پاک افغان سرحدی کشیدگی چین کی صائب پیش کش

چین نے دونوں ممالک کی قیادت کے مشترکہ اجلاس کی میزبانی کی پیشکش بھی کردی ہے۔

چین نے دونوں ممالک کی قیادت کے مشترکہ اجلاس کی میزبانی کی پیشکش بھی کردی ہے۔ فوٹو: فائل

عالمی سیاسی منظرنامہ انتہائی سرعت سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے، پاکستان کا بہترین دوست ملک چین، پاک افغان سرحدی کشیدگی اورتناؤختم کرانے کے لیے متحرک ہوچکا ہے،اس تناظرمیں چین نے دونوں ممالک کی قیادت کے مشترکہ اجلاس کی میزبانی کی پیشکش بھی کردی ہے۔ یہ سب چینی وزیرخارجہ کے حالیہ دورہ پاکستان کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

چین کے وزیر خارجہ نے اس موقعے پر پاکستانی قیادت کو باورکروایا کہ پچھلے چند سال کے دوران پاکستان نے جو اقتصادی استحکام حاصل کیا ہے اس سلسلے کو جاری رہنا چاہیے اور یہ کہ خطے میں کشیدگی معاشی ترقی کے لیے زہر قاتل ہے، جب کہ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ چین کی سنجیدہ کوششیں اس کے اخلاص کی مظہر ہیں۔


جب سے سی پیک منصوبے کا آغاز ہوا ہے، امریکا اور بھارت نے اس کے خلاف سازشوں کے جال بننے شروع کردیئے ہیں ۔ بھارت نے انتہائی ہوشیاری سے افغانستان کی قیادت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ افغانستان کی قیادت آسانی سے استعمال ہو بھی رہی ہے اور پاکستان کی تین دہائی سے زیادہ میزبانی ،جذبہ ایثار اور قربانی کو نظرانداز کرتے ہوئے ہر بات کا الزام پاکستان کے سر تھوپنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

دراصل افغانستان کی حکومت دہشتگردوں پر قابو پانے پر ناکام رہی ہے اور یہ سرحد کے دونوں جانب باآسانی دہشتگردی کی کارروائیاں کرکے امن کو تہہ وبالا کردیتے ہیں ۔ دراصل افغان تنازعے کا حل فوجی طریقے سے ممکن نہیں، بلکہ اس کا حل مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوکر سرجوڑ کر بیٹھنے اور وقت کے تقاضوں کے عین مطابق اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے پائیدار امن سے مشروط ہے ۔

پاکستان اور افغانستان مشترکہ کرائسز مینجمنٹ میکنزم کی تشکیل پر متفق ہیں، سہ فریقی سطح پر وزرائے خارجہ میکنزم بنانے پر بھی اتفاق پایا گیا ہے، چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے دونوں ممالک کا جو دورہ کیا ہے اس سے خطے میں امن 'اقتصادی تعاون اور ترقی کے لیے مل جل کر کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔ پاکستان 'افغانستان دو برادر اسلامی ممالک ہیں جو تاریخ و ثقافت کے تناظر میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہیں، دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ وہ آپس کے تعلقات بہتر بنائیں تاکہ اعتماد کی فضا قائم ہو اور خطے میں ترقی کا عمل تیز تر ہوسکے۔
Load Next Story