بھارتریپ آرڈیننس عوام کیساتھ دھوکا ہے خواتین تنظیمیں
شورش زدہ علاقوں میں عورتوں پر تشدد جیسے مسائل کو آرڈیننس میں کوئی جگہ ہی نہیں ملی.
جسٹس ورما کمیٹی کی کئی تجاویز نظرانداز کر دی گئیں، صدر سے دستخط نہ کرنے کا مطالبہ. فوٹو: اے ایف پی
بھارت کی تمام خواتین تنظیموں نے خواتین کیخلاف ہونیوالے جنسی جرائم پر حکومت کی طرف سے لائے جانیوالے آرڈیننس کو عوام کے ساتھ دھوکا قرار دیا ہے۔
خواتین تنظیموں نے صدر پرنب مکھرجی سے گزارش کی ہے کہ اس آرڈیننس پر دستخط نہ کریں کیونکہ ان کے دستخط کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ورندا گروور نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ جس طرح سے حکومت بدحواسی میں بغیر کسی شفافیت کے اس آرڈیننس کو لے کر آئی ہے اس کے تئیں ہم فکر مند ہیں۔کئی تنظیموں سے منسلک خاتون کارکنوں نے کہا کہ جب چند ہی ہفتوں میں پارلیمنٹ کا اجلاس ہونے والا ہے تو پھر اس سے قبل ہی حکومت نے آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔؟ آل انڈیا پروگریسیو ایسوسی ایشن کی کویتا کرشنن نے کہاکہ اس فرمان میں جی ایس ورما کمیٹی کی کئی تجاویز کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ خواتین
تنظیموں کا اعتراض ہے کہ شورش زدہ علاقوں میں خواتین پر ہونے والے تشدد جیسے مسائل کو اس آرڈیننس میں کوئی جگہ نہیں ملی ہے۔تنظیموں کے مطابق شادی کے تحت ہونے والی جنسی زیادتیوں، ہم جنس پرستی کے مفادات کو اس آرڈیننس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں جسٹس ورما کمیٹی کی رپورٹ میں سزائے موت نہ دیے جانے کی تجاویز کو بھی حکومت نے مسترد کیا ہے۔خواتین کی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو جنسی زیادتیوں کا شکار خواتین کی آباد کاری، مقررہ وقت میں معاملات کے حل، اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کو جنسی جرائم سے کیسے بچایا جایا جیسے مسائل پر توجہ دینا چاہیے۔
خواتین تنظیموں نے صدر پرنب مکھرجی سے گزارش کی ہے کہ اس آرڈیننس پر دستخط نہ کریں کیونکہ ان کے دستخط کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ورندا گروور نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ جس طرح سے حکومت بدحواسی میں بغیر کسی شفافیت کے اس آرڈیننس کو لے کر آئی ہے اس کے تئیں ہم فکر مند ہیں۔کئی تنظیموں سے منسلک خاتون کارکنوں نے کہا کہ جب چند ہی ہفتوں میں پارلیمنٹ کا اجلاس ہونے والا ہے تو پھر اس سے قبل ہی حکومت نے آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔؟ آل انڈیا پروگریسیو ایسوسی ایشن کی کویتا کرشنن نے کہاکہ اس فرمان میں جی ایس ورما کمیٹی کی کئی تجاویز کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ خواتین
تنظیموں کا اعتراض ہے کہ شورش زدہ علاقوں میں خواتین پر ہونے والے تشدد جیسے مسائل کو اس آرڈیننس میں کوئی جگہ نہیں ملی ہے۔تنظیموں کے مطابق شادی کے تحت ہونے والی جنسی زیادتیوں، ہم جنس پرستی کے مفادات کو اس آرڈیننس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں جسٹس ورما کمیٹی کی رپورٹ میں سزائے موت نہ دیے جانے کی تجاویز کو بھی حکومت نے مسترد کیا ہے۔خواتین کی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو جنسی زیادتیوں کا شکار خواتین کی آباد کاری، مقررہ وقت میں معاملات کے حل، اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کو جنسی جرائم سے کیسے بچایا جایا جیسے مسائل پر توجہ دینا چاہیے۔