو ججوں کی سکیورٹی کیلیے اقدامات کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بعض اخبارات میں خبریں چھپی ہیں کہ مالی معاملات میں حکم امتناعی جاری ہونے کے باعث ریکوری نہیں ہو رہی تو تمام حکومتیں ایسے معاملات میں جن میں حکم امتناعی نہیں ہیں، ان کیسوں میں فوری ریکوری کا سلسلہ شروع کریں جبکہ تمام ہائیکورٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے مقدمات کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں ترحیجی بنیادوں پر جلد سے جلد نمٹائیں۔
اجلاس میں 2012ء میں درج ہونے والے مقدمات کا جائزہ بھی لیا گیا اور یہ بات مشاہدے میں آئی کہ مقدمات کے فیصلے میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ چالان کا بروقت پیش نہ ہونا ہے، اس تاخیرسے عدلیہ کی بدنامی ہوتی ہے حالانکہ ایف آئی آر درج ہونے کے 14روز کے اندر اندر چالان عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے جو نہیں ہو رہے۔
کمیٹی نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ہدایت کی کہ وہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب ٗ ہوم سیکرٹری پنجاب ٗ آئی جی پنجاب اور پرایسیکویٹر جنرل کو ہدایات جاری کریں ۔ اجلاس میں بعض ریٹائرڈ جج صاحبان کی طرف سے اپنے رتبے سے کم عہدے قبول کرنے کے معاملے میں بھی اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ جج صاحبان رضا کارانہ طور پر یہ عہدے قبول نہ کریں یا جو ایسے عہدوں پر کام کر رہے ہیں جو ان کے شان شایان نہیں ہیں وہ چھو ڑ دیں۔