پاراچنار دھرنے کا خاتمہ اہم پیش رفت
پاراچنار کو بدامنی اور دہشتگردی کے حملوں سے بچانے کیلیے آرمی چیف کے اقدامات صائب ہیں
پاراچنار کو بدامنی اور دہشتگردی کے حملوں سے بچانے کیلیے آرمی چیف کے اقدامات صائب ہیں . فوٹو/ آئی ایس پی آر/ فائل
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارا چنار میں عید سے قبل ہونے والے دھماکوں کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی دھرنے کے شرکاء کی جانب سے علاقے کی سیکیورٹی سے متعلق معاملات فوری طور پر حل کرنے کا حکم دیا جب کہ وزیراعظم نواز شریف کے حکم پر متاثرین پارا چنار کیلیے20 کروڑ روپے کی امداد جاری کی گئی ہے۔ یاد رہے 23 جون کو ہونے والے ان دھماکوں میں 70 سے زیادہ افرادجاں بحق ہوئے تھے اور یہ احتجاجی دھرنا گذشتہ آٹھ دن سے جاری تھا جس کے شرکاء نے آرمی چیف سے ملاقات کیے بغیر احتجاج ختم کرنے سے انکار کیا تھا جب کہ دھرنے کے شرکاء نے جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے مالی امداد کی پیشکش قبول کرنے سے بھی معذرت کی تھی، اگرچہ حکومت کی طرف سے معاوضہ یا مالی امداد دہشتگردی کے صدمہ اور نقصان کا ازالہ نہیں کرسکتا تاہم فرد اور ریاست کے مابین دائمی تعلق اور شہریوں کے آئینی تحفظ و سلامتی کے وسیع تر تناظر میں آرمی چیف کی پیش رفت اور وزیراعظم کی جانب سے فوری مالی ریلیف ایک خوش آئند اقدام ہے اور اس سے متاثرین اور ان کے لواحقین کے تالیف قلوب میں کافی مدد ملے گی۔
اس سے دہشتگردوں کو یہ پیغام جائے گا کہ ریاست ، عسکری قیادت، دینی و مذہبی جماعتیں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ان کے اتحاد کو کوئی باطل طاقت شکست نہیں دے سکتی جب کہ اس نازک وقت میں ضرورت قومی سوچ اور سیاسی اشتراک عمل کی ہے، سکیورٹی فورسز کو جس تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے اس کی نشاندہی آرمی چیف اپنے خطاب میں کرچکے ہیں، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل باجوہ نے جمعہ کی صبح پارہ چنار کا دورہ کیا جہاں معاملے پر بریفنگ لینے کے بعد انھوں نے قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی، اس دورے کے بارے میں صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پارا چنار کے متاثرین نے آرمی چیف سے ملاقات میں کچھ سیاسی اور کچھ سیکیورٹی سے متعلق مطالبات پیش کیے جس پر آرمی چیف نے علاقے کی سیکیورٹی سے متعلق مطالبات پر فوری طور پر عمل کرنے کا حکم دیدیا جس کے بعد عمائدین نے دھرنا ختم کر دیا۔
قبل ازیں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ دشمن قوتیں ہمیں آپس میں لڑانے کی سازش میں کامیاب نہیں ہوسکتیں، ادھر لاہور میں مختلف مذہبی جماعتوں نے دہشتگردی کے خلاف ملک گیر یوم مذمت منایا جس میں علمائے کرام نے کہا کہ دہشتگردوں کا مذہب فتنہ وفساد ہے ، ضرورت مذہب کی آڑ میں فاشسٹ قوتوں کو قدم جمانے سے روکنے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاراچنار سمیت ملک میں شیعہ سنی کا کہیں کوئی مسئلہ نہیں، اسی لیے دشمن بے تاب ہے کہ فرقہ واریت کا زہر پھیلا کر مسلم امہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کردے، چنانچہ بعض سیاسی رہنماؤں کا یہ کہنا غلط نہیں کہ حالیہ دہشتگردی میں بیرونی عناصر ملوث ہوسکتے ہیں جو پاکستان کے خلاف سازش ہے۔
پاراچنار کو بدامنی اور دہشتگردی کے حملوں سے بچانے کیلیے آرمی چیف کے اقدامات صائب ہیں، انھوں نے اضافی دستوں اور سیف سٹی منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے سیکیورٹی صورتحال مزید بہتر کرنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں، اس موقع پر عمائدین نے بھی مقامی لوگوں کی جانب سے پاک فوج اور اس کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف پاکستانی اور مسلمان ہیں، ہمارا خون پاکستان کے لیے ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور پہلے مرحلے پر حساس ترین مقامات پر باڑ لگائی جائے گی، ایف سی کے دستوں کی جانب سے دھماکے کے بعد مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے فائرنگ کے معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے اور جو اس میں ملوث پایا گیا اسے نہیں بخشا جائے گا، ایف سی کمانڈنٹ کو تبدیل کیا جا چکا ہے جب کہ ناقابل تلافی نقصان کے باوجود فائرنگ سے شہید و زخمی ہونے والے 4 اہلکاروں کو ایف سی کی جانب سے علیحدہ زر تلافی ادا کیا جائے گا۔
پارا چنار میں امن کے قیام اور متاثرین کو سہولتیں فراہم کرنے کیلیے جن اقدامات کا آرمی چیف نے اعلان کیا ہے اس کے بلاشبہ دوررس اور مفید نتائج برآمد ہونگے، تاہم وفاقی وزارت داخلہ کو دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلیے ایک ہنگامی روڈ میپ کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ دہشتگرد اسٹرائیک بیک کرکے قوم کے عزم کو لرزہ براندام کردیں گے، یہ میسیج آپریشن رد الفساد اور ضرب عضب سے مجروح عناصر کو سیاسی وعسکری قیادت اور عوام اپنے مشترکہ دہشتگردی مخالف ایجنڈہ پر سختی سے عمل کرتے ہوئے ہی دے سکتے ہیں۔ میڈیا بھی دہشتگردی کے واقعات پر سنجیدہ و محتاط طرز عمل اختیار کرے، اور قومی مفادات کا ادراک کرتے ہوئے ان مفسدانہ قوتوں کی نادانستہ تشہیر کی بیساکھی نہ بنے جو ''اندر کا دشمن'' بن کر ہمارے قومی سلامتی کے ڈاکٹرائن کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔
اس سے دہشتگردوں کو یہ پیغام جائے گا کہ ریاست ، عسکری قیادت، دینی و مذہبی جماعتیں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ان کے اتحاد کو کوئی باطل طاقت شکست نہیں دے سکتی جب کہ اس نازک وقت میں ضرورت قومی سوچ اور سیاسی اشتراک عمل کی ہے، سکیورٹی فورسز کو جس تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے اس کی نشاندہی آرمی چیف اپنے خطاب میں کرچکے ہیں، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل باجوہ نے جمعہ کی صبح پارہ چنار کا دورہ کیا جہاں معاملے پر بریفنگ لینے کے بعد انھوں نے قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی، اس دورے کے بارے میں صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پارا چنار کے متاثرین نے آرمی چیف سے ملاقات میں کچھ سیاسی اور کچھ سیکیورٹی سے متعلق مطالبات پیش کیے جس پر آرمی چیف نے علاقے کی سیکیورٹی سے متعلق مطالبات پر فوری طور پر عمل کرنے کا حکم دیدیا جس کے بعد عمائدین نے دھرنا ختم کر دیا۔
قبل ازیں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ دشمن قوتیں ہمیں آپس میں لڑانے کی سازش میں کامیاب نہیں ہوسکتیں، ادھر لاہور میں مختلف مذہبی جماعتوں نے دہشتگردی کے خلاف ملک گیر یوم مذمت منایا جس میں علمائے کرام نے کہا کہ دہشتگردوں کا مذہب فتنہ وفساد ہے ، ضرورت مذہب کی آڑ میں فاشسٹ قوتوں کو قدم جمانے سے روکنے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاراچنار سمیت ملک میں شیعہ سنی کا کہیں کوئی مسئلہ نہیں، اسی لیے دشمن بے تاب ہے کہ فرقہ واریت کا زہر پھیلا کر مسلم امہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کردے، چنانچہ بعض سیاسی رہنماؤں کا یہ کہنا غلط نہیں کہ حالیہ دہشتگردی میں بیرونی عناصر ملوث ہوسکتے ہیں جو پاکستان کے خلاف سازش ہے۔
پاراچنار کو بدامنی اور دہشتگردی کے حملوں سے بچانے کیلیے آرمی چیف کے اقدامات صائب ہیں، انھوں نے اضافی دستوں اور سیف سٹی منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے سیکیورٹی صورتحال مزید بہتر کرنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں، اس موقع پر عمائدین نے بھی مقامی لوگوں کی جانب سے پاک فوج اور اس کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف پاکستانی اور مسلمان ہیں، ہمارا خون پاکستان کے لیے ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور پہلے مرحلے پر حساس ترین مقامات پر باڑ لگائی جائے گی، ایف سی کے دستوں کی جانب سے دھماکے کے بعد مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے فائرنگ کے معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے اور جو اس میں ملوث پایا گیا اسے نہیں بخشا جائے گا، ایف سی کمانڈنٹ کو تبدیل کیا جا چکا ہے جب کہ ناقابل تلافی نقصان کے باوجود فائرنگ سے شہید و زخمی ہونے والے 4 اہلکاروں کو ایف سی کی جانب سے علیحدہ زر تلافی ادا کیا جائے گا۔
پارا چنار میں امن کے قیام اور متاثرین کو سہولتیں فراہم کرنے کیلیے جن اقدامات کا آرمی چیف نے اعلان کیا ہے اس کے بلاشبہ دوررس اور مفید نتائج برآمد ہونگے، تاہم وفاقی وزارت داخلہ کو دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلیے ایک ہنگامی روڈ میپ کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ دہشتگرد اسٹرائیک بیک کرکے قوم کے عزم کو لرزہ براندام کردیں گے، یہ میسیج آپریشن رد الفساد اور ضرب عضب سے مجروح عناصر کو سیاسی وعسکری قیادت اور عوام اپنے مشترکہ دہشتگردی مخالف ایجنڈہ پر سختی سے عمل کرتے ہوئے ہی دے سکتے ہیں۔ میڈیا بھی دہشتگردی کے واقعات پر سنجیدہ و محتاط طرز عمل اختیار کرے، اور قومی مفادات کا ادراک کرتے ہوئے ان مفسدانہ قوتوں کی نادانستہ تشہیر کی بیساکھی نہ بنے جو ''اندر کا دشمن'' بن کر ہمارے قومی سلامتی کے ڈاکٹرائن کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔