کراچی ڈویژن ریلوے ملازمین جنوری کی تنخواہ سے تاحال محروم
ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ آفس کے سامنے احتجاج کیاجائیگا،ریل کا پہیہ رک بھی سکتا ہے.
کسی کاچولھانہیں جلے گا،مشتعل ملازمین،یونین عہدیداروں کی ایکسپریس سے گفتگو. فوٹو: فائل
ریلوے ملازمین کو یکم فروری کو ماہ جنوری کی تنخواہ نہیں مل سکی۔
آج ملازمین اور ریلوے ورکرز یونین ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ آفس کے سامنے احتجاج کریں گے، ریل کا پہیہ رک بھی سکتا ہے، ملازمین اور یونین کے عہدیداروں نے ایکسپریس سے بات چیت کی۔ کراچی ڈویژن کے ریلوے ملازمین کو یکم فروری کو جنوری کی تنخواہ ادا نہیں کی گئی جس کے باعث ملازمین سخت مشتعل ہیں، ریلوے ملازم ایاز محمد خان اور دیگر نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اگر پیر کو ہماری تنخواہ نہیں ملی تو ڈویژنل آفس کے باہر دما دم مست قلندر ہوگا اور جب تک تنخواہ نہیں ادا کی جائیگی، احتجاج جاری رہے گا۔
اگر پانی، آنسو گیس یا فائرنگ کا استعمال کیا گیا تو احتجاج بڑھتے بڑھتے پورے پاکستان میں پھیل جائیگا۔ پھر نہ صرف کراچی ڈویژن بلکہ پورے پاکستان میں ریل کا پہیہ جام کر دیا جائیگا۔ ریلوے ورکرز یونین کے سینئر مرکزی نائب صدر اور ورکر شہزاد رانا نے کہا کہ ریلوے افسران جب تک اپنے شاہانہ اخراجات ختم نہیں کرینگے تب تک ریلوے کبھی ترقی نہیں کریگی۔ اگر مزدور کا بچہ بھوکا سوئے گا تو وہ کسی کا چولھا نہیں جلنے دیگا۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت کی اب بھی آنکھیں نہیں کھلیں تو وہ وقت دور نہیں جب ریل مکمل طور پر رک جائیگی۔
آج ملازمین اور ریلوے ورکرز یونین ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ آفس کے سامنے احتجاج کریں گے، ریل کا پہیہ رک بھی سکتا ہے، ملازمین اور یونین کے عہدیداروں نے ایکسپریس سے بات چیت کی۔ کراچی ڈویژن کے ریلوے ملازمین کو یکم فروری کو جنوری کی تنخواہ ادا نہیں کی گئی جس کے باعث ملازمین سخت مشتعل ہیں، ریلوے ملازم ایاز محمد خان اور دیگر نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اگر پیر کو ہماری تنخواہ نہیں ملی تو ڈویژنل آفس کے باہر دما دم مست قلندر ہوگا اور جب تک تنخواہ نہیں ادا کی جائیگی، احتجاج جاری رہے گا۔
اگر پانی، آنسو گیس یا فائرنگ کا استعمال کیا گیا تو احتجاج بڑھتے بڑھتے پورے پاکستان میں پھیل جائیگا۔ پھر نہ صرف کراچی ڈویژن بلکہ پورے پاکستان میں ریل کا پہیہ جام کر دیا جائیگا۔ ریلوے ورکرز یونین کے سینئر مرکزی نائب صدر اور ورکر شہزاد رانا نے کہا کہ ریلوے افسران جب تک اپنے شاہانہ اخراجات ختم نہیں کرینگے تب تک ریلوے کبھی ترقی نہیں کریگی۔ اگر مزدور کا بچہ بھوکا سوئے گا تو وہ کسی کا چولھا نہیں جلنے دیگا۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت کی اب بھی آنکھیں نہیں کھلیں تو وہ وقت دور نہیں جب ریل مکمل طور پر رک جائیگی۔