پنٹاگان کا خوف
دنیا بھر میں اپنے فوجی اڈے رکھنے والے امریکا کو چین کے فرضی فوجی اڈوں سے کیوں خطرات لاحق ہورہے ہیں
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
دنیا کے بڑے اور طاقتور ملکوں کے درمیان اسلحے کی دوڑ اور عدم اعتماد کی ایک بڑی وجہ اپنی اجارہ داری کو لاحق ممکنہ خطرات ہوتے ہیں، یہ نفسیات دراصل سامراجی ذہنیت کی پیداوار ہیں۔ بدقسمتی سے دنیا کی جنگوں کی تاریخ عدم اعتماد کی نفسیات سے بھری ہوئی ہے اور یہ نفسیات سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کی پیداوار ہے۔امریکا موجودہ دنیا میں واحد سپر پاورکہلاتا ہے اور اگر کسی طرف سے بھی اس کی نام نہاد سپرپاوری کوکوئی خطرہ (خواہ وہ فرضی ہی کیوں نہ ہو) نظر آتا ہے تو اس کی چھٹی حس پھڑ پھڑانے لگ جاتی ہے۔
ابھی چند دن پہلے امریکی وزارت دفاع نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ چین دنیا بھر میں اپنی فوجی صلاحیت بڑھا رہا ہے ۔ چین اس مہم میں مختلف ممالک میں اپنے فوجی اڈے بناسکتا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پنٹا گان کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ کے فوجی عزائم میں اضافہ ہورہا ہے وہ امریکا کی ''برتری'' کو چیلنج کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین نے گزشتہ سال اپنی فوج پر 180 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین پاکستان جیسے عسکری اہمیت کے حامل دیرینہ دوست ممالک میں اپنے اضافی فوجی اڈے قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔ رپورٹ میں جیوتی میں چینی فوجی اڈے کے قیام کا ذکرکرتے ہوئے چین کے اگلے فوجی اڈے کے قیام کے لیے پاکستان کا نام لیا گیا ہے۔ آئی این پی کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی ترجمان چھون اینگ نے کہا ہے کہ چین پنٹا گان کی رپورٹ کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیتا ہے۔ جھوٹ پر مبنی اس رپورٹ میں چین کے دفاعی بجٹ، علاقائی اہمیت اور سیکیورٹی مفادات کے حوالے سے انتہائی غیر ذمے دارانہ بیان دیا گیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان چھون اینگ نے کہا ہے کہ چین پاکستان دوستانہ تعاون کسی تیسرے فریق کا نشانہ نہیں بن سکتا۔
اس پنٹا گونی بیان کے حوالے سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خدائی فوجدار کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ دنیا کے کسی ملک کو امریکا کی برابری کا حق حاصل نہیں۔ اقوام متحدہ کے منشور میں بھی کسی ملک کو اپنے دفاع کے حوالے سے اپنے حریف کی دفاعی مسابقت کا حق نہیں۔ اس حوالے سے اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکا اپنی نام نہاد سپر پاوری کے نفسیاتی عوارض میں اس بری طرح مبتلا ہوگیا ہے کہ اسے مکھی بھی ہاتھی نظر آنے لگتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ملکوں میں امریکا کے فوجی اڈے قائم ہیں۔ قطر سمیت بیشتر ممالک عملاً امریکا کی فوجی کالونیاں بنے ہوئے ہیں۔ جنوبی کوریا، جاپان سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں امریکا کے فوجی اڈے موجود ہیں ، جہاں ایٹمی ہتھیار بھی ڈمپ کیے گئے ہیں۔ جنوبی کوریا میں موجود امریکی اڈے امریکی فوج اور ایٹمی ہتھیار کے خوف ہی کی وجہ سے شمالی کوریا مسلسل ایٹمی تجربات کر رہا ہے۔ ایران کے خلاف امریکی مہم کا واحد مقصد یہی ہے کہ ایران اسرائیل کے لیے چیلنج نہ بن سکے یعنی مشرق وسطیٰ پر اسرائیلی اجارہ داری کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ یہ سیاست، یہ نفسیات نہ صرف دنیا کے لیے ایک چیلنج اور خطرہ ہے بلکہ اس نفسیات کے نتیجے میں دنیا جنگوں کی طرف پیش رفت کرسکتی ہے۔
بھارت چین کا حریف ہے اورامریکا کے بھارت کے ساتھ فوجی معاہدے موجود ہیں جو چین کے ممکنہ فوجی اڈوں سے زیادہ خطرناک ہیں لیکن پنٹا گان کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا وہ دوسروں کی آنکھ کے تنکے تلاش کرتا رہتا ہے ۔ چین اپنی آزادی کے بعد سے کبھی کسی جارحانہ کارروائی میں ملوث نہیں رہا۔ ماؤ اور چواین لائی کے دور سے چھین کر امن بقائے باہمی کی سیاست پرکار بند رہا ہے اور اس کی ساری توجہ اپنی قومی ترقی پر مرکوز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی منڈیاں چینی مصنوعات سے اٹی پڑی ہیں۔
دنیا بھر میں اپنے فوجی اڈے رکھنے والے امریکا کو چین کے فرضی فوجی اڈوں سے کیوں خطرات لاحق ہورہے ہیں۔امریکا کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے کسی دوسرے ملک کے دفاعی اخراجات پر تشویش کا اظہار کرے۔ امریکا کی ساری تاریخ بلا جواز فوجی جارحیت سے بھری ہوئی ہے۔ کوریا، ویت نام کی جنگوں میں مارے جانے والے بے گناہ انسانوں کے خون ناحق کا ذمے دار کون ہے۔ ویت نام کی تاریخی جارحانہ جنگ میں جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گراکر کروڑوں انسانوں کو جلادینے والے امریکا کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ کسی کو فوجی طاقت کے حوالے سے ہم پلہ نہ ہونے دے۔
عراق پر ایک جھوٹے الزام کے تحت وحشیانہ حملہ کرکے لاکھوں عراقیوں کو ہلاک کرنے والے امریکا کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ اپنے دفاع کو اغیار سے مضبوط بنانے والے ملکوں کو وارننگ دے اور تشویش کا اظہار کرے۔ بے شک دنیا کا کوئی ذی ہوش انسان ہتھیاروں کی دوڑ کی حمایت نہیں کرسکتا لیکن کوئی ذی ہوش انسان کسی ملک کو یہ اختیار بھی نہیں دے سکتا کہ وہ طاقت کا سوداگر بنارہے اور دوسرے ملکوں پر دفاع پر بے تحاشا سرمایہ خرچ کرنے کے جھوٹے الزامات لگائے۔ پنٹا گان کو شک ہے کہ چین پاکستان میں اپنا کوئی فوجی اڈہ نہ بنالے۔ کیا بڈ بیر میں اپنا فوجی اڈہ بناتے وقت امریکا کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ ایک آزاد اور خود مختار ملک میں کس مقصد کے ساتھ اپنا فوجی اڈا بنارہا ہے۔ کیا امریکا کے حکمرانوں کو یاد نہیں کہ انھوں نے بندوق کی نوک پر پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف مہم میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بناکر رکھ دیا۔ پاکستان کے عوام بیدار ہیں وہ نہ امریکا کو اپنے ملک میں کوئی فوجی اڈا بنانے دیں گے، نہ چین کو کوئی افوجی اڈہ بنانے دیں گے۔
ابھی چند دن پہلے امریکی وزارت دفاع نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ چین دنیا بھر میں اپنی فوجی صلاحیت بڑھا رہا ہے ۔ چین اس مہم میں مختلف ممالک میں اپنے فوجی اڈے بناسکتا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پنٹا گان کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ کے فوجی عزائم میں اضافہ ہورہا ہے وہ امریکا کی ''برتری'' کو چیلنج کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین نے گزشتہ سال اپنی فوج پر 180 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین پاکستان جیسے عسکری اہمیت کے حامل دیرینہ دوست ممالک میں اپنے اضافی فوجی اڈے قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔ رپورٹ میں جیوتی میں چینی فوجی اڈے کے قیام کا ذکرکرتے ہوئے چین کے اگلے فوجی اڈے کے قیام کے لیے پاکستان کا نام لیا گیا ہے۔ آئی این پی کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی ترجمان چھون اینگ نے کہا ہے کہ چین پنٹا گان کی رپورٹ کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیتا ہے۔ جھوٹ پر مبنی اس رپورٹ میں چین کے دفاعی بجٹ، علاقائی اہمیت اور سیکیورٹی مفادات کے حوالے سے انتہائی غیر ذمے دارانہ بیان دیا گیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان چھون اینگ نے کہا ہے کہ چین پاکستان دوستانہ تعاون کسی تیسرے فریق کا نشانہ نہیں بن سکتا۔
اس پنٹا گونی بیان کے حوالے سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خدائی فوجدار کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ دنیا کے کسی ملک کو امریکا کی برابری کا حق حاصل نہیں۔ اقوام متحدہ کے منشور میں بھی کسی ملک کو اپنے دفاع کے حوالے سے اپنے حریف کی دفاعی مسابقت کا حق نہیں۔ اس حوالے سے اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکا اپنی نام نہاد سپر پاوری کے نفسیاتی عوارض میں اس بری طرح مبتلا ہوگیا ہے کہ اسے مکھی بھی ہاتھی نظر آنے لگتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ملکوں میں امریکا کے فوجی اڈے قائم ہیں۔ قطر سمیت بیشتر ممالک عملاً امریکا کی فوجی کالونیاں بنے ہوئے ہیں۔ جنوبی کوریا، جاپان سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں امریکا کے فوجی اڈے موجود ہیں ، جہاں ایٹمی ہتھیار بھی ڈمپ کیے گئے ہیں۔ جنوبی کوریا میں موجود امریکی اڈے امریکی فوج اور ایٹمی ہتھیار کے خوف ہی کی وجہ سے شمالی کوریا مسلسل ایٹمی تجربات کر رہا ہے۔ ایران کے خلاف امریکی مہم کا واحد مقصد یہی ہے کہ ایران اسرائیل کے لیے چیلنج نہ بن سکے یعنی مشرق وسطیٰ پر اسرائیلی اجارہ داری کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ یہ سیاست، یہ نفسیات نہ صرف دنیا کے لیے ایک چیلنج اور خطرہ ہے بلکہ اس نفسیات کے نتیجے میں دنیا جنگوں کی طرف پیش رفت کرسکتی ہے۔
بھارت چین کا حریف ہے اورامریکا کے بھارت کے ساتھ فوجی معاہدے موجود ہیں جو چین کے ممکنہ فوجی اڈوں سے زیادہ خطرناک ہیں لیکن پنٹا گان کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا وہ دوسروں کی آنکھ کے تنکے تلاش کرتا رہتا ہے ۔ چین اپنی آزادی کے بعد سے کبھی کسی جارحانہ کارروائی میں ملوث نہیں رہا۔ ماؤ اور چواین لائی کے دور سے چھین کر امن بقائے باہمی کی سیاست پرکار بند رہا ہے اور اس کی ساری توجہ اپنی قومی ترقی پر مرکوز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی منڈیاں چینی مصنوعات سے اٹی پڑی ہیں۔
دنیا بھر میں اپنے فوجی اڈے رکھنے والے امریکا کو چین کے فرضی فوجی اڈوں سے کیوں خطرات لاحق ہورہے ہیں۔امریکا کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے کسی دوسرے ملک کے دفاعی اخراجات پر تشویش کا اظہار کرے۔ امریکا کی ساری تاریخ بلا جواز فوجی جارحیت سے بھری ہوئی ہے۔ کوریا، ویت نام کی جنگوں میں مارے جانے والے بے گناہ انسانوں کے خون ناحق کا ذمے دار کون ہے۔ ویت نام کی تاریخی جارحانہ جنگ میں جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گراکر کروڑوں انسانوں کو جلادینے والے امریکا کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ کسی کو فوجی طاقت کے حوالے سے ہم پلہ نہ ہونے دے۔
عراق پر ایک جھوٹے الزام کے تحت وحشیانہ حملہ کرکے لاکھوں عراقیوں کو ہلاک کرنے والے امریکا کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ اپنے دفاع کو اغیار سے مضبوط بنانے والے ملکوں کو وارننگ دے اور تشویش کا اظہار کرے۔ بے شک دنیا کا کوئی ذی ہوش انسان ہتھیاروں کی دوڑ کی حمایت نہیں کرسکتا لیکن کوئی ذی ہوش انسان کسی ملک کو یہ اختیار بھی نہیں دے سکتا کہ وہ طاقت کا سوداگر بنارہے اور دوسرے ملکوں پر دفاع پر بے تحاشا سرمایہ خرچ کرنے کے جھوٹے الزامات لگائے۔ پنٹا گان کو شک ہے کہ چین پاکستان میں اپنا کوئی فوجی اڈہ نہ بنالے۔ کیا بڈ بیر میں اپنا فوجی اڈہ بناتے وقت امریکا کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ ایک آزاد اور خود مختار ملک میں کس مقصد کے ساتھ اپنا فوجی اڈا بنارہا ہے۔ کیا امریکا کے حکمرانوں کو یاد نہیں کہ انھوں نے بندوق کی نوک پر پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف مہم میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بناکر رکھ دیا۔ پاکستان کے عوام بیدار ہیں وہ نہ امریکا کو اپنے ملک میں کوئی فوجی اڈا بنانے دیں گے، نہ چین کو کوئی افوجی اڈہ بنانے دیں گے۔