پارلیمنٹ کے 5سال ریکارڈ قانون سازی عوامی مسائل سے بیگانگی

قومی اسمبلی نے18ویں،19ویں،20ویں ترامیم سمیت117جبکہ سینیٹ نے78بل پاس کیے گئے ہیں

ارکان اسمبلی توانائی،مہنگائی،امن وامان،خارجہ پالیسی جیسے موضوعات بحث سے آگے ہی نہ بڑھ سکے،رپورٹ فوٹو: فائل

KARACHI:
پارلیمنٹ نے گزشتہ 5 سال کے دوران ریکارڈ قانون سازی کی، قومی اسمبلی نے 18 ویں ، 19ویں اور 20 ویں آئینی ترمیم سمیت117 جبکہ سینیٹ نے78 بل پاس کیے۔

رپورٹ کے مطابق17 مارچ 2008 سے31 جنوری 2013 کے دوران قومی اسمبلی کے مجموعی طور پر49 اجلاس منعقد کیے گئے، اس دوران بشمول11 پرائیویٹ بلز کے مجموعی طور پر117 بل پاس کیے۔18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے58 ٹو بی کا خاتمہ کیا گیا اور صدر نے اپنے زیادہ تر اختیارات وزیراعظم کو منتقل کر دیے۔19ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کا طریقہ کار وضع کیا گیا جبکہ20 ویں آئینی ترمیم میں نگراں سیٹ اپ کے قیام کا نیا طریق کار طے کردیا گیا۔ دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے خفیہ ایجنسیوں کو بااختیار بنانے سے متعلق فیئر ٹرائل بل بھی پاس کیا گیا۔




سیاسی معاملات سے ہٹ کر بھی پارلیمنٹ نے کئی اہم بل پاس کیے جن میں فیملی کورٹس ترمیمی بل 2009، انسانی اعضا کی پیوند کاری بل 2007، کام کرنیکے مقامات پر خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق بل 2009، اسلام آباد ہائیکورٹ بل 2010، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بل 2010، برطرف ملازمین کی بحالی کا بل2010 اور صارفین کے تحفظ کا ترمیمی بل2011 بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ میں تاریخی قانون سازی تو ہوئی تاہم عوامی مسائل کے حل کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ 5 سالوں کے دوران قومی اسمبلی میں97 آرڈیننس بھی پیش کیے گئے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں توانائی کے بحران، مہنگائی، امن و امان کی صورت حال اور آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل جیسے سنجیدہ موضوعات پر 5 سال تک دھواں دھار تقریریں تو ہوئیں تاہم معاملات بحث سے آگے نہ بڑھ سکے۔
Load Next Story