بدگمانی اور تہمت کا زہر
خالصتاً سیاسی دور میں کتنے ہی ایسے ’’مہربان‘‘لمحے فراہم کیے گئے جب سیاست کاروں کا بوریا بستر گول کیاجاسکتاتھا
tanveer.qaisar@express.com.pk
کیاانتخابات بروقت اور توقعات کے عین مطابق ہوں گے؟
ایک کشاکش ہے جس نے غبار بن کر تقریباًسبھی دماغوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔انتخابات کے میدان میں کُودنے کی صلاحیت اور شوق رکھنے والے سیاستدان اخبار نویسوں کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے ہوئے یہی سوال کرتے نظر آرہے ہیں اور صحافی حضرات اپنے اپنے خیالات، نظریات اورقیاسات کے گھوڑے دوڑا کر خبر کی تلاش میں ہیں۔مولانا طاہرالقادری صاحب نے اپنے حصے کا دیاگیا کردار تو ضرور ادا کردیا ہے اور اِس کے کچھ اثرات بھی محسوس کیے جارہے ہیں لیکن اگلی منزل کا اُنہیں بھی نہیں معلوم اور نہ ہی اُن کے ہدایت کاراپنی بند مُٹھی کھولنے پر تیار نظر آرہے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنا متعینہ کام جاری رکھے ہوئے ہے لیکن شبہات کے چھائے بادل صاف ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔جس تواتر اور تسلسل سے کراچی میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے اور فرقہ وارایت کی آگ دہکانے کی کوششیں کی جارہی ہیں،اِس نے انتخابات کے انعقاد کے عمل کو اگرچہ غیر یقینی نہیں بنایا،پھر بھی اِس بارے میں شکوک کو ہوا ضرور دی ہے۔اِس سلسلے میں رینٹل پاور کیس کے تفتیشی افسر کامران فیصل کے بہیمانہ قتل(یاخودکشی) کو نظرانداز کیاجاسکتا ہے نہ کراچی میں جامعہ بنوریہ کے ممتاز اور محترم ترین علمائے کرام کی شہادتوں کوفراموش کرناممکن ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جن منصوبہ بند ہاتھوں نے مفتی عبدالمجید اور مفتی صالح اور اُن کے ساتھی کو ٹارگٹ کلنگ کا ہدف بنا کر ظلم ڈھایا ہے،ان ہاتھوں نے دراصل وطنِ عزیز کی اہم ترین دینی کمیونٹی کے قلب پر حملہ کر کے پاکستان کو آگ وخون کے جہنم میں دھکیلنے کی کوشش کی ہے۔اِن خون ریزہاتھوں نے اِس سے قبل بھی مولانا شامزئیؒ اور مولانا یوسف لدھیانویؒ ایسے پاکیزہ اور مبلغ نفوس کو شہید کر کے یہی آگ بھڑکانے کی کوشش کی تھی لیکن شاباش ہے جامعہ بنوری کے اساتذہ کرام اور انتظامیہ کو جنہوں نے اِن سازشی اور فسادانگیزہاتھوں کا کھلونا بننے سے صاف انکارکردیا۔کراچی میں علمائے دین کے قتلِ عام پر محمد احمد لدھیانوی صاحب نے بھی جس صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے،اِس کی تحسین نہ کرنا زیادتی ہوگی۔
بھنویں سیکڑ کر سوالات اُٹھائے جارہے ہیں کہ کیایہ خونریزسانحات کہیں اِس امر کا شاخسانہ تو نہیں کہ انتخابات کا رَن ہی نہ پڑے اور اگلے چند ہفتوں کے بعد بننے والی نگران حکومت ہی کو اگلے چند برسوں تک توسیع دے دی جائے؟اِس سلسلے میں چند بدگمان عناصر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو اپنی لپیٹ میں لینے کی کوششیں کرتے نظر آرہے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ بدگمانی سے منع کیاگیا ہے اور اللہ کے آخری رسولؐ پر اُترنے والی اللہ کی آخری کتاب میں بدگمانی کرنیوالوں کو شدیدوعید سنائی گئی ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ اِس وعید کی موجودگی میں بدگمانیوں کا سلسلہ رک جاتا لیکن حیرت خیزبات ہے کہ یہ سلسلہ رُکنے کے بجائے مسلسل آگے ہی آگے بڑھتا اور اِس کا دائرہ پھیلتا جارہا ہے۔
بدگمان عناصر کیا نہیں جانتے کہ جب کوئٹہ میں ہزارہ قبائل کے سو سے زائد جنازے،جنھیں دہشتگردوں نے چھلنی کردیاتھا،سردی میں کئی روز تک ٹھٹھرتے رہے،اُس لمحے اعانت اور دست گیری کے لیے کس ادارے کو مسلسل آوازیں دی جاتی رہیں؟اِس موقع سے آسانی کے ساتھ فائدہ اٹھایاجاسکتا تھا لیکن متعلقہ ادارہ نہ صرف مسلسل گریز پارہا بلکہ اُس نے لبیک میں ایک قدم بھی آگے بڑھانے سے انکار کردیا۔اِس کے باوصف بدگمانی کی جارہی ہے اور تہمت میں کلّوں سے جھاگ اُڑائی جارہی ہے اور اب تو سانحہ بنوریہ کے بعد ایسی ہی آوازیں کراچی سے بھی اٹھنے لگی ہیں۔ماضی میں بھی اٹھتی رہی ہیں لیکن اس بار اِن میں باقاعدگی بھی ہے اور شدت بھی زیادہ لیکن جنھیں آوازیں دی جارہی ہیں، وہ بھی خاموش ہیں۔اِس کے باوجود انتخابات کے التوا کے حوالے سے اِسی ادارے کے خلاف بَھد اُڑائی جارہی ہے۔اِس سے استفادہ کون کررہا ہے؟
گزشتہ نصف عشرے کے خالصتاً سیاسی دور میں کتنے ہی ایسے ''مہربان''لمحے فراہم کیے گئے جب سیاست کاروں کا بوریا بستر گول کیاجاسکتاتھا لیکن متعلقہ ادارہ اور اِس کا سربراہ جمہوریت کے نوخیز اور پھلتے ہوئے پودے کو بوٹوں تلے کچلنے سے دانستہ باز رہا لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ اِسے کمزوری پر محمول کیاگیا۔گزارش ہے کہ ہمیں منافقت اور دوغلے پن سے باز رہنا چاہیے اور کسی لاگ لپیٹ کے بغیر بات کہنی اور لکھنی چاہیے۔جب یہ کہاجاتا ہے کہ انتخابات کے انعقاد میں بالواسطہ اسٹیبلشمنٹ روڑے اٹکانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ کہ پاکستان میں بنگلہ دیشی ماڈل (جوناکامی پر منتج ہوا) کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں تو اِس کا واضح اشارہ فوج کی طرف جاتا ہے۔
بدنیتی اورتعصب یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ یہ بھی منہ پھاڑ کر کہہ دیاجاتا ہے کہ فوج اب بھی نوازشریف سے ناراض ہے،اِس لیے وہ میاں صاحب اور ان کی جماعت کو برسرِاقتدار آنے میں سدِ راہ ضرور بنے گی۔کیسی شرمناک بات ہے اور کہنے اور لکھنے والے کس قدر بے حجاب۔ایسے میں جہاندیدہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر)جناب فخرالدین جی ابراہیم یہ کہتے ہیں:''جنرل کیانی نے مجھے کہاکہ طاہرالقادری کی پروا نہ کریں، انتخابات کرائیں۔''تو ہمیں اپنے کانوں اور آنکھوں پر یقین نہیں آتا۔ اِس کے باوصف زباں درازیوں اورالزام تراشیوں کا بے مہارسلسلہ جاری ہے۔
جنرل سے ایک معتبر ملاقاتی نے تو ہمیں یہ بھی خوشخبری سنادی ہے کہ 80فیصد امکان ہے کہ انتخابات ضرورہوں گے۔انشاء اللہ۔پھر یہ بے یقینی کاہے کی؟اِس کی بنیاد؟ گزشتہ دو روز سے جس بے رحم طریقے سے ہنگو اور لکی مروت میں نمازیوں اور سیکیورٹی فورسز کے تقریباً ستر جوانوں کو خودکش بمباروں کے ذریعے خاک وخون میں لٹایاگیاہے،کیا ہم نہیں جان سکتے کہ خونی اقدام کرنے والے یہ کون لوگ ہیں اوراُن کے اِس وحشی عمل سے پاکستانی سیاست ومعیشت پر کس قدر منفی اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا یہ شقی القلب واردات کرنے والوں کو بھی اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈالاجاسکتا ہے؟
ہم کس نوع سے تعلق رکھتے ہیں؟بدگمانی اورتہمت بازی ہماری جبلتوں کا حصہ کیوں بن گئی ہے؟ جس تھالی میں ہم کھاتے ہیں،اِسی میں سوراخ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں؟اگر انتخابات کے انعقاد کا عمل خدانخواستہ منصئہ شہود پر نہیں آتا تو یقینا اس کے ذمے دار ہمارے سیاست کار ہونگے جن میں مذہب کے نام پر سیاست کرنیوالے بھی یقینا شامل ہونگے۔ انتخابات کی آمد آمد کے موقع پرہمیں اکلوتے مقصد کے حصول کے لیے مخالفین پرگند اُچھالنے اور کردارکشی سے اعراض برتنا ہوگا۔واشنگٹن اور لندن کی اڑائی گئی پھلجھڑیوں کی رنگا رنگی سے متاثر ہوئے بغیر آگے بڑھنا ہوگا۔
طاغوت نے وطن عزیز کو رواں لمحوں میں جس طرح اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے،اِسے تارتارکرتے ہوئے اپنے سبھی ہم وطنوں کو بھی اُس کی حقیقت سے آگاہ کرنا ہوگا۔اِس میں بے وردی اور باوردی افراد کو ہاتھوں میں ہاتھ دے کر،اپنے اپنے دائرے میں رہ کر ہم منزل اور ہم قدم ہونے کے ثبوت فراہم کرنا ہوں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جنرل(ر)شاہد عزیز ایسے عناصر کی سرکوبی بھی کرنا ہوگی اور محض بے بنیاد تہمتوں کے زہرِقاتل سے خودکو محفوظ رکھنا ہوگا۔رنج اور تاسف کی بات تو یہ ہے کہ جو کل تک باوردی ہو کر ہمارے محافظ کا کردار ادا کرتا نظر آرہاتھا،آج وہی شخص کتاب لکھ کر ہمارے ازلی دشمن کے مفادات کا پاسباں نظرآرہا ہے۔
ایک کشاکش ہے جس نے غبار بن کر تقریباًسبھی دماغوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔انتخابات کے میدان میں کُودنے کی صلاحیت اور شوق رکھنے والے سیاستدان اخبار نویسوں کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے ہوئے یہی سوال کرتے نظر آرہے ہیں اور صحافی حضرات اپنے اپنے خیالات، نظریات اورقیاسات کے گھوڑے دوڑا کر خبر کی تلاش میں ہیں۔مولانا طاہرالقادری صاحب نے اپنے حصے کا دیاگیا کردار تو ضرور ادا کردیا ہے اور اِس کے کچھ اثرات بھی محسوس کیے جارہے ہیں لیکن اگلی منزل کا اُنہیں بھی نہیں معلوم اور نہ ہی اُن کے ہدایت کاراپنی بند مُٹھی کھولنے پر تیار نظر آرہے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنا متعینہ کام جاری رکھے ہوئے ہے لیکن شبہات کے چھائے بادل صاف ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔جس تواتر اور تسلسل سے کراچی میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے اور فرقہ وارایت کی آگ دہکانے کی کوششیں کی جارہی ہیں،اِس نے انتخابات کے انعقاد کے عمل کو اگرچہ غیر یقینی نہیں بنایا،پھر بھی اِس بارے میں شکوک کو ہوا ضرور دی ہے۔اِس سلسلے میں رینٹل پاور کیس کے تفتیشی افسر کامران فیصل کے بہیمانہ قتل(یاخودکشی) کو نظرانداز کیاجاسکتا ہے نہ کراچی میں جامعہ بنوریہ کے ممتاز اور محترم ترین علمائے کرام کی شہادتوں کوفراموش کرناممکن ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جن منصوبہ بند ہاتھوں نے مفتی عبدالمجید اور مفتی صالح اور اُن کے ساتھی کو ٹارگٹ کلنگ کا ہدف بنا کر ظلم ڈھایا ہے،ان ہاتھوں نے دراصل وطنِ عزیز کی اہم ترین دینی کمیونٹی کے قلب پر حملہ کر کے پاکستان کو آگ وخون کے جہنم میں دھکیلنے کی کوشش کی ہے۔اِن خون ریزہاتھوں نے اِس سے قبل بھی مولانا شامزئیؒ اور مولانا یوسف لدھیانویؒ ایسے پاکیزہ اور مبلغ نفوس کو شہید کر کے یہی آگ بھڑکانے کی کوشش کی تھی لیکن شاباش ہے جامعہ بنوری کے اساتذہ کرام اور انتظامیہ کو جنہوں نے اِن سازشی اور فسادانگیزہاتھوں کا کھلونا بننے سے صاف انکارکردیا۔کراچی میں علمائے دین کے قتلِ عام پر محمد احمد لدھیانوی صاحب نے بھی جس صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے،اِس کی تحسین نہ کرنا زیادتی ہوگی۔
بھنویں سیکڑ کر سوالات اُٹھائے جارہے ہیں کہ کیایہ خونریزسانحات کہیں اِس امر کا شاخسانہ تو نہیں کہ انتخابات کا رَن ہی نہ پڑے اور اگلے چند ہفتوں کے بعد بننے والی نگران حکومت ہی کو اگلے چند برسوں تک توسیع دے دی جائے؟اِس سلسلے میں چند بدگمان عناصر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو اپنی لپیٹ میں لینے کی کوششیں کرتے نظر آرہے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ بدگمانی سے منع کیاگیا ہے اور اللہ کے آخری رسولؐ پر اُترنے والی اللہ کی آخری کتاب میں بدگمانی کرنیوالوں کو شدیدوعید سنائی گئی ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ اِس وعید کی موجودگی میں بدگمانیوں کا سلسلہ رک جاتا لیکن حیرت خیزبات ہے کہ یہ سلسلہ رُکنے کے بجائے مسلسل آگے ہی آگے بڑھتا اور اِس کا دائرہ پھیلتا جارہا ہے۔
بدگمان عناصر کیا نہیں جانتے کہ جب کوئٹہ میں ہزارہ قبائل کے سو سے زائد جنازے،جنھیں دہشتگردوں نے چھلنی کردیاتھا،سردی میں کئی روز تک ٹھٹھرتے رہے،اُس لمحے اعانت اور دست گیری کے لیے کس ادارے کو مسلسل آوازیں دی جاتی رہیں؟اِس موقع سے آسانی کے ساتھ فائدہ اٹھایاجاسکتا تھا لیکن متعلقہ ادارہ نہ صرف مسلسل گریز پارہا بلکہ اُس نے لبیک میں ایک قدم بھی آگے بڑھانے سے انکار کردیا۔اِس کے باوصف بدگمانی کی جارہی ہے اور تہمت میں کلّوں سے جھاگ اُڑائی جارہی ہے اور اب تو سانحہ بنوریہ کے بعد ایسی ہی آوازیں کراچی سے بھی اٹھنے لگی ہیں۔ماضی میں بھی اٹھتی رہی ہیں لیکن اس بار اِن میں باقاعدگی بھی ہے اور شدت بھی زیادہ لیکن جنھیں آوازیں دی جارہی ہیں، وہ بھی خاموش ہیں۔اِس کے باوجود انتخابات کے التوا کے حوالے سے اِسی ادارے کے خلاف بَھد اُڑائی جارہی ہے۔اِس سے استفادہ کون کررہا ہے؟
گزشتہ نصف عشرے کے خالصتاً سیاسی دور میں کتنے ہی ایسے ''مہربان''لمحے فراہم کیے گئے جب سیاست کاروں کا بوریا بستر گول کیاجاسکتاتھا لیکن متعلقہ ادارہ اور اِس کا سربراہ جمہوریت کے نوخیز اور پھلتے ہوئے پودے کو بوٹوں تلے کچلنے سے دانستہ باز رہا لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ اِسے کمزوری پر محمول کیاگیا۔گزارش ہے کہ ہمیں منافقت اور دوغلے پن سے باز رہنا چاہیے اور کسی لاگ لپیٹ کے بغیر بات کہنی اور لکھنی چاہیے۔جب یہ کہاجاتا ہے کہ انتخابات کے انعقاد میں بالواسطہ اسٹیبلشمنٹ روڑے اٹکانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ کہ پاکستان میں بنگلہ دیشی ماڈل (جوناکامی پر منتج ہوا) کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں تو اِس کا واضح اشارہ فوج کی طرف جاتا ہے۔
بدنیتی اورتعصب یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ یہ بھی منہ پھاڑ کر کہہ دیاجاتا ہے کہ فوج اب بھی نوازشریف سے ناراض ہے،اِس لیے وہ میاں صاحب اور ان کی جماعت کو برسرِاقتدار آنے میں سدِ راہ ضرور بنے گی۔کیسی شرمناک بات ہے اور کہنے اور لکھنے والے کس قدر بے حجاب۔ایسے میں جہاندیدہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر)جناب فخرالدین جی ابراہیم یہ کہتے ہیں:''جنرل کیانی نے مجھے کہاکہ طاہرالقادری کی پروا نہ کریں، انتخابات کرائیں۔''تو ہمیں اپنے کانوں اور آنکھوں پر یقین نہیں آتا۔ اِس کے باوصف زباں درازیوں اورالزام تراشیوں کا بے مہارسلسلہ جاری ہے۔
جنرل سے ایک معتبر ملاقاتی نے تو ہمیں یہ بھی خوشخبری سنادی ہے کہ 80فیصد امکان ہے کہ انتخابات ضرورہوں گے۔انشاء اللہ۔پھر یہ بے یقینی کاہے کی؟اِس کی بنیاد؟ گزشتہ دو روز سے جس بے رحم طریقے سے ہنگو اور لکی مروت میں نمازیوں اور سیکیورٹی فورسز کے تقریباً ستر جوانوں کو خودکش بمباروں کے ذریعے خاک وخون میں لٹایاگیاہے،کیا ہم نہیں جان سکتے کہ خونی اقدام کرنے والے یہ کون لوگ ہیں اوراُن کے اِس وحشی عمل سے پاکستانی سیاست ومعیشت پر کس قدر منفی اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا یہ شقی القلب واردات کرنے والوں کو بھی اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈالاجاسکتا ہے؟
ہم کس نوع سے تعلق رکھتے ہیں؟بدگمانی اورتہمت بازی ہماری جبلتوں کا حصہ کیوں بن گئی ہے؟ جس تھالی میں ہم کھاتے ہیں،اِسی میں سوراخ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں؟اگر انتخابات کے انعقاد کا عمل خدانخواستہ منصئہ شہود پر نہیں آتا تو یقینا اس کے ذمے دار ہمارے سیاست کار ہونگے جن میں مذہب کے نام پر سیاست کرنیوالے بھی یقینا شامل ہونگے۔ انتخابات کی آمد آمد کے موقع پرہمیں اکلوتے مقصد کے حصول کے لیے مخالفین پرگند اُچھالنے اور کردارکشی سے اعراض برتنا ہوگا۔واشنگٹن اور لندن کی اڑائی گئی پھلجھڑیوں کی رنگا رنگی سے متاثر ہوئے بغیر آگے بڑھنا ہوگا۔
طاغوت نے وطن عزیز کو رواں لمحوں میں جس طرح اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے،اِسے تارتارکرتے ہوئے اپنے سبھی ہم وطنوں کو بھی اُس کی حقیقت سے آگاہ کرنا ہوگا۔اِس میں بے وردی اور باوردی افراد کو ہاتھوں میں ہاتھ دے کر،اپنے اپنے دائرے میں رہ کر ہم منزل اور ہم قدم ہونے کے ثبوت فراہم کرنا ہوں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جنرل(ر)شاہد عزیز ایسے عناصر کی سرکوبی بھی کرنا ہوگی اور محض بے بنیاد تہمتوں کے زہرِقاتل سے خودکو محفوظ رکھنا ہوگا۔رنج اور تاسف کی بات تو یہ ہے کہ جو کل تک باوردی ہو کر ہمارے محافظ کا کردار ادا کرتا نظر آرہاتھا،آج وہی شخص کتاب لکھ کر ہمارے ازلی دشمن کے مفادات کا پاسباں نظرآرہا ہے۔