مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم میں اضافہ

جب تک بھارتی حکومت اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتی خطے میں امن کی کوئی کوشش پروان نہیں چڑھ سکتی

جب تک بھارتی حکومت اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتی خطے میں امن کی کوئی کوشش پروان نہیں چڑھ سکتی ۔ فوٹو : فائل

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ہفتے کو ضلع اسلام آباد میں ایک خاتون سمیت چار کشمیریوں کو شہید کر دیا، شہید ہونے والوں میں بشیر احمد وانی المعروف بشیر لشکری اور آزاد حمد ملک نامی نوجوان بھی شامل ہیں، بھارتی فوج کی اس بربریت اور دہشت گردی کے خلاف وادی میں مظاہرے شروع ہو گئے مگر اس نے مظاہرین کو بھی نہ بخشا اور ان پر اندھادھند فائرنگ کی، پیلٹ اور آنسو گیس کے گولے برسائے۔

کٹھ پتلی انتظامیہ نے چار کشمیریوں کی شہادت کے بعد ضلع اسلام آباد میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی اور مزید احتجاجی مظاہرے روکنے کے لیے دیالگام میں سخت پابندیاں لگا دیں، طلباء کے مظاہرے روکنے کے لیے تعلیمی ادارے بھی بند کر کے کرفیو جیسی صورت حال نافذ کر دی گئی۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم روز بروز بڑھتے چلے جا رہے ہیں تو دوسری جانب کشمیری بھی آزادی کی تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے شہادتوں کی تاریخ رقم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جون 2017ء میں بھارتی فوج کے ہاتھوں دو بچوں سمیت 37 کشمیریوں نے جامِ شہادت نوش کیا جب کہ 775 زخمی ہوئے۔

بھارتی فوج نے کشمیریوں پر ہر قسم کا ظلم وستم آزما کر دیکھ لیا، یہاں تک کہ پیلٹ گن کا بھی بے دریغ استعمال کر کے کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو دبانے کا حربہ آزمایا مگر ہر کشمیری کا لہو ایندھن بن کر آزادی کی اس شمع کو مزید فروزاں کرتا چلا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس بھارتی فوج کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد کشمیریوں کے مظاہروں اور تحریک میں شدت آ گئی۔ اب بھارتی فوج نے لشکر طیبہ کے کمانڈر بشیر احمد وانی کو شہید کر دیا، جس پر پوری وادی سراپا احتجاج بن گئی۔

بھارت کی موجودہ انتہاپسند حکومت کی غلط فہمی تھی کہ چند ایک کشمیریوں کی شہادتوں کے بعد اس تحریک کی شدت میں کمی آ جائے گی اور کشمیری بھارتی حکومت کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے مگر کشمیریوں نے جذبۂ حریت کے علم کو بلند رکھ کر بھارتی حکومت کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔ پاکستانی حکومت متعدد بار بھارتی حکومت سے پرامن مذاکرات کا مطالبہ کر چکی ہے مگر وہ کوئی نہ کوئی ایشو کھڑا کر کے نہ صرف مذاکرات سے مسلسل راہِ فرار اختیار کیے ہوئے ہے بلکہ اس نے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔


گزشتہ دنوں وائٹ ہاؤس واشنگٹن میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران انھیں پاکستان کے خلاف اکسانے کی بھرپور کوشش کی۔ ٹرمپ جو پہلے ہی مسلمانوں کے خلاف معاندانہ اور متعصبانہ رویہ رکھتے ہیں، نے بھی مودی کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کشمیری حریت پسند رہنما سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا اور پاکستان کو متنبہ کیا گیا وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے اور ممبئی، پٹھانکوٹ اور بھارت کے دیگر مقامات پر حملوں کے ذمے داران کو کیفرکردار تک پہنچائے۔

ٹرمپ نے بھی کشمیری عوام کے امنگوں کی درست ترجمانی کرنے کے بجائے بھارتی زبان بولی، جس سے بھارتی وزیراعظم کی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم بے نقاب ہو گئی۔ بھارت کے اس رویے کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ وہ خطے میں امن کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کو سبوتاژ کرے گا اور پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔

یہ عیاں ہو چکا ہے کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے افغانستان اور ایران کی سرزمین استعمال کر رہا ، اس نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم میں باقاعدہ طور پر افغان حکومت کو اپنا ہمنوا بنا رکھا ہے۔ اب وہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے امریکی کندھے پر اپنی علاقائی گیم کی بندوق رکھنا چاہتا ہے۔ کشمیریوں کے خلاف امریکا اور بھارت میں پیدا ہونے والی ہم آہنگی مستقبل میں پاکستان کے لیے بہت سے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

کچھ عرصہ پیشتر بھارت نے آزاد کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیکس کا ڈرامہ رچا کر عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی مگر پاکستان نے اس کے ناپاک ارادوں کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ بھارت نے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچنے کے لیے جاسوسی نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے جس کے رابطے سرحد پار افغانستان اور ایران میں موجود ہیں۔

جب تک بھارتی حکومت اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتی خطے میں امن کی کوئی کوشش پروان نہیں چڑھ سکتی۔ دوسری جانب امریکا جسے امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے وہ بھی بھارتی زبان بول رہا ہے۔ یہ پیچیدہ صورت حال پاکستان کے لیے مسائل کا باعث بن رہی ہے۔

 
Load Next Story