سرفراز نے عظیم کپتانوں میں شامل ہونے کا ارادہ کرلیا

ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کیلیے سخت محنت کی ضرورت ہوگی، کپتان

حفیظ وشعیب کی رائے کواہمیت دیتااورضرورت پرخود سینئرز سے بات کرتا ہوں، سرفراز۔ فوٹو : فائل

MIAMI:
سرفراز احمد چیمپئنز ٹرافی میں فتح کے باوجود کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں، انھوں نے غلطیوں سے سبق سیکھ کر عظیم کپتانوں کی صف میں شامل ہونے کا ارادہ کر لیا۔

ایک انٹرویو میں سرفراز احمد نے کہاکہ چیمپئنز ٹرافی کی فتح زندگی کے یادگار لمحات میں سے ایک ہے، پُرتپاک استقبال اور عزت افزائی پر شائقین کا شکرگزار ہوں لیکن کبھی نہیں سوچا کہ ایک ٹائٹل جیت کرعظیم کپتان بن گیا، میں ابھی سیکھنے کے مراحل سے گزر رہا ہوں،کوشش کروں گا کہ غلطیاں نہ دہراؤں۔

سرفراز نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی قیادت کسی کیلیے بھی آسان کام نہیں، شائقین اور میڈیا کا بے پناہ دباؤ ہوتا ہے،ایک غلطی پر بھی آپ کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے،بھارت سے پہلے میچ کے بعد اگلے مقابلوں میں میرے بیشتر فیصلے درست ثابت ہوئے، فخرزمان کو ڈیبیو کا موقع دینا بھی ایک جراتمندانہ قدم تھا جس کا ٹیم کو فائدہ ہوا۔


کپتان نے کہا کہ سری لنکا کیخلاف میچ میں گراؤنڈ چھوٹا ہونے پر فہیم اشرف کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا،انگلینڈ سے سیمی فائنل بھی اسی وینیو پر تھا لیکن پچ استعمال شدہ ہونے کی وجہ سے شاداب خان کو واپس لائے،ان بولڈ فیصلوں میں ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے بھرپور ساتھ دیا۔

سرفراز احمد نے کہا کہ ایک ایونٹ ختم ہوا، اب مستقبل میں بھی ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل برقرار رکھنے کیلیے مجھے اور کھلاڑیوں کو سخت محنت کی ضرورت ہوگی۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ سینئرز سے مشاورت نہ کرنے کا تاثر درست نہیں، میں محمد حفیظ اور شعیب ملک کی رائے کو اہمیت دیتا اور ضرورت پڑنے پر خود ان سے بات کرتا ہوں۔

سرفراز نے مزید کہا کہ سری لنکا کیخلاف میچ میں فتح سے 40رنز کی دوری پر نروس ہوگیا تھا، خوش قسمتی سے کیچز ڈراپ ہوگئے اور ہم جیت گئے۔
Load Next Story