انڈے بیچنے خریدنے کی تیاری
ویسے تو بجٹوں میں ہندسوں کے ذریعے کچھ اور کام بھی اس کے ذمے لگائے گئے ہیں
barq@email.com
JOHANNESBURG:
ویسے تو اس بات سے کوئی منکر بلکہ منکر سے منکر آدمی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جمہوریت کے ثمرات ہزار ہیں کیونکہ یہ وہ پیڑ ہے کہ اسے مسلسل کراس بریڈنگ کر کے اتنا ترقی دادہ بنایا گیا کہ پتوں سے زیادہ اس کو پھل لگتے ہیں جو بہت بھی ہوتے میٹھے بھی اور موٹے بھی۔اس سے پہلے جو بادشاہت وغیرہ کے پیڑ ہوتے تھے ان کا پھل صرف ایک دو خاندانوں کا کفایت کرتا تھا یہ جمہوریت کا پیڑ انتہا درجے کا چقنیار،شاخ دار اور دور دور تک پھیلا ہوا بھی ہوتا ہے اور اسے پھل بھی بہت لگتے ہیں جو نہ صرف ایک دو گھروں بلکہ آس پاس کے بہت سارے گھرانوں کے لیے ان گھرانوں کے دور دور کے اعزہ و اقرباء پھر ان کے گلی محلے والوں کو بھی کافی ہو جاتے ہیں اس کے باوجود کہ لوگ پیٹ بھر کھا بھی لیتے ہیں اور دساور کو بھیجنے کے لیے بھی بہت سارا پھل فالتو ہو جاتا جس کی لندن، دبئی امریکا، ہانگ کانگ اور ملائشیا وغیرہ میں بہت مانگ ہے خاص طور پر سوئزرلینڈ تو اس کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔
لیکن اس کی ایک خاص الخاص خوبی جو صرف پاکستان جسے عوامی جمہوری ممالک میں خصوصی پیوند کاری کے ذریعے اس کے اندر پیدا کی گئی ہے، یہ ہے کہ اس کا پھل عوام الناس تک بھی بڑی منظم اور بے داغ تقسیم کاری کے ذریعے پہنچ جاتا ہے۔مثال کے طور پر اس مرتبہ جو بجٹ یا بجٹات پیش کیے گئے ہیں جو دائیں بائیں اوپر نیچے اور آگے پیچھے سارے اطراف سے عوام دوست ہیں ان میں خاص طور پر التزام رکھا گیا ہے کہ الیکشن سے پہلے پہلے یا الیکشن کے دوران عوام کو ان کا حصہ رسدی پہنچ جائے اور اس کام کے لیے جو امانت دار، دیانت، نیکوکار افراد چنے گئے ہیں جو پہلے سے بھی چنے ہوئے تھے اب بھی چنے ہوئے ہیں اور آیندہ بھی سات آٹھ پیڑیوں تک چنے ہوئے ہی رہیں گے۔
ویسے تو بجٹوں میں ہندسوں کے ذریعے کچھ اور کام بھی اس کے ذمے لگائے گئے ہیں لیکن ہندسوں کے لیے ہندسوں ہی ہندسوں میں ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ ہندسوں کے ہندسے ہندسوں کے پاس پہنچ جائے۔اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم پچھلی حکومت اے این پی حکومت سے ایک مثال پیش کرنا چاہتے ہیں حالانکہ مثالیں بے شمار ہیں لیکن اس مثال کا تعلق براہ راست ہمارے ساتھ ہے۔ہوا یوں کہ ہم نے تگ و دو کرکے ایک پل منظور کروایا جس سے ہمارا اپنا کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ ایک بہت بڑے علاقے اور بی ایچ یو کو بچانے کا منصوبہ تھا، سروے بھی ہوگیا، کاغذی کارروائی بھی ہو گئی اور بجٹ بھی منظور ہو گیا لیکن الیکشن بھی سر پرتھا اس لیے پل کہیں غائب ہو گیا۔ بڑی مشکل سے اس کا سراغ ملا تو الیکشن گزر چکے تھے اور چڑیوں نے کھیت میں ککھ بھی نہیں چھوڑا تھا، ایک دانائے راز بابو سے بات ہوئی تو اس نے یہ راز کی بات بتائی کہ صرف وہ پل ہی نہیں بلکہ بہت ساری سڑکیں اور نالے نالیاں بھی الیکشن کے سیلاب میں بہہ چکی ہیں کیونکہ وزیر بلدیات نے وہ سارے کا سارا فنڈ ہی پارٹی کے فلاں شخص کو دیدیا تھا، اور یہ ایسا جرم ہے جس پر اگر آپ چاہیں تو مقدمہ بھی دائر کر سکتے ہیں کیونکہ اس نے ایک خاص منظوری کے بارے میں بتایا کہ اس منظوری کے بعد کوئی کسی منصوبے کو ختم نہیں کر سکتا لیکن ہماری بد قسمتی تھی کہ متعلقہ وزیر شہید کا درجہ پاکر دنیا چھوڑ چکے تھے۔
اس سلسلے میں ہماری قسمت ہی خراب ہے۔ ایک مرتبہ ایک پشتون فلمساز نے ہماری ایک غزل اپنی فلم میں بلا اجازت استعمال کی تھی جس کی وجہ سے وہ فلم ہٹ ہو گئی۔ غالباً ''گواہی'' اس فلم کا نام تھا اور ہماری وہ غزل عرصہ دراز سے ریڈیو، ٹی وی پر ہٹ ہو چکی تھی۔ ہم نے لوگوں کے بہکاوے میں آکر اس فلمساز کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ آٹھ دس ہزار روپے بھی خرچ کیے۔ اور ایک دن خبر آئی کہ وہ فلمساز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال پر ملال کر گئے۔ اب یہاں بھی ہم قبر پر تو مقدمہ نہیں دائر کر سکتے تھے اس لیے ہم چپ رہے ہم رو دیے منظور تھا فائدہ اپنا۔
چنانچہ اس تجربے کی روشنی میں ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس مرتبہ بھی عوام کا چھینا ہوا پیسہ ان کو بذریعہ الیکشن پہنچانے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور امانت دار، دیانت اور خدا ترس لوگوں کو فنڈ مختص کر دیے گئے کہ لٹے ہوئے کو ان کی اپنی رقم میں سے کچھ نہ کچھ پہنچا دیا جائے کہ دودھیل گائے کو بھوکوں تو مارا نہیں جا سکتا ہے۔ بلکہ اگر گائے کی جگہ مرغی کہاجائے تو اور حسب حال ہو جائے گا کیونکہ ہر ایک کے پیٹ میں ووٹ کا انڈا بس مکمل ہونے کوہے، زردی سفیدی بن چکی ہے صرف چھلکا لٹینا باقی ہے۔لیکن انڈے بٹورنے والوں کو تو اپنی ٹوکریاں درست کرنی ہیں کہ کہیں کوئی دوسرا انڈا ٹولنے والا پہل نہ کر جائے ویسے خد شے کی کوئی بات ہے بھی نہیں کیونکہ چار پانچ سال یہ پیشہ ور ''انڈے بٹورو'' یہی تیاریاں تو کرتے رہے ہیں۔خلاصہ یہ کہ حکومت کی طرف سے تو نہایت خلوص اور دیانتداری سے اس بات کے انتظامات کیے جا چکے ہیں کہ عوام کا پیسہ عوام کے پاس پہنچ جائے تا کہ وہ اپنے اوپر عوام کی حکومت قائم کرواسکیں اب اگر ان انتظامات میں کوئی اتفاقی حادثات پیش آجائیں تو وہ عوام کی اپنی بد نصیبی ہوگی۔
حکومت کی طرف سے تو ان کا حق ان کی طرف چل پڑا ہے غیر متوقع حادثات کا ذکر ہم نے اس وجہ سے کیا کہ ایک مرتبہ ہمارے محلے کے ایک شخص نے الیکشن میں اپنا حق وصول کیا تو پیسے جیب میں ڈال کر گائے خریدنے نکلا منڈی میں نوسربازوں نے اس کے ہاتھ ایک ایسی گائے بیچی جس کے ساتھ کوئی پرایا پچھڑا تھا گھر میں دوہنا چاہا تو ایک قطرہ دودھ نہیں نکلا دوسرے دن گائے کو منڈی لے کر آدھی قیمت پر بیچ ڈالا اور پیسے جیب میں ڈال کر گھر کی طرف چل پڑا کسی جگہ جیب میں ہاتھ ڈالا تو خالی بعد میں پتہ چلا کہ انھی نوسربازوں نے اس کی جیب بھی کاٹی تھی بچارے پر اتنا اثر ہوا کہ دماغ میں کوئی کیمکل لوچا ہوگیا او ایک دن گھر سے نکل کر ایسا غائب ہوا کہ آج تک واپس نہیں آیا ہے، عمر ایسی تھی کہ یقینًا وہیں گیا ہوگا جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں آیا ہے نہ ووٹ ڈالنے کے لیے نہ بیچنے کے لیے اور گائے خریدنے کے لیے۔
ویسے تو اس بات سے کوئی منکر بلکہ منکر سے منکر آدمی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جمہوریت کے ثمرات ہزار ہیں کیونکہ یہ وہ پیڑ ہے کہ اسے مسلسل کراس بریڈنگ کر کے اتنا ترقی دادہ بنایا گیا کہ پتوں سے زیادہ اس کو پھل لگتے ہیں جو بہت بھی ہوتے میٹھے بھی اور موٹے بھی۔اس سے پہلے جو بادشاہت وغیرہ کے پیڑ ہوتے تھے ان کا پھل صرف ایک دو خاندانوں کا کفایت کرتا تھا یہ جمہوریت کا پیڑ انتہا درجے کا چقنیار،شاخ دار اور دور دور تک پھیلا ہوا بھی ہوتا ہے اور اسے پھل بھی بہت لگتے ہیں جو نہ صرف ایک دو گھروں بلکہ آس پاس کے بہت سارے گھرانوں کے لیے ان گھرانوں کے دور دور کے اعزہ و اقرباء پھر ان کے گلی محلے والوں کو بھی کافی ہو جاتے ہیں اس کے باوجود کہ لوگ پیٹ بھر کھا بھی لیتے ہیں اور دساور کو بھیجنے کے لیے بھی بہت سارا پھل فالتو ہو جاتا جس کی لندن، دبئی امریکا، ہانگ کانگ اور ملائشیا وغیرہ میں بہت مانگ ہے خاص طور پر سوئزرلینڈ تو اس کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔
لیکن اس کی ایک خاص الخاص خوبی جو صرف پاکستان جسے عوامی جمہوری ممالک میں خصوصی پیوند کاری کے ذریعے اس کے اندر پیدا کی گئی ہے، یہ ہے کہ اس کا پھل عوام الناس تک بھی بڑی منظم اور بے داغ تقسیم کاری کے ذریعے پہنچ جاتا ہے۔مثال کے طور پر اس مرتبہ جو بجٹ یا بجٹات پیش کیے گئے ہیں جو دائیں بائیں اوپر نیچے اور آگے پیچھے سارے اطراف سے عوام دوست ہیں ان میں خاص طور پر التزام رکھا گیا ہے کہ الیکشن سے پہلے پہلے یا الیکشن کے دوران عوام کو ان کا حصہ رسدی پہنچ جائے اور اس کام کے لیے جو امانت دار، دیانت، نیکوکار افراد چنے گئے ہیں جو پہلے سے بھی چنے ہوئے تھے اب بھی چنے ہوئے ہیں اور آیندہ بھی سات آٹھ پیڑیوں تک چنے ہوئے ہی رہیں گے۔
ویسے تو بجٹوں میں ہندسوں کے ذریعے کچھ اور کام بھی اس کے ذمے لگائے گئے ہیں لیکن ہندسوں کے لیے ہندسوں ہی ہندسوں میں ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ ہندسوں کے ہندسے ہندسوں کے پاس پہنچ جائے۔اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم پچھلی حکومت اے این پی حکومت سے ایک مثال پیش کرنا چاہتے ہیں حالانکہ مثالیں بے شمار ہیں لیکن اس مثال کا تعلق براہ راست ہمارے ساتھ ہے۔ہوا یوں کہ ہم نے تگ و دو کرکے ایک پل منظور کروایا جس سے ہمارا اپنا کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ ایک بہت بڑے علاقے اور بی ایچ یو کو بچانے کا منصوبہ تھا، سروے بھی ہوگیا، کاغذی کارروائی بھی ہو گئی اور بجٹ بھی منظور ہو گیا لیکن الیکشن بھی سر پرتھا اس لیے پل کہیں غائب ہو گیا۔ بڑی مشکل سے اس کا سراغ ملا تو الیکشن گزر چکے تھے اور چڑیوں نے کھیت میں ککھ بھی نہیں چھوڑا تھا، ایک دانائے راز بابو سے بات ہوئی تو اس نے یہ راز کی بات بتائی کہ صرف وہ پل ہی نہیں بلکہ بہت ساری سڑکیں اور نالے نالیاں بھی الیکشن کے سیلاب میں بہہ چکی ہیں کیونکہ وزیر بلدیات نے وہ سارے کا سارا فنڈ ہی پارٹی کے فلاں شخص کو دیدیا تھا، اور یہ ایسا جرم ہے جس پر اگر آپ چاہیں تو مقدمہ بھی دائر کر سکتے ہیں کیونکہ اس نے ایک خاص منظوری کے بارے میں بتایا کہ اس منظوری کے بعد کوئی کسی منصوبے کو ختم نہیں کر سکتا لیکن ہماری بد قسمتی تھی کہ متعلقہ وزیر شہید کا درجہ پاکر دنیا چھوڑ چکے تھے۔
اس سلسلے میں ہماری قسمت ہی خراب ہے۔ ایک مرتبہ ایک پشتون فلمساز نے ہماری ایک غزل اپنی فلم میں بلا اجازت استعمال کی تھی جس کی وجہ سے وہ فلم ہٹ ہو گئی۔ غالباً ''گواہی'' اس فلم کا نام تھا اور ہماری وہ غزل عرصہ دراز سے ریڈیو، ٹی وی پر ہٹ ہو چکی تھی۔ ہم نے لوگوں کے بہکاوے میں آکر اس فلمساز کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ آٹھ دس ہزار روپے بھی خرچ کیے۔ اور ایک دن خبر آئی کہ وہ فلمساز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال پر ملال کر گئے۔ اب یہاں بھی ہم قبر پر تو مقدمہ نہیں دائر کر سکتے تھے اس لیے ہم چپ رہے ہم رو دیے منظور تھا فائدہ اپنا۔
چنانچہ اس تجربے کی روشنی میں ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس مرتبہ بھی عوام کا چھینا ہوا پیسہ ان کو بذریعہ الیکشن پہنچانے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور امانت دار، دیانت اور خدا ترس لوگوں کو فنڈ مختص کر دیے گئے کہ لٹے ہوئے کو ان کی اپنی رقم میں سے کچھ نہ کچھ پہنچا دیا جائے کہ دودھیل گائے کو بھوکوں تو مارا نہیں جا سکتا ہے۔ بلکہ اگر گائے کی جگہ مرغی کہاجائے تو اور حسب حال ہو جائے گا کیونکہ ہر ایک کے پیٹ میں ووٹ کا انڈا بس مکمل ہونے کوہے، زردی سفیدی بن چکی ہے صرف چھلکا لٹینا باقی ہے۔لیکن انڈے بٹورنے والوں کو تو اپنی ٹوکریاں درست کرنی ہیں کہ کہیں کوئی دوسرا انڈا ٹولنے والا پہل نہ کر جائے ویسے خد شے کی کوئی بات ہے بھی نہیں کیونکہ چار پانچ سال یہ پیشہ ور ''انڈے بٹورو'' یہی تیاریاں تو کرتے رہے ہیں۔خلاصہ یہ کہ حکومت کی طرف سے تو نہایت خلوص اور دیانتداری سے اس بات کے انتظامات کیے جا چکے ہیں کہ عوام کا پیسہ عوام کے پاس پہنچ جائے تا کہ وہ اپنے اوپر عوام کی حکومت قائم کرواسکیں اب اگر ان انتظامات میں کوئی اتفاقی حادثات پیش آجائیں تو وہ عوام کی اپنی بد نصیبی ہوگی۔
حکومت کی طرف سے تو ان کا حق ان کی طرف چل پڑا ہے غیر متوقع حادثات کا ذکر ہم نے اس وجہ سے کیا کہ ایک مرتبہ ہمارے محلے کے ایک شخص نے الیکشن میں اپنا حق وصول کیا تو پیسے جیب میں ڈال کر گائے خریدنے نکلا منڈی میں نوسربازوں نے اس کے ہاتھ ایک ایسی گائے بیچی جس کے ساتھ کوئی پرایا پچھڑا تھا گھر میں دوہنا چاہا تو ایک قطرہ دودھ نہیں نکلا دوسرے دن گائے کو منڈی لے کر آدھی قیمت پر بیچ ڈالا اور پیسے جیب میں ڈال کر گھر کی طرف چل پڑا کسی جگہ جیب میں ہاتھ ڈالا تو خالی بعد میں پتہ چلا کہ انھی نوسربازوں نے اس کی جیب بھی کاٹی تھی بچارے پر اتنا اثر ہوا کہ دماغ میں کوئی کیمکل لوچا ہوگیا او ایک دن گھر سے نکل کر ایسا غائب ہوا کہ آج تک واپس نہیں آیا ہے، عمر ایسی تھی کہ یقینًا وہیں گیا ہوگا جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں آیا ہے نہ ووٹ ڈالنے کے لیے نہ بیچنے کے لیے اور گائے خریدنے کے لیے۔