ٹیکسز اور عوام

اسٹیل سیکٹر کیلیے بجلی کے استعمال پر سیلز ٹیکس کی شرح نو روپے سے بڑھا کر ساڑھے دس روپے فی یونٹ کردی

اسٹیل سیکٹر کیلیے بجلی کے استعمال پر سیلز ٹیکس کی شرح نو روپے سے بڑھا کر ساڑھے دس روپے فی یونٹ کردی . فوٹو : فائل

اخباری اطلاعات کے مطابق ایف بی آر نے مختلف مصنوعات پر ٹیکسز کے حوالے سے گزشتہ روز گیارہ نوٹیفکیشن جاری کیے جو فوری طور پر لاگوکر دیے گئے ہیں۔ ان نوٹیفکیشنز کے مطابق درآمدی ہائبرڈ گاڑیوں کی فروخت پر سیلز ٹیکس پر25 سے 50 فیصد سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔

اسٹیل سیکٹر کیلیے بجلی کے استعمال پر سیلز ٹیکس کی شرح نو روپے سے بڑھا کر ساڑھے دس روپے فی یونٹ کردی گئی ہے جس سے اسٹیل مصنوعات کی لاگت بڑھنے سے قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ پانچ ہزار روپے فی میٹرک ٹن قیمت کے حامل مقامی سطح پر پیدا ہونے والے کوئلے کی سپلائی پر ان پُٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی سہولت دی گئی ہے جس سے مقامی کوئلے کی پیداوار اور استعمال کو فروغ ملے گا۔


ایک ایس آر او کے ذریعے ٹیکسٹائل، لیدر، گارمنٹس، کھیلوں کا سامان،کارپٹ اور سرجیکل آلات تیار کرنے والے پانچ برآمدی شعبوں کی تیار کردہ اشیاء کی مقامی مارکیٹ میں سپلائی پر عائد کردہ سیلز ٹیکس کی شرح ایک فیصد اضافہ کے ساتھ پانچ فیصد سے بڑھا کر چھ فیصد کردی گئی ہے۔ ان ٹیکسوں کے نفاذ سے بعض چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا اور بعض میں کسی حد تک کمی متوقع ہے۔ ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ہو گی جب کہ اسٹیل پر سیلز ٹیکس بڑھنے سے سریے وغیرہ کی قیمت بڑھے گی۔

بہرحال حکومت کی اپنی ترجیحات ہیں۔ اصل مسلہ ملکی معیشت میں تیزی لانا اور مختلف طبقات کے درمیان معاشی توازن قائم کرنا ہے۔ اسٹیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے مینوفیکچرز کو شاید فائدہ ہو لیکن کنزیومر کو فائدہ نہیں ہو گا۔ تعمیرات کی لاگت میں اضافہ ہو گا۔ اصولی طور پر حکومتی ٹیکسوں کی ایڈجسٹمنٹ ایسے کی جانی چاہیے جس کے نتیجے میں مڈل اور لوئر کلاس کی قوت خرید متاثر نہ ہو کیوں کہ معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے مڈل کلاس اور لوئر کلاس کی قوت خرید برقرار رکھنا ضروری ہے۔ حکومت کے اکنامک منیجرز کو ان پہلوؤں پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
Load Next Story