ٹرمپ مودی ملاقات و مشترکہ بیان
بھارتی کوے انڈے کھانے کے لیے ٹرمپ کو کیوں گمراہ کررہے ہیں۔
بھارت کشمیر کارڈ کو بدنیتی کے ساتھ امریکا دوستی کے جھانسے میں استعمال کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے وائٹ ہاؤس پہنچنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مودی میں ملاقات ہوئی، بادی النظر میں یہ ملاقات اقتصادی تعاون کے مختلف شعبوں کے حوالہ سے تھی، ٹرمپ نے اپنی لکھی ہوئی تقریر میں بھارتی معیشت کا بطور خاص تذکرہ کیا اور ساتھ ہی افغانستان میں بھارتی ''کردار'' کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہندوستان، افغانستان کی تعمیر و ترقی اور بحالی میں قابل قدر کام کررہا ہے، ٹرمپ نے امریکا و بھارت کا تقابل کرتے ہوئے یہ استدلال پیش کیا کہ دونوں ملکوں کو دہشتگردی کے خطرہ کا سامنا ہے اوراس خطرہ سے نمٹنے میں اسلامی انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہوگا، پھر مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے معاشی ، سماجی، فنی، سمندری نگرانی، دفاعی پیداوار بڑھانے اور دہشتگردی کے خلاف انٹیلی جنس میں اضافہ کے امور پر فیصلوں کا اعلان کیا۔
مودی کے بقول ''میں نئے ہندوستان کی تعمیر اور ٹرمپ امریکا کو دوباہ ایک عظیم ملک بنانا چاہتے ہیں''۔ اس پر غالب کا یہ شعر بھارتی جعلسازی پر صادق آتا ہے کہ'' اے ترا غمزہ یک قلم انگیز، اے ترا ظلم سر بہ سر انداز'' ۔ اسی موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ٹرمپ نے کشمیر کی دہکتی اور شعلہ بار صورتحال کا نوٹس لینے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کے لیے مودی کے قلب و ضمیر میں کوئی خلش پیدا کرنے کی ادنیٰ سی کوشش نہیں کی بلکہ کشمیری حریت پسند رہنما سید صلاح الدین کو عالمی دہشتگرد قرار دے کر کشمیریوں کے ارمانوں کا خون کردیا.
بھارتی حکومت نے حزب المجاہدین کے رہنما کو خصوصی طور پر نامزد گلوبل دہشتگرد قراردینے کے مذموم فیصلہ کی بھی تعریف کی۔ پاکستان کو متنبہ کیا گیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہو، امریکا ، بھارت گٹھ جوڑ کا اس سے زیادہ درد انگیز منظر نامہ اور کیا ہوگا کہ دونوں ملکوں نے بہ یک آواز ہوکر پاکستان سے کہا کہ وہ ممبئی ، پٹھان کوٹ اور بھارت کے دیگر مقامات پر حملوں کے ذمے داران کو کیفرکردار تک پہنچائے۔
تاہم امریکا بھارت مشترکہ بیان کو نئی دہلی میں جاری کیے گئے بھارتی حزب اختلاف کانگریس کے ایک بیان میں مسترد کیا گیا، جب کہ امریکا نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزوں کے اجرا کی جو ہدایات دیں اس پر بھی کانگریس لیڈر منیش تیواری نے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت اور امریکا کے مابین اہم معاملہ HIB ویزوں کا ہے جس کا کوئی ذکر نہیں ہوا ، نیز دہشتگردی پر ٹرمپ کے رویے اور بیان کو بھی متضاد قرار دے دیا۔
تاہم وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے امریکا و بھارت کے مابین مشترکہ بیان اور کشمیری رہنما کو عالمی دہشتگرد قراردینے کے فیصلہ پر کڑی نکتہ چینی کی اور پاکستان و کشمیری عوام کے امنگوں کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ کا بھارتی زبان بولنا تشویشناک ہے۔
انھوں نے ٹرمپ اور مودی ملاقات کے تناظر میں واضح کیا کہ آزادی ، حق خودارادیت کشمیریوں کا مقدر ہے اور دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں سے ان کا یہ حق نہیں چھین سکتی، بہر کیف ہوا یہ کہ بھارتی وزیراعظم کے امریکا یاترا کے پس پردہ خفیہ عالمی گٹھ جوڑ بے نقاب بھی ہوچکا ، مودی دراصل پاکستان سے مخاصمت کی قیمت امریکی صدر سے وصول کرنے میں جتے ہوئے ہیں، مگر اہل پاکستان کو حیرت امریکی حکام اور ٹرمپ انتظامیہ کی بھارت نوازی اور پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف بے مثال قربانیوں پر اندوہ ناک چشم پوشی پر ہے، بھارت اس کوشش میں ہے کہ وہ پاکستان کے ہمسایوں ، برادر ملکوں سمیت حلیفوں سے امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کو بد ظن کردے اور اپنے تزویراتی مفادات کو آگے بڑھائے۔
ادھر مودی کے مجوزہ دورہ اسرائیل پر ایک اسرائیلی اخبار نے مزیدار سرخی جمائی ہے کہ لوگو جاگو، دنیا کے سب سے اہم ترین وزیراعظم تشریف لارہے ہیں۔ صدر ٹرمپ اپنے پچھلے امید افزا بیانات سے گریز پا ہیں، ان سے مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت ثالثی یا جامع مذاکرات کے لیے اعتماد سازی کا ماحول پیدا کرنے کی ساری امیدیں خاک میں ملتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جب کہ امریکا کو ادراک کرنا ہوگا کہ بھارت کشمیر کارڈ کو بدنیتی کے ساتھ امریکا دوستی کے جھانسے میں استعمال کرنے کے لیے بے تاب ہے، اور ہر حربہ استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو سنگل آؤٹ کرنے اور کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے اب امریکی کندھے پر اپنے علاقائی گیم کی بندوق رکھنا چاہتا ہے۔
امریکا اسے ایسا نہ کرنے دے کیونکہ پھر خطے کو دہشتگردی کے خاتمہ کی آڑ میں تباہی کے ایک نئے دریا کا سامنا ہوگا۔کون نہیں جانتا کہ دہشتگردی ایک عالمی ناسور ہے ، پاکستان دہشتگردی کا خود نشانہ بنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کب دہشتگردی کی جنگ کے خلاف سینہ سپر رہا ہے، نائن الیون کے سارے دکھ تو پاکستان نے جھیلے ہیں ، اس کی معیشت تباہ ہوئی ہے، بھارتی کوے انڈے کھانے کے لیے ٹرمپ کو کیوں گمراہ کررہے ہیں ، پاکستان خطے میں امن و استحکام اور ترقی و اقتصادی آسودگی کا علمبردار ہے، دہشتگردی کا خاتمہ عالمی اشتراک عمل سے ممکن ہے ، پاکستان کو مائنس کرنے کا کسی کو نہ حق پہنچتا ہے اور نہ یہ طرز عمل خطے کے مفاد میں ہوگا۔
مودی کے بقول ''میں نئے ہندوستان کی تعمیر اور ٹرمپ امریکا کو دوباہ ایک عظیم ملک بنانا چاہتے ہیں''۔ اس پر غالب کا یہ شعر بھارتی جعلسازی پر صادق آتا ہے کہ'' اے ترا غمزہ یک قلم انگیز، اے ترا ظلم سر بہ سر انداز'' ۔ اسی موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ٹرمپ نے کشمیر کی دہکتی اور شعلہ بار صورتحال کا نوٹس لینے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کے لیے مودی کے قلب و ضمیر میں کوئی خلش پیدا کرنے کی ادنیٰ سی کوشش نہیں کی بلکہ کشمیری حریت پسند رہنما سید صلاح الدین کو عالمی دہشتگرد قرار دے کر کشمیریوں کے ارمانوں کا خون کردیا.
بھارتی حکومت نے حزب المجاہدین کے رہنما کو خصوصی طور پر نامزد گلوبل دہشتگرد قراردینے کے مذموم فیصلہ کی بھی تعریف کی۔ پاکستان کو متنبہ کیا گیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہو، امریکا ، بھارت گٹھ جوڑ کا اس سے زیادہ درد انگیز منظر نامہ اور کیا ہوگا کہ دونوں ملکوں نے بہ یک آواز ہوکر پاکستان سے کہا کہ وہ ممبئی ، پٹھان کوٹ اور بھارت کے دیگر مقامات پر حملوں کے ذمے داران کو کیفرکردار تک پہنچائے۔
تاہم امریکا بھارت مشترکہ بیان کو نئی دہلی میں جاری کیے گئے بھارتی حزب اختلاف کانگریس کے ایک بیان میں مسترد کیا گیا، جب کہ امریکا نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزوں کے اجرا کی جو ہدایات دیں اس پر بھی کانگریس لیڈر منیش تیواری نے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت اور امریکا کے مابین اہم معاملہ HIB ویزوں کا ہے جس کا کوئی ذکر نہیں ہوا ، نیز دہشتگردی پر ٹرمپ کے رویے اور بیان کو بھی متضاد قرار دے دیا۔
تاہم وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے امریکا و بھارت کے مابین مشترکہ بیان اور کشمیری رہنما کو عالمی دہشتگرد قراردینے کے فیصلہ پر کڑی نکتہ چینی کی اور پاکستان و کشمیری عوام کے امنگوں کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ کا بھارتی زبان بولنا تشویشناک ہے۔
انھوں نے ٹرمپ اور مودی ملاقات کے تناظر میں واضح کیا کہ آزادی ، حق خودارادیت کشمیریوں کا مقدر ہے اور دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں سے ان کا یہ حق نہیں چھین سکتی، بہر کیف ہوا یہ کہ بھارتی وزیراعظم کے امریکا یاترا کے پس پردہ خفیہ عالمی گٹھ جوڑ بے نقاب بھی ہوچکا ، مودی دراصل پاکستان سے مخاصمت کی قیمت امریکی صدر سے وصول کرنے میں جتے ہوئے ہیں، مگر اہل پاکستان کو حیرت امریکی حکام اور ٹرمپ انتظامیہ کی بھارت نوازی اور پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف بے مثال قربانیوں پر اندوہ ناک چشم پوشی پر ہے، بھارت اس کوشش میں ہے کہ وہ پاکستان کے ہمسایوں ، برادر ملکوں سمیت حلیفوں سے امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کو بد ظن کردے اور اپنے تزویراتی مفادات کو آگے بڑھائے۔
ادھر مودی کے مجوزہ دورہ اسرائیل پر ایک اسرائیلی اخبار نے مزیدار سرخی جمائی ہے کہ لوگو جاگو، دنیا کے سب سے اہم ترین وزیراعظم تشریف لارہے ہیں۔ صدر ٹرمپ اپنے پچھلے امید افزا بیانات سے گریز پا ہیں، ان سے مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت ثالثی یا جامع مذاکرات کے لیے اعتماد سازی کا ماحول پیدا کرنے کی ساری امیدیں خاک میں ملتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جب کہ امریکا کو ادراک کرنا ہوگا کہ بھارت کشمیر کارڈ کو بدنیتی کے ساتھ امریکا دوستی کے جھانسے میں استعمال کرنے کے لیے بے تاب ہے، اور ہر حربہ استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو سنگل آؤٹ کرنے اور کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے اب امریکی کندھے پر اپنے علاقائی گیم کی بندوق رکھنا چاہتا ہے۔
امریکا اسے ایسا نہ کرنے دے کیونکہ پھر خطے کو دہشتگردی کے خاتمہ کی آڑ میں تباہی کے ایک نئے دریا کا سامنا ہوگا۔کون نہیں جانتا کہ دہشتگردی ایک عالمی ناسور ہے ، پاکستان دہشتگردی کا خود نشانہ بنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کب دہشتگردی کی جنگ کے خلاف سینہ سپر رہا ہے، نائن الیون کے سارے دکھ تو پاکستان نے جھیلے ہیں ، اس کی معیشت تباہ ہوئی ہے، بھارتی کوے انڈے کھانے کے لیے ٹرمپ کو کیوں گمراہ کررہے ہیں ، پاکستان خطے میں امن و استحکام اور ترقی و اقتصادی آسودگی کا علمبردار ہے، دہشتگردی کا خاتمہ عالمی اشتراک عمل سے ممکن ہے ، پاکستان کو مائنس کرنے کا کسی کو نہ حق پہنچتا ہے اور نہ یہ طرز عمل خطے کے مفاد میں ہوگا۔