شام میں داعش کے زیر انتظام جیل پر امریکی اتحاد کا فضائی حملہ 42 قیدی ہلاک

اتحادی طیاروں نے شہر المیادین میں قائم داعش کی جیل کونشانہ بنایا،بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا،تنظیم انسانی حقوق

ایک اور کیمیائی حملے کی ممکنہ تیاری کی شناخت، اگر ایسا حملہ ہوا تو شام کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی، امریکا، فرانس۔ فوٹو : فائل

شام میں داعش کے زیر قبضہ علاقے میں واقع جیل پر فضائی حملے میں 42 قیدی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

عرب ٹی وی کے مطابق برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے کہا کہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے شام کے شہر المیادین میں قائم داعش کی جیل کو نشانہ بنایا جبکہ اتحادی فوج کے ایک ترجمان نے بیان میں کہا کہ واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ادھر شام کے صدر بشار الاسد نے مغربی شام میں حمیمین کے روسی ہوائی اڈے کا پہلا دورہ کیا۔ فراہم کی گئی تصاویر میں شامی لیڈر کو روسی سخوئی ایس یو 35لڑاکا طیارے کی کاک پٹ میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے، روسی چیف آف اسٹاف ولیری جیرازیموف بھی ان کے ہمراہ تھے، اتوار کے روز انھوں نے ہما کے شہر میں نماز عید ادا کی اور زخمی فوجیوں سے ملاقات کی۔ سرکاری میڈیا کی جاری کردہ فوٹیج میں، ان کی بیگم عاصمہ اور بچے ان کے ہمراہ ہیں۔


امریکا اور فرانس نے کہا ہے کہ اس نے شام میں ایک اور کیمیائی حملے کی ممکنہ تیاری کی شناخت کی ہے اور اس کیخلاف شامی حکومت کو سخت وارننگ بھی جاری کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ حملے سے متعلق سرگرمیاں بالکل اسی نوعیت کی ہیں جو گزشتہ اپریل میں مشتبہ کیمیائی حملے سے پہلے ہو رہی تھیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بشار الاسد حکومت کی جانب سے دوسرے کیمیائی حملے کی صورت میں بڑے پیمانے پر عام شہری ہلاک ہوں گے، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ امریکا، شام اور عراق میں داعش کو ختم کرنے کیلیے موجود ہے لیکن اگر بشارالاسد کیمیائی حملے سے ایک اور قتل عام کرتے ہیں تو پھر انھیں اور ان کی فوج کو اس کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے فرانسیسی ہم منصوب ایمانویل میک خواں کے درمیان ٹیلیفون پر ہونے والی بات چیت میں شام میں ممکنہ کیمیائی حملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔فرانسیسی ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اور میکروں شام میں کیمیائی حملے کا مل کر جواب دینے پر متفق ہیں۔
Load Next Story