چیف جسٹس آف پاکستان کا خطاب
انتظامیہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بناتے تو کوئی وجہ نہیں کہ معاشرہ جرائم سے پاک نہ ہو۔
کوئی شخص آئین اور قانون سے بالاتر نہیں ، چیف جسٹس فوٹو: فائل
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ہفتے کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں قومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ کوئی شخص آئین اور قانون سے بالاتر نہیں' کسی خوف اور رعایت کے بغیر قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں' عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی' عدلیہ دستور کی محافظ ہے' کسی کو غیرآئینی اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی' تمام اہم مقدمات کے فیصلے دستور اور قانون کے مطابق کیے' آیندہ بھی کریں گے' سب تک انصاف پہنچانا چاہتے ہیں، اس کے لیے جو کچھ بھی کرنا پڑا' کیا جائے گا' عوام کا اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے عدلیہ پر اعتماد بڑھا ہے' سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا عدلیہ کے ساتھ ریاست کی بھی بنیادی ذمے داری ہے۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدلیہ نے ملکی سطح پر تاریخ کے مشکل ترین فیصلے کیے ہیں۔ سوئس حکام کو خط تحریر کرنے کے کیس پر عدلیہ اور حکومت میں تناؤ شروع ہوا مگر اعلیٰ عدلیہ نے مشکل حالات کا انتہائی تدبر سے سامنا کیا، اسی کیس کے نتیجے میں یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ یوں عدلیہ نے کسی بھی طاقتور شخص حتیٰ کہ وزیر اعظم کو بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت نہ دی۔ اب بھی رینٹل پاور کیس میں حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اعلیٰ عدلیہ نے ریاستی مشینری کی زیادتیوں' امتیازی سلوک' کرپشن' اختیارات کے ناجائز استعمال ' اور سیاسی بنیادوں پر تقرریوں کے خلاف کسی قسم کا دباؤ قبول نہ کرتے ہوئے میرٹ پر فیصلے کیے۔ عدلیہ کے اس بلند اور مثالی کردار کے باعث شہریوں کا عدلیہ پر اعتماد بڑھا اور انھوں نے انصاف کے فوری اور سستے حصول کے لیے اس سے اپنی توقعات وابستہ کر لیں اور انھیں یہ امید پیدا ہوئی کہ ریاستی اداروں کی ناانصافیوں کے خلاف عدلیہ ہی ان کا واحد سہارا ہے۔ عدلیہ نے بھی عوامی توقعات کو پورا کیا اور انھیں فوری انصاف فراہم کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔ موجودہ حکومت کا پانچ سالہ دور شومئی قسمت سے عدلیہ سے کشیدگی اور تناؤ ہی میں گزرا۔
آئین میں انتظامیہ' مقننہ اور عدلیہ کے اختیارات کا واضح تعین کیا گیا ہے۔ ریاست کی ترقی اور بہتری کے لیے ناگزیر امر ہے کہ تمام ادارے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیں اور ان حدود سے تجاوز نہ کریں۔ کشیدگی اور تناؤ وہیں جنم لیتا ہے جہاں کوئی ایک ادارہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے آئینی حدود سے تجاوز کرتا ہے۔ آئین کی تشکیل اگر پارلیمنٹ کرتی ہے تو اس کی تشریح کا اختیار عدلیہ کو حاصل ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ عدلیہ دستور کی محافظ ہے۔ یہ موجودہ عدلیہ کا جرأتمندانہ اور بے باکانہ کردار ہے جس نے ہر قدم پر جمہوریت کا تحفظ یقینی بنایا ' آمریت اور ہر غیرآئینی اقدام کا راستہ بااحسن مسدود کیا ہے۔ چیف جسٹس نے ایک بار پھر یہ واضح کر کے عدلیہ کے ادارے کو مزید استحکام بخشا ہے کہ کوئی بھی شخص آئین اور قانون سے بالاتر نہیں۔ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنا اور انھیں فوری انصاف فراہم کرنا عدلیہ ہی نہیں' ریاست کی بھی ذمے داری ہے۔
موجودہ حالات اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ کئی معاملات پر حکومت اور ریاستی اداروں نے اپنے فرائض میں کوتاہی برتی جس سے عوام کے دکھوں اور مسائل میں اضافہ ہوا۔ چیف جسٹس کو بھی اسی امر کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ انھوں نے حکومت کو یاددہانی خطوط اور مراسلوں کے ذریعے آئین کے تحت عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی یقینی بنانے اور صوبوں میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لیے کہا مگر کوئی اثر نہیں ہوا۔ عدلیہ انصاف پر مبنی فیصلے تو کر دیتی ہے مگر ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ریاست کی ذمے داری ہے۔
چیف جسٹس نے ایک بار پھر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ یاد دلایا ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کریں تاکہ عوام اور سائلین کی بروقت دادرسی کی جا سکے۔ علاوہ ازیں قومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی نے اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائرڈ ججوں کو سرکاری عہدے چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ ہمارے ہاں یہ رسم چلی آ رہی ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز بہت سے افراد ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے تعلقات کی بناء پر دیگر اداروں میں عہدے حاصل کر لیتے ہیں۔ اس سے ان اداروں میں دیگر افراد کی حق تلفی ہوتی اور ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ ان تقرریوں کا راستہ روکنا اشد ضروری ہے۔
معاشرے میں جرائم کی شرح خطرناک حد تک روز افزوں ہے۔کراچی میں بھتہ خوری نے تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے الگ سے پریشانی کو جنم دیا ہے۔ پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے احتراز برتتی ہے اور مقدمات کے چالان بھی بروقت عدالت میں پیش نہیں کرتی جس سے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی سزا کے مستوجب مدعی ٹھہراتے ہیں۔ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے قومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی نے لاہور ہائیکورٹ کو ہدایت کی کہ وہ چیف سیکریٹری' ہوم سیکریٹری' آئی جی پنجاب اور پراسیکیوٹر جنرل کو ہدایت جاری کریں کہ وہ اس ضمن میں مناسب اقدامات کریں اور اس حوالے سے غفلت کے مرتکب تفتیشی افسران کے خلاف کارروائی کریں۔
اگر انتظامیہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے اپنے فرائض ایمانداری اور دلجمعی سے سرانجام دے تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام کو بروقت اور سستا انصاف نہ ملے اور معاشرہ جرائم سے پاک نہ ہو۔ ریاست کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا انحصار حکومتی اور عدالتی اداروں کی درست کارکردگی پر ہوتا ہے۔ عدلیہ تمام تر دباؤ اور مسائل کے باوجود عوام کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے اقدامات اٹھا رہی ہے مگر انتظامی ادارے روایتی تساہل پسندی کے باعث مطلوبہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ ضروری ہے کہ حکومت مفادعامہ کے لیے اپنی ذمے داریاں بااحسن نبھائے تاکہ عوام کے دکھوں کا مداوا ہو اور انصاف کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدلیہ نے ملکی سطح پر تاریخ کے مشکل ترین فیصلے کیے ہیں۔ سوئس حکام کو خط تحریر کرنے کے کیس پر عدلیہ اور حکومت میں تناؤ شروع ہوا مگر اعلیٰ عدلیہ نے مشکل حالات کا انتہائی تدبر سے سامنا کیا، اسی کیس کے نتیجے میں یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ یوں عدلیہ نے کسی بھی طاقتور شخص حتیٰ کہ وزیر اعظم کو بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت نہ دی۔ اب بھی رینٹل پاور کیس میں حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اعلیٰ عدلیہ نے ریاستی مشینری کی زیادتیوں' امتیازی سلوک' کرپشن' اختیارات کے ناجائز استعمال ' اور سیاسی بنیادوں پر تقرریوں کے خلاف کسی قسم کا دباؤ قبول نہ کرتے ہوئے میرٹ پر فیصلے کیے۔ عدلیہ کے اس بلند اور مثالی کردار کے باعث شہریوں کا عدلیہ پر اعتماد بڑھا اور انھوں نے انصاف کے فوری اور سستے حصول کے لیے اس سے اپنی توقعات وابستہ کر لیں اور انھیں یہ امید پیدا ہوئی کہ ریاستی اداروں کی ناانصافیوں کے خلاف عدلیہ ہی ان کا واحد سہارا ہے۔ عدلیہ نے بھی عوامی توقعات کو پورا کیا اور انھیں فوری انصاف فراہم کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔ موجودہ حکومت کا پانچ سالہ دور شومئی قسمت سے عدلیہ سے کشیدگی اور تناؤ ہی میں گزرا۔
آئین میں انتظامیہ' مقننہ اور عدلیہ کے اختیارات کا واضح تعین کیا گیا ہے۔ ریاست کی ترقی اور بہتری کے لیے ناگزیر امر ہے کہ تمام ادارے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیں اور ان حدود سے تجاوز نہ کریں۔ کشیدگی اور تناؤ وہیں جنم لیتا ہے جہاں کوئی ایک ادارہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے آئینی حدود سے تجاوز کرتا ہے۔ آئین کی تشکیل اگر پارلیمنٹ کرتی ہے تو اس کی تشریح کا اختیار عدلیہ کو حاصل ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ عدلیہ دستور کی محافظ ہے۔ یہ موجودہ عدلیہ کا جرأتمندانہ اور بے باکانہ کردار ہے جس نے ہر قدم پر جمہوریت کا تحفظ یقینی بنایا ' آمریت اور ہر غیرآئینی اقدام کا راستہ بااحسن مسدود کیا ہے۔ چیف جسٹس نے ایک بار پھر یہ واضح کر کے عدلیہ کے ادارے کو مزید استحکام بخشا ہے کہ کوئی بھی شخص آئین اور قانون سے بالاتر نہیں۔ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنا اور انھیں فوری انصاف فراہم کرنا عدلیہ ہی نہیں' ریاست کی بھی ذمے داری ہے۔
موجودہ حالات اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ کئی معاملات پر حکومت اور ریاستی اداروں نے اپنے فرائض میں کوتاہی برتی جس سے عوام کے دکھوں اور مسائل میں اضافہ ہوا۔ چیف جسٹس کو بھی اسی امر کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ انھوں نے حکومت کو یاددہانی خطوط اور مراسلوں کے ذریعے آئین کے تحت عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی یقینی بنانے اور صوبوں میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لیے کہا مگر کوئی اثر نہیں ہوا۔ عدلیہ انصاف پر مبنی فیصلے تو کر دیتی ہے مگر ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ریاست کی ذمے داری ہے۔
چیف جسٹس نے ایک بار پھر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ یاد دلایا ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کریں تاکہ عوام اور سائلین کی بروقت دادرسی کی جا سکے۔ علاوہ ازیں قومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی نے اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائرڈ ججوں کو سرکاری عہدے چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ ہمارے ہاں یہ رسم چلی آ رہی ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز بہت سے افراد ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے تعلقات کی بناء پر دیگر اداروں میں عہدے حاصل کر لیتے ہیں۔ اس سے ان اداروں میں دیگر افراد کی حق تلفی ہوتی اور ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ ان تقرریوں کا راستہ روکنا اشد ضروری ہے۔
معاشرے میں جرائم کی شرح خطرناک حد تک روز افزوں ہے۔کراچی میں بھتہ خوری نے تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے الگ سے پریشانی کو جنم دیا ہے۔ پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے احتراز برتتی ہے اور مقدمات کے چالان بھی بروقت عدالت میں پیش نہیں کرتی جس سے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی سزا کے مستوجب مدعی ٹھہراتے ہیں۔ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے قومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی نے لاہور ہائیکورٹ کو ہدایت کی کہ وہ چیف سیکریٹری' ہوم سیکریٹری' آئی جی پنجاب اور پراسیکیوٹر جنرل کو ہدایت جاری کریں کہ وہ اس ضمن میں مناسب اقدامات کریں اور اس حوالے سے غفلت کے مرتکب تفتیشی افسران کے خلاف کارروائی کریں۔
اگر انتظامیہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے اپنے فرائض ایمانداری اور دلجمعی سے سرانجام دے تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام کو بروقت اور سستا انصاف نہ ملے اور معاشرہ جرائم سے پاک نہ ہو۔ ریاست کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا انحصار حکومتی اور عدالتی اداروں کی درست کارکردگی پر ہوتا ہے۔ عدلیہ تمام تر دباؤ اور مسائل کے باوجود عوام کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے اقدامات اٹھا رہی ہے مگر انتظامی ادارے روایتی تساہل پسندی کے باعث مطلوبہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ ضروری ہے کہ حکومت مفادعامہ کے لیے اپنی ذمے داریاں بااحسن نبھائے تاکہ عوام کے دکھوں کا مداوا ہو اور انصاف کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔