سرکاری اسکولوں کونجی پارٹیوں کےحوالے کرنےکیلیےریکارڈ غائب کرنے کا انکشاف
محکمہ تعلیم آج گرلزاسکول ہاشم گھانچی کے معاملے پرعدالت سے رجوع کریگا.
کریم آباد میںمحکمہ تعلیم کے دفترکے لیگل سیکشن سے اسکولزفائل غائب کی گئیں،محکمہ تعلیم آج گرلزاسکول ہاشم گھانچی کے معاملے پرعدالت سے رجوع کریگا. فوٹو : فائل
کراچی کے سرکاری اسکولوںکو نجی پارٹیوں کے حوالے کرنے کی منظم انداز میں منصوبہ بندی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میںہفتہ وار تعطیل کے باوجودکریم آباد میں واقع محکمہ تعلیم کے دفترکے لیگل سیکشن کو کھول کر سرکاری اسکولوںکی فائلوںکی چھان بین اور انھیں غائب کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے،ادھر معلوم ہوا ہے کہ سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو نے واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد معاملے کا سخت نوٹس لیا ہے، صوبائی محکمہ تعلیم نے گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول ہاشم گھانچی کو بچانے کیلیے آج پیرکو اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایک سرکاری افسر نے ''ایکسپریس''کو بتایا کہ محکمہ تعلیم کے ایک نچلے گریڈ کے ملازم ہارون کی جانب سے گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول ہاشم گھانچی کے مقدمے کی کارروائی سے محکمے کولاعلم رکھے جانے اور اسکول میں تالے ڈال کرتدریس روکنے کے واقعے کا سیکریٹری تعلیم نے سخت نوٹس لیا ہے ، اعلیٰ افسرکا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ضروری دستاویزات منگوالی گئی ہیں اور آج پیرکو اس سلسلے میں اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا جائے گا جبکہ تعطیل کے باوجود ہفتہ کوکریم آباد میں محکمہ تعلیم کے دفترکا لیگل سیکشن کھول کر فائلوں کی چھان بین کرنے کے معاملے کی بھی تحقیقات کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ہفتہ کوتعطیل کے باوجود محکمہ تعلیم کے ''لیٹیگیشن سیکشن''کا کریم آباد فیڈرل بی ایریامیں واقع دفترکھولا گیا، متعلقہ سیکشن میں کام کرنیوالے پرائمری اسکول ٹیچرہارون اورسیکریٹریٹ میں اکیڈمک اینڈ ٹریننگ سیکشن میں ایس اوکی اسامی پرتعینات محمد حسین اس موقع پرسرکاری اسکولوںکی فائلوںکی چھان بین کرتے رہے،واضح رہے کہ اس سیکشن میںکراچی کے تمام سرکاری اسکولوں کی قانونی فائلیں موجود ہوتی ہیں۔
قابل ذکرامریہ ہے کہ اس تمام صورتحال سے متعلقہ برانچ کے افسران اورکریم آباد کے دفترمیں کام کرنیوالے دیگرافسران لاعلم رہے، معاملے کو انتہائی صیغہ راز میں رکھاگیا ہے ،ذرائع کاکہناہے کہ اس موقع پرگھانچی اسکول سمیت دیگراسکولوں کی فائلیں بھی غائب کردی گئی ہیں اورآئندہ چند روزمیں کراچی کے کسی اورسرکاری اسکول کونجی پارٹی کے حوالے کیے جانے کا واقعہ سامنے آسکتا ہے ۔
اس سلسلے میںہفتہ وار تعطیل کے باوجودکریم آباد میں واقع محکمہ تعلیم کے دفترکے لیگل سیکشن کو کھول کر سرکاری اسکولوںکی فائلوںکی چھان بین اور انھیں غائب کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے،ادھر معلوم ہوا ہے کہ سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو نے واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد معاملے کا سخت نوٹس لیا ہے، صوبائی محکمہ تعلیم نے گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول ہاشم گھانچی کو بچانے کیلیے آج پیرکو اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایک سرکاری افسر نے ''ایکسپریس''کو بتایا کہ محکمہ تعلیم کے ایک نچلے گریڈ کے ملازم ہارون کی جانب سے گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول ہاشم گھانچی کے مقدمے کی کارروائی سے محکمے کولاعلم رکھے جانے اور اسکول میں تالے ڈال کرتدریس روکنے کے واقعے کا سیکریٹری تعلیم نے سخت نوٹس لیا ہے ، اعلیٰ افسرکا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ضروری دستاویزات منگوالی گئی ہیں اور آج پیرکو اس سلسلے میں اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا جائے گا جبکہ تعطیل کے باوجود ہفتہ کوکریم آباد میں محکمہ تعلیم کے دفترکا لیگل سیکشن کھول کر فائلوں کی چھان بین کرنے کے معاملے کی بھی تحقیقات کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ہفتہ کوتعطیل کے باوجود محکمہ تعلیم کے ''لیٹیگیشن سیکشن''کا کریم آباد فیڈرل بی ایریامیں واقع دفترکھولا گیا، متعلقہ سیکشن میں کام کرنیوالے پرائمری اسکول ٹیچرہارون اورسیکریٹریٹ میں اکیڈمک اینڈ ٹریننگ سیکشن میں ایس اوکی اسامی پرتعینات محمد حسین اس موقع پرسرکاری اسکولوںکی فائلوںکی چھان بین کرتے رہے،واضح رہے کہ اس سیکشن میںکراچی کے تمام سرکاری اسکولوں کی قانونی فائلیں موجود ہوتی ہیں۔
قابل ذکرامریہ ہے کہ اس تمام صورتحال سے متعلقہ برانچ کے افسران اورکریم آباد کے دفترمیں کام کرنیوالے دیگرافسران لاعلم رہے، معاملے کو انتہائی صیغہ راز میں رکھاگیا ہے ،ذرائع کاکہناہے کہ اس موقع پرگھانچی اسکول سمیت دیگراسکولوں کی فائلیں بھی غائب کردی گئی ہیں اورآئندہ چند روزمیں کراچی کے کسی اورسرکاری اسکول کونجی پارٹی کے حوالے کیے جانے کا واقعہ سامنے آسکتا ہے ۔