سیاسی فضا میں تلخی

پاناما جے آئی ٹی جیسے جیسے اپنی کارروائی مکمل کر رہی ہے اور اس کی اختتام مدت قریب آ رہی ہے

پاناما جے آئی ٹی جیسے جیسے اپنی کارروائی مکمل کر رہی ہے اور اس کی اختتام مدت قریب آ رہی ہے . فوٹو : فائل

پاناما کیس کی مزید تفتیش کے لیے عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کے فیصلے کی روشنی میں قائم کی گئی جے آئی ٹی جیسے جیسے اپنی کارروائی مکمل کر رہی ہے اور اس کی اختتام مدت قریب آ رہی ہے، ملک کی سیاست میں گرماگرمی بڑھ رہی ہے۔ حکمران مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی تقاریر میں تلخی بڑھ رہی ہے جب کہ تحریک انصاف بھی سخت لب ولہجہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

ادھر ملک کے کاروباری حلقوں میں بھی سیاسی مستقبل کے بارے میں بے چینی اور تشویش بڑھ رہی ہے خصوصاً اسٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان نظر آ رہا ہے اور سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاناما کیس کی تحقیقات ایک قانونی معاملہ ہے۔ اصولی طور پر اسے قانونی انداز میں دیکھا جانا چاہیے اور اس پر قانونی انداز میں ہی بات کی جانی چاہیے۔ اس کیس پر سیاسی بیان بازی نہیں ہونی چاہیے۔

جے آئی ٹی کے روبرو وزیراعظم پیش ہوئے، وزیراعلیٰ پنجاب پیش ہوئے، یہ ایک مثبت طرزعمل تھا۔ اس سے ملک میں قانون کی حکمرانی کا تاثر پیدا ہوا۔ یقیناوزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے بارے میں بھی فہمیدہ حلقوں میں ایک خوشگوار تاثر پیدا ہوا تاہم حکمران جماعت کی اہم شخصیات مسلسل جے آئی ٹی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں جب کہ جے آئی ٹی نے بھی اپنی شکایات عدالت عظمیٰ تک پہنچائی ہیں۔


اب صورت حال یہ ہے کہ جے آئی ٹی کے ارکان سیاست دانوں کی طرح بیان بازی نہیں کر سکتے جب کہ سیاست دان اس معاملے میں آزاد ہیں، اس لیے میڈیا میں ان کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بلاشبہ پاناما کیس کی تحقیقات آئین وقانون کی روشنی میں ایمانداری اور غیرجانبدارانہ انداز میں ہونی چاہیے۔ اگر کسی کو جے آئی ٹی کے ارکان کے حوالے سے تحفظات ہیں تو انھیں بھی دور کیا جانا چاہیے کیوں کہ بہرحال تحقیقات غیر جانبدارانہ ہونی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو پیش ہونے والوں کا بھی فرض ہے کہ وہ جے آئی ٹی پر دباؤ ڈالنے کے لیے بیان بازی نہ کریں۔ اس معاملے پر جو بھی بات کرنی ہے وہ قانون کے دائرے میں ہی کرنی چاہیے۔

تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہر معاملے کے نتائج وعواقب کو سامنے رکھنا چاہیے۔ پاکستان کے اردگرد صورت حال خاصی پیچیدہ ہو چکی ہے۔ افغانستان اور بھارت کے معاملات سب کے سامنے ہیں۔ ادھر مشرق وسطیٰ کی صورت حال بھی دھماکا خیز ہے۔ اس خطے میں پاکستان کے گہرے معاشی مفادات موجود ہیں۔

ادھر سی پیک کا منصوبہ بھی ہے، اس منصوبے کے خلاف بھی سازش ہورہی ہے۔ ایسے حالات میں ملک کو سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پاناما کیس کے معاملے میں جذباتی یا اشتعال انگیز رویہ اختیار کرنے کے بجائے قانونی اخلاق کا مظاہرہ کیا جائے کیوں کہ اس کیس کو قانونی انداز میں ہی لڑا جانا چاہیے اور نتائج کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ جمہوریت کو مسلسل جاری رہنا چاہیے، اسی میں سب کی بھلائی ہے۔

 
Load Next Story