چیمپئنز ٹرافی فتح کے باوجود کئی سوالیہ نشان موجود

کارکردگی میں تسلسل کے لیے بہتر پلاننگ اور سخت محنت درکار

کارکردگی میں تسلسل کے لیے بہتر پلاننگ اور سخت محنت درکار ۔ فوٹو : فائل

KARACHI:
چیمپئنز ٹرافی کے لیے تیاریوں کا آغاز ہوا تو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ عالمی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر موجود پاکستان ٹیم ٹائٹل پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہوجائے گی،خدشہ یہی ظاہر کیا جارہا تھا کہ گزشتہ ایونٹ کے تینوں میچز میں شکست کے بعد گھر لوٹنے والے گرین شرٹس اس بار بھی مزید ناکامیوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنی موجودہ رینکنگ بھی گنوا بیٹھیں گے اور پاکستان کو تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنا پڑے گا، پہلے ہی میچ میں بھارت نے آؤٹ کلاس کیا تو کسی خوش فہمی کی بھی گنجائش نہیں رہی، سخت تنقید نے کپتان، مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کے لیے مہمیز کا کام کیا، ٹیم کی سوچ اور پلاننگ بدلی، بولڈ فیصلے ہوئے، قسمت نے بھی ساتھ دیا اور کایا پلٹنے لگی، عالمی نمبر ون جنوبی افریقہ کے خلاف فتح میں اچھی بولنگ کے بعد موسم کی مہربانی نے بھی اہم کردار ادا کیا لیکن قوم اور کھلاڑیوں کے ذہنوں میں امیدوں کے چراغ روشن ہوگئے۔

اوپنر کی تبدیلی پاکستان ٹیم کے لیے ایک مشکل لیکن اہم ترین فیصلہ تھا، شرجیل خان کے کیریئر پر سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے منحوس سائے پڑنے کے بعد دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے احمد شہزاد اور کامران اکمل کی واپسی ہوئی، دونوں کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں تھی، احمد شہزاد بھارت کے خلاف چیمپئنز ٹرافی میچ میں بھی دفاعی خول سے باہر نہ آسکے، ٹیم کے بجائے اپنی ذات کے لیے کھیلنے کی کوشش جس سے شائقین کی مایوسی میں اضافہ ہوا، ان کی جگہ فخر زمان کو موقع دینے سے پاکستان ٹیم کو جدید کرکٹ سے ہم آہنگ آغاز کرنے والا اوپنر مل گیا، نوجوان بیٹسمین کی کارکردگی میں ہر میچ کے ساتھ نکھار آتا گیا .

جس کا عروج فائنل میں بھارت کے خلاف سنچری کی صورت میں دیکھنے میں آیا، اس کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ اظہر علی پر بوجھ میں کمی ہوئی اور انہوں نے بھی بہتر پرفارم کیا، مڈل آرڈر میں بابر اعظم، محمد حفیظ، شعیب ملک اور سرفراز احمد کی کارکردگی میں عدم تسلسل نے آسان فتوحات کو مشکل بنایا، اگر دیکھا جائے تو یہ سب بیٹسمین ایک آدھ اننگز میں ہی قدرے بہتر کھیل کا مظاہرہ کر سکے، محمد حفیظ نے فائنل میں جارحانہ اننگز کے سوا ہر اہم موقع پر غیرذمہ دارانہ انداز میں وکٹ گنوائی، اگرچہ فتح ہر خامی پر پردہ ڈال دیتی ہے لیکن چیمپئنز ٹرافی میں فتح کے باوجود کئی سوالیہ نشان موجود ہیں، ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے زیادہ ذمہ دارانہ کھیل کی ضرورت ہوگی۔

لوئر آرڈر مزاحمت کے قابل ہو تو مشکلات کے باوجود فتح کا مشن مکمل کرنے میں کامیابی کی امید کی جاتی ہے، بڑے اہداف کے تعاقب میں اظہر محمود اور عبدالرزاق جیسے آل راؤنڈرز میچ کا نقشہ تبدیل کر دینے کی صلاحیت رکھتے تھے لیکن گزشتہ ایک عشرے میں ان کا کوئی متبادل تیار نہیں کیا جا سکا، ٹیسٹ کرکٹ میں یاسر شاہ کی ایک، دو اننگز ضرور دیکھنے میں آئیں لیکن ون ڈے میچز کے آخری10 اوورز میں پاکستان ٹیم مطلوبہ رفتار سے رنز بنانے کے بجائے تیزی سے وکٹیں گنواتی رہی ہے، بنگلہ دیش کے خلاف وارم اپ میچ میں فہیم اشرف کی اننگز نے تھوڑی امید ضرور دلائی ہے لیکن وہ صرف ایک میچ ہی کھیل پائے، شاداب خان میں بھی بیٹنگ کی صلاحیت ہے۔

ان دونوں کو آل راؤنڈرز کے طور پر تیار کیا جائے تو مسائل پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے، محمد عامر نے سری لنکا کے خلاف ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک یادگار اننگز کھیلی، تیسرے آل راؤنڈر کے طور ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، حسن علی نے بولنگ میں تو دھاک بٹھا دی تاہم ڈومیسٹک کرکٹ میں وہ اچھی بیٹنگ بھی کرتے رہے ہیں، تھوڑی توجہ اور کھلاڑیوں کو اعتماد دیا جائے تو گرین شرٹس کی لوئر آرڈر کو کافی بہتر بنایا جا سکتا ہے لیکن سب سے اہم فیصلہ مڈل آرڈر کا ہے پاکستان کو ابھی سے فیصلہ کر لینا چاہیے۔

ہر سیریز کے آخر میں ایک اچھی اننگز کھیل کر کیریئر کو طول دینے والے سینئرز ورلڈکپ 2019ء کے پلان میں فٹ ہوتے ہیں یا ان کا خلا پُر کرنے کے لیے فخر زمان جیسے نئے ٹیلنٹ کو سکواڈ میں شامل کرکے انٹرنیشنل کرکٹ کا تجربہ دلانا ہے، کامران اکمل کو واپس لانے جیسے فیصلوں کو دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، نوجوان کرکٹرز نے ثابت کیا ہے کہ مواقع ملیںتو کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اے ٹیموں کے انٹرنیشنل ٹورز سے نئے ٹیلنٹ کو نکھار کر مستقبل کے لیے اچھی کھیپ تیار کی جاسکتی ہے۔


دورہ ویسٹ انڈیز کے بعد چیمپئنز ٹرافی میں بھی بولرز نے یواے ای سے مختلف کنڈیشنز میں کارکردگی دکھانے کا ہنر سیکھا، ون ڈے کرکٹ میں 2 نئی گیندوں کا استعمال شروع ہونے کے بعد ریورس سوئنگ کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے، درمیانی اوورز بولرز وکٹیں لیتے رہیں تو رن ریٹ کم رکھا جا سکتا ہے، ورنہ بڑے سکور کے لیے بنیاد مہیا ہو جاتی ہے، میگا ایونٹ کی فتح کے سفر میں حسن علی نے وکٹیں اڑانے کا مشن جاری رکھا ۔

جس کی وجہ سے حریف ٹیموں کے مڈل آرڈر کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا، بدقسمتی سے وہاب ریاض اس کمبی نیشن میں فٹ نہیں بیٹھتے، ان کا بولنگ ایکشن ہی ایسا ہے کہ گیند پر کنٹرول برقرار نہیں رکھ پاتے اور برق رفتاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیٹسمین تیزی سے رنز بناتے ہیں، ماضی میں درجنوں میچز ایسے ہوں گے کہ دیگر بولرز نے حریف ٹیم کو باندھ کر رکھا لیکن وہاب ریاض کے آتے ہی دباؤ ختم اور رنز کا سیلاب شروع ہو گیا، کنڈیشنز کے مطابق آف یا لیگ سپنرز کھلانے کے لیے اچھے آپشنز موجود ہیں لیکن عماد وسیم کی بیٹنگ اعتماد سے عاری ہوتی جا رہی ہے، انہیں اپنے مسائل پر قابو پانا ہو گا تاکہ آخری 10 اوورز میں زیادہ سے زیادہ رنز بنانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

گزشتہ دو سال میں پاکستان کی بیشتر ناکامیوں میں خراب بولنگ اور کمزور بیٹنگ کے ساتھ ناقص فیلڈنگ بھی اہم کردار ادا کرتی رہی ہے، ایک، دو کیچ یا رن آؤٹ کے موقع ضائع کرنے سے ٹیم کو ناقابل تلافی نقصان اور بولرز کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں، نوجوان کرکٹرز کی شمولیت سے میدان میں نئی رمق دمق نظر آنے لگی ہے۔

ملنے والے مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے تو بولرز بھی شیر ہو جاتے ہیں، فائنل میں محمدعامر نے اپنے پہلے ہی سپیل میں بھارتی ٹاپ آرڈر کو تہس نہس کر دیا تھا لیکن بعد ازاں فیلڈرز نے دیگر بولرز کا بھی بھرپور ساتھ دیتے ہوئے حریف کے لیے میچ میں واپسی کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا، ہردیک پانڈیا کی اننگز نے ثابت کیا کہ بھارت کے ٹاپ بیٹسمینوں میں سے ایک، دو بھی کریز پر جم جاتے تو پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے تھے، فیلڈ سیٹنگ اور بولنگ میں بروقت تبدیلیوں کے بولڈ فیصلے کرنے پر کپتان سرفراز احمد کو بھی داد دینا ہو گی، انہوں نے دفاع کے بجائے حریف کی وکٹیں حاصل کرنے کی پالیسی نہیں چھوڑی جس کی وجہ سے دباؤ بڑھانے میں مدد ملی، پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوگا کہ محمد عامر بھارت کے خلاف فائنل جیسے سپیل کرواتے نظر آئیں اور جنیدخان ان کا بھرپور ساتھ دینے کے لیے اپنی فارم اور فٹنس پر توجہ دیں، سلیکٹرز کو متبادل بولرز بھی تیار رکھنے ہوں گے۔

اگرچہ قومی ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی کی صورت میں بڑی فتح حاصل کی ہے لیکن خامیوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کو دور کرنے کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہے، کارکردگی دکھانے والے نوجوان کرکٹرز اور مستقبل میں بھی ٹیم کا حصہ بنائے جانے والوں کی فٹنس کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے خصوصی پلان بنانا ہوں گے، کھیل میں مہارت کو مزید نکھارنے کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر بھی توجہ دینا ہو گی، کاکول اکیڈمی میں آرمی ٹرینرز کی نگرانی میں فٹنس کیمپ کے اچھے نتائج برآمد ہوئے تھے، فارغ دنوں میں اس نوعیت کی ٹریننگ کا اہتمام کرکے مستقبل کے بڑے چیلنجز کی اچھی تیاری کی جا سکتی ہے، فیلڈنگ کے میدان میں بھی مزید بہتری لانے کے لیے کام جاری رکھنا چاہیے۔

ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا عمل تو بتدریج آگے بڑھے گا، مگر ملکی پچز کا معیار بہتر کرکے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بہتر کارکردگی کے لیے اچھی تیاری کی جا سکتی ہے، ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری لانے کے ساتھ غیرملکی لیگز اور کاؤنٹی میچز میں شرکت سے بھی کھلاڑیوں کی خود اعتمادی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، نوجوان کرکٹرز مستقبل کا اثاثہ ہیں ان کو گروہ بندی سے دور رکھنے کے لیے بہترین ماحول دیا جائے۔چیمپئنز ٹرافی جیت لینے کے باوجود پاکستان کو سرفہرست ٹیموں میں شمار نہیںکیا جا سکتا، تاہم بہتری کی جانب سفرکا آغاز خوش آئند ہے، منزل تک پہنچنے کے لیے راہ کے کانٹے ہٹاتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔
Load Next Story