لیاری 5تھانوں کی چھت پر جدید ہتھیار نصب کرنیکا فیصلہ

چاکیواڑہ ، کلاکوٹ ، بغدادی ،کلری اور نیپئر تھانے کی چھت پر لائٹ مشین گنیں اور ہیوی سرچ لائٹس نصب کی جائیں گی.

لیاری ٹائون کے تھانوں کے افسران سے گینگ وار کے ملزمان کی گرفتاری ظاہرنہیں کرائی جاتی، ڈی آئی جی ویسٹ نے11 خطرناک ملزمان کی گرفتاری پریس کانفرنس میں ظاہر کی۔ فوٹو: فائل

کراچی پولیس کے اعلیٰ افسر نے لیاری ٹاؤن کے5تھانوں کی چھتوں اور وہاں قائم مورچوں پر لائٹ مشین گن سمیت دیگر بڑے ہتھیار اور ہیوی سرچ لائٹس نصب کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔

ڈی آئی جی ویسٹ جاوید عالم اوڈھو نے ٹھٹھہ سے کراچی آتے ہوئے رینجرز کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے والے11 لیاری گینگ وار کے ملزمان کی گرفتاری ایک پریس کانفرنس میں ظاہر کر دی ، ملزمان کے قبضے سے بھاری اسلحہ اور دستی بم برآمد ہو ئے ہیں ، ملزمان نے ابتدائی تفیتش میں پولیس اہلکاروں اور سیاسی جماعت کے کارکنوں سمیت39 افراد کے قتل کا اعتراف کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی سٹی پولیس کے اعلیٰ افسر نے لیاری ٹائون کے تھانوں چاکیواڑہ ، کلاکوٹ ، بغدادی ، کلری اور نپیئر تھانے کی چھت اور تھانوں کے اطراف میں قائم مورچوں پر لائٹ مشین گن کے ساتھ ہیوی سرچ لائٹس نصب کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جبکہ تھانوں کے مرکزی گیٹ کے ساتھ بیرئیر لگانے اور وہاں قائم مورچوں میں 24 گھنٹے چاق وچوبند اہلکاروں کو تعینات کرنے کی ہدایت دی ہے جبکہ مذکورہ تھانوں کے ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو بغیر اطلاع کے علاقہ نہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہیں جبکہ تھانوں کی سطح پر قائم انٹیلی جینس نیٹ ورک تیز کر کے علاقے کی مکمل رپورٹ بھی طلب کی گئی ہیں۔




آئی جی سندھ کی زیر صدارت پولیس ہیڈ آفس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شہر میں بھتہ خوروں ، ٹارگٹ کلر اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا جس میں سٹی ایریا کے افسران نے آئی جی سندھ کو اپنے خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ لیاری ٹاؤن میں ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے پر مقامی پولیس اہلکاروںکو نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ تھانوں پر بھی حملے کیے جاتے ہیں جس کے باعث مقامی پولیس ٹارگٹڈ آپریشن سے دور رہتی ہے اس کے باوجود ملزمان انہی کو نشانہ بناتے ہیں جس کے بعد مذکورہ تھانوں اور اہلکاروں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

واضح رہے لیاری ٹاؤن پولیس گینگ وار کے ایک ملزم کو بھی گرفتار نہیں کر سکتی حالانکہ ملزمان پولیس کے سامنے اسلحہ لہراتے گھومتے پھر رہے ہیں، گینگ وار کے ملزمان نے جوئے ، سٹے ، اور منشیات کے درجنوں اڈے کھولے ہوئے ہیں جہاں سے پولیس کو بھی بھتہ مل رہا ہے ، گینگ وار کا سربراہ پولیس کو جس شخص کو گرفتار کرنے کا کہتا ہے چاہے وہ کسی جرم میں ملوث ہو یا نہ ہو اسے گرفتارکرکے اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کرنا اس علاقے کے ایس ایچ او کی مجبوری ہوتی ہے اگر وہ اس کا کہا نہیں مانے گا تو اسے یا تو معطل کر دیا جائے گا یا پھر بہت کچھ ہو سکتا ہے۔

حساس اداروں اور رینجرز کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے والے ملزمان کی گرفتاری ظاہر کرنے کی ذمے داری بھی لیاری کے تھانوں کی پولیس کی نہیں ہے جس کے باعث رینجرز یا حساس اداروں کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے والے ملزمان کو ان کی گرفتاری ظاہر کرنے کا کام یا تو سی آئی ڈی پولیس یا پھر کسی تھانے کے منظور نظر ایس ایچ او کو دیا جاتا ہے جیسے چند روز قبل ٹھٹھہ سے کراچی آتے ہوئے حراست میں لیے جانے والے لیاری گینگ وار کے 11 ملزمان نو روز چانڈیو ، عبد الصمد بلوچ ، کمال سیال ، واحد بخش بلوچ ، محمد ارشد بلوچ ، جان محمد بلوچ ، بہار الدین احمد ، رسول بخش بلوچ ، افشان اور محمد عروس کی گرفتاری گذشتہ روز ڈی آئی جی ویسٹ جاوید عالم اوڈھو نے ایک پریس کانفرنس میں ظاہر کرتے ہوئے مذکورہ کارروائی ایس ایچ او کی کار کردگی ظاہر کی۔

انھوں نے بتایا کہ ایس ایچ او ماڑی پور شوکت تنولی نے ناردرن بائی پاس اور دیگر علاقوں سے ملزمان کے قبضے سے 5 کلاشنکوف ، 5 دستی بم ، 8 ٹی ٹی پستول ، 9 رائفل ، 18 کلو گرام چرس ، ایک کلو گرام ہیروئن برآمد کی جبکہ رینجرز کی جانب سے ملزمان سے کی جانے والی تفتیش پڑھ کر سناتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزم نو روز چانڈیو نے دوران تفتیش سیاسی جماعت کے کارکن اور پولیس اہلکاروں سمیت 29 افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے جبکہ گرفتار ملزم جان محمد اور بہار الدین نے 10 افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔

گرفتار ملزم لیاری گینگ وار کا انتہائی سفاک ملزم تھا جسے ماہی گیروں اور مچھلی کے تاجروں سے بھتہ وصول کرنے کے لیے فشری کا انچارج مقرر کیا گیا تھا، واضح رہے مذکورہ ملزمان کو جب رینجرز نے ٹھٹھہ سے کراچی آتے ہوئے حراست میں لیا تھا ایکسپریس اخبار نے خبر شائع کر دی تھی اور یہ بھی تذکرہ کیا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری پریس کانفرنس میں ظاہر کی جائے گی۔
Load Next Story