مجھے پی سی بی میں جاب دلا دو

عبدالقادر کو بھی کوچنگ وغیرہ کی ذمہ داریاں ملیں لیکن ان کی نیچر الگ قسم کی ہے

عبدالقادر کو بھی کوچنگ وغیرہ کی ذمہ داریاں ملیں لیکن ان کی نیچر الگ قسم کی ہے

''سنا ہے تہماری بڑی دوستیاں ہیں بورڈ میں،ذرا مجھے بھی کوئی جاب دلا دو ناں''

عید پر ایک سابق کرکٹر سے بات ہورہی تھی جب انھوں نے مجھ سے یہ کہا تو میں نے ان کی معلومات درست کرتے ہوئے بتایا کہ نجم سیٹھی اور شہریارخان میری تحریروں سے سخت نالاں رہتے اور اگر میں نے آپ کی سفارش کردی توکام مزید خراب ہو جائے گا، اس پر انھوں نے کہا کہ '' حکام کی نظروں میں نمایاں ہونے کا کوئی اچھا سا طریقہ بتاؤ، ٹی وی پربیٹھ کر کئی بار تعریفیں کیں ، اخبارات میں بورڈ آفیشلز کیلیے ستائشی بیانات بھی دیے مگر کسی نے لفٹ نہ کرائی'' میں نے ان سے کہا یہی تو آپ سے غلطی ہوئی تعریفوں کی جگہ برائیاں کرتے تو فوراً نظروں میں آتے فلاں فلاں کرکٹر کو دیکھ لیں وہ ایسے ہی سامنے آئے، اب وہ حیران ہو کر کہنے لگے '' برائیوں پر بورڈ والے ناراض نہیں ہوں گے'' تو میں نے جواب دیا یہی تو بات ہے اس کا الٹا اثر ہو گا،پھر ملازمت مل جائے تو تعریفیں کرنے کے پیسے دیے جائیںگے '' تو پھر سرفراز نواز،عبدالقادر ، جاوید میانداد،محسن خان اور عامر سہیل کیوں تنقید کرنے کے باوجود حکام کی نظروں میں نہ آئے'' یہ ان کا اگلا سوال تھا ، ان میں سے ابتدائی تینوں پہلے پی سی بی میں رہ چکے۔

سرفراز کو کوچنگ کا کام ملا جب تک چیک آتا رہا وہ چپ تھے جب بند ہوا تو پھر شور مچانے لگے، میانداد بطور ڈائریکٹر جنرل پی سی بی سے کروڑوں روپے وصول کر چکے اس وقت تک سب ٹھیک تھا ، جب عہدے سے ہٹے تو برائیاں نظر آنے لگیں،اب وہ بڑی پوسٹ چاہتے ہیں ظاہر ہے وہ ملے گی نہیں، عبدالقادر کو بھی کوچنگ وغیرہ کی ذمہ داریاں ملیں لیکن ان کی نیچر الگ قسم کی ہے، وہ سیٹ پر بھی ہوں مگر کوئی غلط بات دیکھیں تو اعتراض جڑ دیں گے، اس لیے حکام کی آنکھ کا تارا نہیں رہتے، اسی طرح عامر سہیل بالکل مختلف شخصیت اور ان سابق کرکٹرز میں شامل نہیں جنھیں نوازا جائے تو چپ کر کے بیٹھ جائیں گے، بس کبھی کبھی ایسی باتیں کر جاتے ہیں جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے جیسے چیمپئنز ٹرافی میں سرفراز احمد کیخلاف بے سروپا بیان دے دیا، محسن خان کو کوچ بننے میں دلچسپی ہے اور بورڈ انھیں یہ ذمہ داری سونپنا نہیں چاہتا۔ ویسے آپ کیوں بورڈ میں آنا چاہتے ہیں، ماشااﷲ پہلے ہی خاصی رقم کما چکے ہیں،''پھر تو نجم سیٹھی بھی ارب پتی ہیں۔


کئی کاروبار چل رہے ہیں، ایزد سید پیپر مل کے مالک ہیں وہ بھی کیوں بورڈ بھی ہیں؟ بھائی ہم کرکٹرز کے سارے ٹھاٹھ باٹ ٹیم میں ہونے تک ہی رہتے ہیں پھر کوئی نہیں پوچھتا، اب تو لوگوں کو بتانا پڑتا ہے کہ فلاں سال ایسا پرفارم کیا تھا، اب تم سے کیا چھپانا مجھے ٹیم میں رہتے ہوئے مفت کے ٹورز، بڑے ہوٹلز میں قیام اور الاؤنس وغیرہ کی عادت پڑ گئی تھی، اب جیب سے پیسے خرچ کرتے ہوئے بڑی تکلیف ہوتی ہے، میں نے تمہارے کالمز میں پڑھا کہ بورڈ کے تمام اعلیٰ آفیشلز چیمپئنز ٹرافی کیلیے انگلینڈ گئے تھے''جی یہ بات درست ہے ، شہریارخان، نجم سیٹھی،سبحان احمد، امجد حسین بھٹی، عثمان واہلہ، رضا راشد، عون زیدی سمیت کئی لوگوں نے ٹور کیا اور بورڈ کے خزانے سے کروڑوں روپے خرچ ہوئے مگر چونکہ ٹیم جیت گئی اس لیے یہ معاملہ دب گیا اور کسی نے شور نہ مچایا،دونوں بڑے ابھی تک لندن میں ہی ہیں ''تو کیا ہمارا دل نہیں ، ہم کیوں نہ ایسے مفت کے ٹورز کریں، پھر اگر ٹیم آفیشلز میں شامل ہوں تو گھر بیٹھے لاکھوں روپے کا انعام بھی مل جائے جیسے ابھی اخبارات میں فہرست دیکھی، بعض ایسے افراد جن کا چیمپئنز ٹرافی کی فتح سے دور دور تک تعلق نہیں انھیں بھی وزیر اعظم 50 لاکھ روپے دے رہے ہیں، کوچ مکی آرتھر کے بھی 5 ملین اور سیکیورٹی آفیسر کے لیے بھی 5 ملین، واہ واہ کیا انصاف ہے'' انھوں نے طنزیہ لہجے میں کہا تو میں نے ایک بار پھر ان کی معلومات درست کرتے ہوئے بتایا کہ50 نہیں بعض آفیشلز کو 25 لاکھ روپے ملیں گے۔

حکومت یا بورڈ کو میڈیا کے توجہ دلانے پر اگلے ہی دن غلطی کا احساس ہو گیا تھا، فہرست پی سی بی نے ہی بھیجی تھی اور آفیشلز اپنے لوگوں کو نوازنا نہ بھولے،'' بس اب تم دیکھو میں کیا کرتا ہوں، حکام کو میڈیا میں خوب آڑے ہاتھوں لوں گا، پھر شاید مجھے بھی کوئی ملازمت مل جائے، ویسے بورڈ میں معاملات اتنے خراب چل رہے ہیں کہ تنقید کرنا کوئی مسئلہ ہی نہیں، مگر میں فٹ کون سی پوسٹ پر ہوں گا ، دیگر لوگ کئی پوسٹ پر پہلے ہی قابض ہو چکے''انھوں نے سوال داغا تو میں نے جواب دیا کہ یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہارون رشید کو نجم سیٹھی نے بورڈ میں واپس لانے کا فیصلہ کیا تو نئی پوسٹ تخلیق کر کے لے آئے، آپ کو بھی لانا چٹکی بجانے جیسا کام ہوگا،میں نے ان کے خیالی پلاؤ کو مزید آنچ دیتے ہوئے جب یہ کہا تو وہ خوش ہو گئے اور کہنے لگے ''چلو گڈ ہو گیا تم سے بات کر کے اچھا لگا، تم نے اتنی کام کی باتیں بتائیں اب میں بھی کچھ مشورہ دیتا ہوں۔

ذرا ہاتھ ہلکا رکھاکرو، دوستیاں بناؤ'' آپ کے مشورے کا شکریہ لیکن اب میں کسی کی تعریف بھی کروں تو مسئلہ ہو جاتا ہے، جیسے چیمپئنز ٹرافی میں ایک آفیشل کے اچھے کام کو سراہا تو وہ لوگوں سے شکایتیں کرنے لگا کہ ان سے کہیں میری تعریف نہ کریں میرے باس سمجھتے ہیں کہ انھیں نیچا دکھانے کیلیے میں خودکہہ کر اپنے لیے ستائشی جملے لکھوا رہا اور ان کی برائی کروا رہا ہوں،اس سے میرے لیے مسائل مزید بڑھ گئے،''ہا ہا کیا واقعی'' انھوں نے مجھ سے کہا تو میںکہنے لگا کہ جی یہ کوئی مذاق کی بات نہیں تھی، ویسے بھی آپ جیسے بیشتر سابق کرکٹرز تو اب بورڈ کے ساتھ مل گئے، گنتی کے ہی چند نیوٹرل لوگ بچے ہیں، ایسے میں ہم صحافیوں کو تو اپنا کام کرنے دیں، '' ویسے اب تم لوگ کہہ بھی کیا سکتے ہو، ٹیم تو چیمپئنز ٹرافی جیت چکی، اس میں آفیشلز کا ہی تو کردار ہے'' ان سابق کرکٹر نے جب یہ کہا تو میرا جواب تھا کہ یہ کامیابی سرفراز احمد ، حسن علی ، فخر الزماں اور دیگر تمام کھلاڑیوں کی ہے، کم از کم اس کا کریڈٹ تو نجم سیٹھی و دیگر کو نہ دیں،'' ارے تم سمجھے نہیں دراصل میں نے ابھی سے پریکٹس شروع کر دی ہے،پہلے تعریف کر کے دیکھتا ہوں، پھر تمہارا مشورہ مان کر تنقید کروں گا،شاید کوئی نوٹس لے ہی لے، ہاں ایک بات کا ابھی سے وعدہ کرو جب میں بورڈ میں آیا تو یہ ساری باتیں کالم میں نہیں لکھو گے، اگر لکھو بھی تو میرا نام یا کوئی اشارہ نہ دینا'' ٹھیک ہے آپ کا نام نہیں آئے گا، اسی پر بات ختم ہو گئی اور میں یہ سوچنے لگا کہ انھیں مشورہ دینا ٹھیک تھا یا غلط۔
Load Next Story