گٹکاچھالیہ کھانیوالے نوجوان موت کے منہ میں جارہے ہیں
منہ کا سرطان پاکستان میں پھیلاؤکے اعتبارسے دوسرے نمبرپرہے، ڈاکٹر شاہد.
حفظانِ صحت کے اصولوں پرعمل کرنے کی ضرورت ہے، سیمینارسے خطاب۔ فوٹو: فائل
آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے ماہر امراض اور سینئر پروفیسر ڈاکٹر شاہد پرویز نے کہا ہے کہ منہ کا سرطان پاکستانی جوانوں میں زیادہ عام ہے جبکہ دنیا بھر میں منہ کاسرطان بلند شرحِ اموات اور پانچ سال تک جینے کی کم شرح کے ساتھ عام ہے.
یہ مہلک سرطان پاکستان میں پھیلاؤ کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے ،پان، چھالیہ کا استعمال کرنے والوں میں نہ کرنے والوں کے مقابلے میں اس مرض کا شکار ہونے کا خدشہ 8سے 9گناہ زیادہ ہوتا ہے ،گٹکا، پان، نسوار، چھالیہ کا استعمال اس مرض کے پھیلاؤ کا اہم سبب ہیں،گٹکا،چھالیہ کھانیوالے نوجوان تیزی سے موت کے منہ میں جارہے ہیں، پاکستان میں 30 فیصد منہ کا سرطان 40 سال تک اور اس سے کم عمر افراد میں پا یا جاتا ہے جبکہ 50 فیصد کیسز ایڈوانس اسٹیج کے ہوتے ہیں.
یہ بات انھوں نے جامعہ کراچی کے لطیف ابراہیم جمال نیشنل سائنس انفارمیشن سینٹر، بین الاقوامی مرکزبرائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم ( آئی سی سی بی ایس )کے آڈیٹوریم میں''منہ کا سرطان ''کے موضوع پر منعقدہ اپنے خطاب کے دوران کہی، لیکچر کا انعقاد پی سی ایم ڈی جامعہ کراچی اور ورچوئل ایجوکیشنل پروگرام برائے پاکستان کے باہمی تعاون سے کیا گیا تھا ۔
یہ مہلک سرطان پاکستان میں پھیلاؤ کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے ،پان، چھالیہ کا استعمال کرنے والوں میں نہ کرنے والوں کے مقابلے میں اس مرض کا شکار ہونے کا خدشہ 8سے 9گناہ زیادہ ہوتا ہے ،گٹکا، پان، نسوار، چھالیہ کا استعمال اس مرض کے پھیلاؤ کا اہم سبب ہیں،گٹکا،چھالیہ کھانیوالے نوجوان تیزی سے موت کے منہ میں جارہے ہیں، پاکستان میں 30 فیصد منہ کا سرطان 40 سال تک اور اس سے کم عمر افراد میں پا یا جاتا ہے جبکہ 50 فیصد کیسز ایڈوانس اسٹیج کے ہوتے ہیں.
یہ بات انھوں نے جامعہ کراچی کے لطیف ابراہیم جمال نیشنل سائنس انفارمیشن سینٹر، بین الاقوامی مرکزبرائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم ( آئی سی سی بی ایس )کے آڈیٹوریم میں''منہ کا سرطان ''کے موضوع پر منعقدہ اپنے خطاب کے دوران کہی، لیکچر کا انعقاد پی سی ایم ڈی جامعہ کراچی اور ورچوئل ایجوکیشنل پروگرام برائے پاکستان کے باہمی تعاون سے کیا گیا تھا ۔