بلیک میلنگ میں ملوث عامل ثمینہ باجی کا کارندہ گرفتار
ایف آئی اے کے نام پر بینک ملازم اور دیگر افراد کو بلیک میل کرنے پر ثمینہ شامل تفتیش
شعیب نے 20 لاکھ روپے لیے ہیں، روحانی علاج کیلیے آنیوالے ہی ہدف ہیں،ارشد ندیم۔ فوٹو: فائل
ایف آئی اے سمیت مختلف سرکاری اداروں کے نام پر سادہ لوح افراد کو بلیک میل کرکے خطیر رقوم بٹورنے میں ملوث خاتون عامل کو ایف آئی اے نے شامل تفتیش کرلیا ہے۔
نجی بینک کے اعلیٰ افسر کو بلیک میل کرکے لاکھوں روپے بٹورنے کے الزام میں گروہ کا ایک کارندے کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،تفصیلات کے مطابق نجی بینک کے اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ ارشد ندیم نے ایف آئی اے کرائم سرکل کو ایک درخواست دی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومت سندھ کا ملازم محمد شعیب احمد ایف آئی اے کے نام پر اسے گذشتہ چند ماہ سے بلیک میل کررہا ہے اور اب تک 20 لاکھ روپے اور مختلف اشیا وصول کرچکا ہے۔
ایف آئی اے نے محمد شعیب احمد کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا منصوبہ بنایا، اس سلسلے میں ارشد ندیم نے مزید رقم دینے کیلیے محمد شعیب کو شاہراہ قائدین کے ریسٹورانٹ میں بلایا، ایف آئی اے حکام نے اس سلسلے میں ارشد ندیم کو نشان زدہ 20 ہزار روپے کے نوٹ فراہم کیے تھے محمد شعیب احمد مقررہ وقت پر ریسٹورانٹ میں پہنچا جہاں اسے رقم لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتارکرلیا گیا۔
دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ وہ حکومت سندھ کا ملازم ہے اور بینک افسر ارشد ندیم سے ملاقات خاتون عامل ثمینہ باجی نے کرائی تھی، باجی نے بتایا تھا کہ ارشد ندیم اپنی ملازمت کی بحالی چاہتا ہے اور میں ان کا مسئلہ حل کردوں، بعد ازاں محمد شعیب احمد نے ارشد ندیم کو بتایا کہ بینک انتظامیہ نے اس کے خلاف بدعنوانی کا کیس بنا کر ایف آئی اے کو آگاہ کردیا ہے جہاں اس کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہیں، ایف آئی اے میں تحقیقات ختم کرانے کیلیے 3 ماہ کے دوران ارشد ندیم سے اس نے20 لاکھ روپے اور قیمتی گھریلوں اشیا وصول کیں اور اب مزید رقم طلب کررہا تھا۔
محمد شعیب احمد نے بتایا کہ ثمینہ باجی کے پاس روحانی علاج اور دیگر مسائل کے حل کیلیے آنے والے افراد ہی ان کا ہدف ہیں، وہ متعدد دیگر لوگوں سے بھی خطیر رقوم بٹور چکے ہیں،ذرائع کے مطابق ایف آئی اے حکام نے ملزم کے بیان کی روشنی ثمینہ باجی نامی خاتون عامل کو شامل تفتیش کرلیا ہے جبکہ ملزم کے دیگر ساتھیوں کی تلاش میں بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔
نجی بینک کے اعلیٰ افسر کو بلیک میل کرکے لاکھوں روپے بٹورنے کے الزام میں گروہ کا ایک کارندے کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،تفصیلات کے مطابق نجی بینک کے اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ ارشد ندیم نے ایف آئی اے کرائم سرکل کو ایک درخواست دی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومت سندھ کا ملازم محمد شعیب احمد ایف آئی اے کے نام پر اسے گذشتہ چند ماہ سے بلیک میل کررہا ہے اور اب تک 20 لاکھ روپے اور مختلف اشیا وصول کرچکا ہے۔
ایف آئی اے نے محمد شعیب احمد کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا منصوبہ بنایا، اس سلسلے میں ارشد ندیم نے مزید رقم دینے کیلیے محمد شعیب کو شاہراہ قائدین کے ریسٹورانٹ میں بلایا، ایف آئی اے حکام نے اس سلسلے میں ارشد ندیم کو نشان زدہ 20 ہزار روپے کے نوٹ فراہم کیے تھے محمد شعیب احمد مقررہ وقت پر ریسٹورانٹ میں پہنچا جہاں اسے رقم لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتارکرلیا گیا۔
دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ وہ حکومت سندھ کا ملازم ہے اور بینک افسر ارشد ندیم سے ملاقات خاتون عامل ثمینہ باجی نے کرائی تھی، باجی نے بتایا تھا کہ ارشد ندیم اپنی ملازمت کی بحالی چاہتا ہے اور میں ان کا مسئلہ حل کردوں، بعد ازاں محمد شعیب احمد نے ارشد ندیم کو بتایا کہ بینک انتظامیہ نے اس کے خلاف بدعنوانی کا کیس بنا کر ایف آئی اے کو آگاہ کردیا ہے جہاں اس کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہیں، ایف آئی اے میں تحقیقات ختم کرانے کیلیے 3 ماہ کے دوران ارشد ندیم سے اس نے20 لاکھ روپے اور قیمتی گھریلوں اشیا وصول کیں اور اب مزید رقم طلب کررہا تھا۔
محمد شعیب احمد نے بتایا کہ ثمینہ باجی کے پاس روحانی علاج اور دیگر مسائل کے حل کیلیے آنے والے افراد ہی ان کا ہدف ہیں، وہ متعدد دیگر لوگوں سے بھی خطیر رقوم بٹور چکے ہیں،ذرائع کے مطابق ایف آئی اے حکام نے ملزم کے بیان کی روشنی ثمینہ باجی نامی خاتون عامل کو شامل تفتیش کرلیا ہے جبکہ ملزم کے دیگر ساتھیوں کی تلاش میں بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔