ملک میں بارشیں ہوئیں کیا کیا
بڑے بڑے فلائی اوورز کے دونوں اطراف تالاب اور پانی کے ریلوں کا سلسلہ جاری رہا
بڑے بڑے فلائی اوورز کے دونوں اطراف تالاب اور پانی کے ریلوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ فوٹو/ آن لائن/فائل
فزیکل ٹاؤن پلانرز کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے نہ صرف حکومتی اقدامات اور غربت و امارت کے مظہر شہروں کی انتظامی قلعی کھل جاتی ہے بلکہ بیشتر ترقی پذیر ملکوں کی مقامی حکومتوں اور شہری اداروں کی نااہلی، بے تدبیری اور فطرت کے سامنے ان کی بے بسی بھی میڈیا کی زینت بن جاتی ہے، اور اس ضمن میں مملکت خداداد کو اس لیے ایک غیر معمولی امتیاز حاصل ہے کہ 70 برس گزر جانے کے بعد بھی ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نکاسیٔ آب ، ٹرانسپورٹ و بجلی کا نظام مستحکم ہوسکا اور نہ پینے کے پانی کی فراہمی، بیماریوں اور سیلابوں کی روک تھام کا کوئی ٹھوس سسٹم ملکی پلاننگ کا حصہ بن سکا، جوافسر شاہانہ عدم دلچسپی کی روایات برسوں سے تھیں وہ آج بھی ہیں جس کے باعث دو گھنٹے کی بارش سے شہری زندگی مفلوج ہوجاتی ہے ، جگہ جگہ سوئمنگ پول بن جاتے ہیں، پھر وزیروں کے مگر مچھ کے آنسو بہاتے اور دل بہلاتے ہوئے بیانات آنے لگتے ہیں، امداد ، ریلیف اور ریسکیو کے ڈرامے رچائے جاتے ہیں، اس بار اگرچہ بارشوں سے شدید گرمی سے نجات کی صورت نکلی ضرور ، مگر دیکھنا یہ ہے کہ آیندہ چند دنوں اور ہفتوں میں سیلاب سے بچاؤ کی سندھ حکومت ،خیبر پختونخوا ، بلوچستان اور پنجاب کے متعلقہ محکمے کتنی موثر تدبیریں کرتے ہیں۔
پچھلی بارشوں میں سندھ سیلاب سے شدید متاثر ہوا، لاکھوںایکڑ اراضی اور فصلیں تباہ جب کہ ہزاروں خاندان دربدر ہوئے، مون سون کی بارشوں سے نکاسی آب کے نظام کی مکمل تباہی نے شہریوں کے لیے سخت دشواریاں پیدا کیں، رات بھر شہری اپنی گاڑیاں پانی میں چھوڑ کر پیدل گھروں تک پہنچے۔
کراچی میں باران رحمت مقامی اور صوبائی حکومتوں کی چپقلش ، فنڈز کی عدم دستیابی کے شکوؤں اور مفلوج بلدیاتی نظام کی وجہ سے باعث زحمت بنادیا گیا، ہلاکتیں بھی ہوئیں، انڈر پاسز میں بچوں کے ڈوبنے کی درد انگیز اطلاعات ملیں ،اسی طرح ملک کے دیگر شہروں اور اندرون سندھ طوفانی بارش نے شہری زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا، بارش کے دوران کے الیکٹرک کا نظام بھی معطل جب کہ شہر کا بڑا حصہ بجلی سے محروم رہا۔ اہم شاہراہیں زیر آب آگئیں، اندرونی سڑکوں اور نشیبی گلیوں کی صورتحال بھی نہایت ابتر ہوگئی۔
بڑے بڑے فلائی اوورز کے دونوں اطراف تالاب اور پانی کے ریلوں کا سلسلہ جاری رہا، برساتی پانی جمع ہونے اور گٹر ابلنے سے سڑکوں پر گھٹنوں گھٹنوں پانی جمع ہوگیا ، برسوں سے جن علاقوں میں پانی کھڑا ہوجاتا تھا اس بار بھی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، کچی آبادیاں اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں، وہاں سے گزرنا عذاب ہوگیا ہے، کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کے دوران کرنٹ لگنے کے واقعات میں4 افراد جاں بحق ، لاہور سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش کا سلسلہ جمعرات کو تیسرے روز بھی وقفے وقفے سے جاری رہا، چھتیں، آسمانی بجلی گرنے اور ڈوبنے سے مزید7 افراد جاں بحق، متعدد زخمی ہو گئے، بجلی کا ترسیلی نظام درہم برہم رہا ، بلوچستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ،کچے مکانات کو نقصان پہنچا جب کہ ٹماٹر اور پیاز کی فصل تباہ ہو گئی، ندی نالوں میں سیلاب اور طغیانی کے باعث قریبی علاقوں اور اندورن ملک رابطہ منقطع ہوگیا ، خیبر پختونخوا میں بھی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔
دوسری جانب وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں مون سون بارشوںکے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں مون سون کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ملکی سطح پرتیاریوںکا ازسرنوجائزہ لیاگیا ۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ بارشوں اور سیلابوں کی روک تھام کے لیے ماہرین آبپاشی، وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کو شفاف اور کثیر المقاصد منصوبے بنانے چاہئیں، ڈیم اور آبی ذخائر بنانے کی ضرورت ہے اور سب سے زیادہ اس منجمد مائنڈ سیٹ کے بدلنے کی جو ہر مون سون کی بارش سے پہلے ریت میں منہ چھپاتا ہے۔ہمیں اعلیٰ سطح سے لے کر نچلی سطح تک خود احتسابی کی ضرورت ہے ' اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ انگریزوں کے عہد تک کراچی 'لاہور 'پشاور اور کوئٹہ جیسے شہر سہولتوں کے اعتبار سے آئیڈیل تھے 'ان شہروں میں سیوریج کا نظام بھی بہتر تھا اور اس وقت کے حساب سے ٹرانسپورٹ بھی بہتر حالت میں موجود تھی۔ نکاسی آب کا نظام بھی بہترین حالت میں تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ آزادی کے بعد ہم تنزلی کا شکار ہوئے۔
پچھلی بارشوں میں سندھ سیلاب سے شدید متاثر ہوا، لاکھوںایکڑ اراضی اور فصلیں تباہ جب کہ ہزاروں خاندان دربدر ہوئے، مون سون کی بارشوں سے نکاسی آب کے نظام کی مکمل تباہی نے شہریوں کے لیے سخت دشواریاں پیدا کیں، رات بھر شہری اپنی گاڑیاں پانی میں چھوڑ کر پیدل گھروں تک پہنچے۔
کراچی میں باران رحمت مقامی اور صوبائی حکومتوں کی چپقلش ، فنڈز کی عدم دستیابی کے شکوؤں اور مفلوج بلدیاتی نظام کی وجہ سے باعث زحمت بنادیا گیا، ہلاکتیں بھی ہوئیں، انڈر پاسز میں بچوں کے ڈوبنے کی درد انگیز اطلاعات ملیں ،اسی طرح ملک کے دیگر شہروں اور اندرون سندھ طوفانی بارش نے شہری زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا، بارش کے دوران کے الیکٹرک کا نظام بھی معطل جب کہ شہر کا بڑا حصہ بجلی سے محروم رہا۔ اہم شاہراہیں زیر آب آگئیں، اندرونی سڑکوں اور نشیبی گلیوں کی صورتحال بھی نہایت ابتر ہوگئی۔
بڑے بڑے فلائی اوورز کے دونوں اطراف تالاب اور پانی کے ریلوں کا سلسلہ جاری رہا، برساتی پانی جمع ہونے اور گٹر ابلنے سے سڑکوں پر گھٹنوں گھٹنوں پانی جمع ہوگیا ، برسوں سے جن علاقوں میں پانی کھڑا ہوجاتا تھا اس بار بھی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، کچی آبادیاں اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں، وہاں سے گزرنا عذاب ہوگیا ہے، کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کے دوران کرنٹ لگنے کے واقعات میں4 افراد جاں بحق ، لاہور سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش کا سلسلہ جمعرات کو تیسرے روز بھی وقفے وقفے سے جاری رہا، چھتیں، آسمانی بجلی گرنے اور ڈوبنے سے مزید7 افراد جاں بحق، متعدد زخمی ہو گئے، بجلی کا ترسیلی نظام درہم برہم رہا ، بلوچستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ،کچے مکانات کو نقصان پہنچا جب کہ ٹماٹر اور پیاز کی فصل تباہ ہو گئی، ندی نالوں میں سیلاب اور طغیانی کے باعث قریبی علاقوں اور اندورن ملک رابطہ منقطع ہوگیا ، خیبر پختونخوا میں بھی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔
دوسری جانب وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں مون سون بارشوںکے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں مون سون کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ملکی سطح پرتیاریوںکا ازسرنوجائزہ لیاگیا ۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ بارشوں اور سیلابوں کی روک تھام کے لیے ماہرین آبپاشی، وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کو شفاف اور کثیر المقاصد منصوبے بنانے چاہئیں، ڈیم اور آبی ذخائر بنانے کی ضرورت ہے اور سب سے زیادہ اس منجمد مائنڈ سیٹ کے بدلنے کی جو ہر مون سون کی بارش سے پہلے ریت میں منہ چھپاتا ہے۔ہمیں اعلیٰ سطح سے لے کر نچلی سطح تک خود احتسابی کی ضرورت ہے ' اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ انگریزوں کے عہد تک کراچی 'لاہور 'پشاور اور کوئٹہ جیسے شہر سہولتوں کے اعتبار سے آئیڈیل تھے 'ان شہروں میں سیوریج کا نظام بھی بہتر تھا اور اس وقت کے حساب سے ٹرانسپورٹ بھی بہتر حالت میں موجود تھی۔ نکاسی آب کا نظام بھی بہترین حالت میں تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ آزادی کے بعد ہم تنزلی کا شکار ہوئے۔