پہلے سرینڈر پھر مذاکرات
گزشتہ سال بھی تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے حکومت کو مذاکرات کی غیر مشروط پیش کش تو کی تھی۔
ترجمان احسان اللہ احسان نے ویڈیو میں ایک شرط بھی رکھی جس کے مطابق ان کے 5 ساتھیوں کو مذاکرات شروع ہونے سے پہلے رہا کرنا ہوگا۔ فوٹو: اے ایف پی
لاہور:
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے مشروط طور پر حکومت پاکستان کو مذاکرات کی ایک بار پھر دعوت دی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنے ویڈیو پیغام میں حکومت سے مذاکرات کے لیے اپنی دو شرائط پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ میاں نواز شریف، مولانا فضل الرحمان اور منور حسن ضمانت دیں تو حکومت سے مذاکرات کریں گے۔ دوسری شرط میں انھوں نے اپنے تین گرفتار رہنمائوں مسلم خان' حاجی عمر اور مولانا محمود کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تینوں گرفتار افراد حکومت سے مذاکرات کی غرض سے تشکیل دی گئی ان کی پانچ رکنی سیاسی ٹیم کا حصہ ہیں۔گزشتہ سال دسمبر میں بھی تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے ایک ویڈیو پیغام میں حکومت کو مذاکرات کی غیر مشروط پیش کش تو کی تھی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ وہ کسی قیمت پر ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
انھوں نے القاعدہ اور افغان طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کا برملا اظہار بھی کیا تھا۔ اس بار انھوں نے مذاکرات کی مشروط طور پر پیشکش کی ہے مگر ان کے جارحانہ رویے میں کوئی فرق ظاہر نہیں ہوا۔ اس سے پیشتر ویڈیو پیغام میں بھی انھوں نے جمہوری نظام اور سیاسی جماعتوں کے خلاف دھمکی آمیز انداز میں اپنا آیندہ کا لائحہ عمل واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اے این پی کے رہنمائوں پر حملے جاری رکھیں گے۔ انھوں نے خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ جو بھی شخص یا جماعت جمہوریت کی حمایت کرے گی، طالبان اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ اب اپنے نئے ویڈیو پیغام میں بھی انھوں نے ایک اور سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے جلسے پر حملہ اور اس کے ایم پی اے منظر امام کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے خلاف مستقبل میں کارروائیاں تیز کرنے کی دھمکی دی ہے۔طالبان نے میڈیا کو بھی تنبیہ کی کہ وہ مثبت کردار ادا کرے۔
طالبان ایک جانب حکومت کو مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں تو دوسری جانب حکومت کی اتحادی جماعتوں اے این پی اور ایم کیو ایم کے خلاف کارروائیاں کرنے کی دھمکی بھی دے رہے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کی پیشکش کو کون سنجیدہ لے گا۔ طالبان جمہوریت سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کی حامی سیاسی جماعتوں کو قتل کی دھمکی تو دے رہے ہیں مگر وہ جس حکومت کو مذاکرات کی پیش کش کر رہے ہیں وہ جمہوری حکومت ہی تو ہے اور جمہوری نظام کے تحت ہی عوام کے ووٹوں سے برسراقتدار آئی ہے۔
وہ حکومت سے مذاکرات کے لیے جن شخصیات کو ضامن ٹھہرا رہے ہیں، وہ بھی جمہوری نظام کے حامی اور اس کا حصہ ہیں۔ طالبان کی سوچ اورفکر کو مدنظر رکھا جائے تو جن شخصیات کی وہ ضمانت مانگ رہے ہیں، خدشہ ہے کہ جمہوری نظام کا حصہ ہونے کی بنا پر وہ بھی طالبان کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔ فضل الرحمان اور منور حسن کی مذہبی جماعتیں بھی تو جمہوری نظام پر یقین رکھتی ہیں پھر طالبان انھیں ضامن کیوں ٹھہرا رہے ہیں۔ طالبان کے دھمکی آمیز رویے سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ مذاکرات کی پیشکش کی آڑ میں حکومت ، سیاسی جماعتوں اور عوام کو الجھاؤ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھر انھوں نے اپنے پیغام میں یہ واضح نہیں کیا کہ نواز شریف' فضل الرحمن اور منور حسن کس امر کی ضمانت دیں؟
طالبان ایک جنگجو گروپ ہے جو ریاست کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ وہ پاکستان کے آئین کو ہی تسلیم نہیں کرتا، ایسے گروہ سے عوام کی نمایندگی اور آئین کی پاسداری کی دعویدار حکومت یا جماعت کیسے مذاکرات کر سکتی ہے۔ریاست کی باغی گروپ سے مذاکرات کے لیے پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ جنگجو گروپ ہتھیار ڈالے اور اپنی حکومت مخالف کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کرے، اس کے بعد وہ اپنے نمایندوں کو مذاکرات کے لیے بھیج سکتی ہے مگر طالبان نہ تو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہیں اور نہ اپنی کارروائیاں بند کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں بلکہ اسے جاری رکھنے کی مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی شخصیت یا جماعت ان کی کیسے ضامن بن سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میاں نواز شریف نے تو ضامن بننے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے حکومت کی ضمانت نہیں دے سکتے کیونکہ حکومت نے جو وعدے کیے وہ پورے نہیں کیے۔نواز شریف تو اس مذاکراتی عمل میں شریک ہونے سے انکاری ٹھہرے مگر دوسری جانب خیبر پختون خوا حکومت نے طالبان کی اس پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خوش آیند قرار دیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے موقف اختیار کیا کہ طالبان کی اس پیش کش کو اے این پی کی جانب سے بلائی جانے والی اے پی سی میں زیر بحث لایا جائے گا تاکہ اس سلسلے میں موقف اپنایا جا سکے۔ جے یو آئی (ف) خیبر پختون خوا کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات عبدالجلیل نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سارا عمل گرینڈ قبائلی جرگہ کے ذریعے ہونا چاہیے کیونکہ یہ جرگہ حکومت اور طالبان کے درمیان حقیقی معنوں میں پل کا کردار ادا کرے گا۔ طالبان کو یہ گلہ ہے کہ انھوں نے مذاکرات پر حکومت کو مثبت جواب دیا تھا مگر حکومت کی جانب سے مثبت جواب نہ آنے پر اس کی غیر سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔
طالبان حکومت پر مثبت جواب نہ دینے کا الزام تو دھر رہے ہیں مگر انھیں اپنے رویے پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے کہ وہ ایک جانب مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں تو دوسری جانب حکومت کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کو موت کے گھاٹ اتار کر ان کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ ویڈیو پیغام میں احسان اللہ احسان کے ساتھ عدنان رشید موجود ہیں، وہ سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے مگر بعدازاں بنوں جیل توڑ کر فرار ہو گئے ۔
جب طالبان حکومت اور اس کے اتحادی ارکان کو نشانہ بنائیں گے تو پھر حکومت انھیں کیسے مثبت جواب دے سکتی ہے۔ جس گرفتار طالبان رہنما مسلم خان کی رہائی کی شرط رکھی گئی ہے وہ موصوف بھی سوات میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف رہے ہیں۔ طالبان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ایک مثبت علامت ہے مگر ضروری ہے کہ طالبان پہلے ہتھیار ڈالیں' القاعدہ اور افغان طالبان سے علیحدگی کا اعلان کریں، سیاسی جماعتوں کی جانب اپنا معاندانہ رویہ ترک کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائیاں ختم کریں تو پھر امید ہے کہ حکومت بھی ان کو مذاکرات کا مثبت جواب دے گی اور دوسری قوتیں بھی ضامن بننے کی پیشکش بخوشی قبول کریں گی۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے مشروط طور پر حکومت پاکستان کو مذاکرات کی ایک بار پھر دعوت دی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنے ویڈیو پیغام میں حکومت سے مذاکرات کے لیے اپنی دو شرائط پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ میاں نواز شریف، مولانا فضل الرحمان اور منور حسن ضمانت دیں تو حکومت سے مذاکرات کریں گے۔ دوسری شرط میں انھوں نے اپنے تین گرفتار رہنمائوں مسلم خان' حاجی عمر اور مولانا محمود کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تینوں گرفتار افراد حکومت سے مذاکرات کی غرض سے تشکیل دی گئی ان کی پانچ رکنی سیاسی ٹیم کا حصہ ہیں۔گزشتہ سال دسمبر میں بھی تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے ایک ویڈیو پیغام میں حکومت کو مذاکرات کی غیر مشروط پیش کش تو کی تھی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ وہ کسی قیمت پر ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
انھوں نے القاعدہ اور افغان طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کا برملا اظہار بھی کیا تھا۔ اس بار انھوں نے مذاکرات کی مشروط طور پر پیشکش کی ہے مگر ان کے جارحانہ رویے میں کوئی فرق ظاہر نہیں ہوا۔ اس سے پیشتر ویڈیو پیغام میں بھی انھوں نے جمہوری نظام اور سیاسی جماعتوں کے خلاف دھمکی آمیز انداز میں اپنا آیندہ کا لائحہ عمل واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اے این پی کے رہنمائوں پر حملے جاری رکھیں گے۔ انھوں نے خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ جو بھی شخص یا جماعت جمہوریت کی حمایت کرے گی، طالبان اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ اب اپنے نئے ویڈیو پیغام میں بھی انھوں نے ایک اور سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے جلسے پر حملہ اور اس کے ایم پی اے منظر امام کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے خلاف مستقبل میں کارروائیاں تیز کرنے کی دھمکی دی ہے۔طالبان نے میڈیا کو بھی تنبیہ کی کہ وہ مثبت کردار ادا کرے۔
طالبان ایک جانب حکومت کو مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں تو دوسری جانب حکومت کی اتحادی جماعتوں اے این پی اور ایم کیو ایم کے خلاف کارروائیاں کرنے کی دھمکی بھی دے رہے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کی پیشکش کو کون سنجیدہ لے گا۔ طالبان جمہوریت سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کی حامی سیاسی جماعتوں کو قتل کی دھمکی تو دے رہے ہیں مگر وہ جس حکومت کو مذاکرات کی پیش کش کر رہے ہیں وہ جمہوری حکومت ہی تو ہے اور جمہوری نظام کے تحت ہی عوام کے ووٹوں سے برسراقتدار آئی ہے۔
وہ حکومت سے مذاکرات کے لیے جن شخصیات کو ضامن ٹھہرا رہے ہیں، وہ بھی جمہوری نظام کے حامی اور اس کا حصہ ہیں۔ طالبان کی سوچ اورفکر کو مدنظر رکھا جائے تو جن شخصیات کی وہ ضمانت مانگ رہے ہیں، خدشہ ہے کہ جمہوری نظام کا حصہ ہونے کی بنا پر وہ بھی طالبان کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔ فضل الرحمان اور منور حسن کی مذہبی جماعتیں بھی تو جمہوری نظام پر یقین رکھتی ہیں پھر طالبان انھیں ضامن کیوں ٹھہرا رہے ہیں۔ طالبان کے دھمکی آمیز رویے سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ مذاکرات کی پیشکش کی آڑ میں حکومت ، سیاسی جماعتوں اور عوام کو الجھاؤ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھر انھوں نے اپنے پیغام میں یہ واضح نہیں کیا کہ نواز شریف' فضل الرحمن اور منور حسن کس امر کی ضمانت دیں؟
طالبان ایک جنگجو گروپ ہے جو ریاست کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ وہ پاکستان کے آئین کو ہی تسلیم نہیں کرتا، ایسے گروہ سے عوام کی نمایندگی اور آئین کی پاسداری کی دعویدار حکومت یا جماعت کیسے مذاکرات کر سکتی ہے۔ریاست کی باغی گروپ سے مذاکرات کے لیے پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ جنگجو گروپ ہتھیار ڈالے اور اپنی حکومت مخالف کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کرے، اس کے بعد وہ اپنے نمایندوں کو مذاکرات کے لیے بھیج سکتی ہے مگر طالبان نہ تو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہیں اور نہ اپنی کارروائیاں بند کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں بلکہ اسے جاری رکھنے کی مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی شخصیت یا جماعت ان کی کیسے ضامن بن سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میاں نواز شریف نے تو ضامن بننے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے حکومت کی ضمانت نہیں دے سکتے کیونکہ حکومت نے جو وعدے کیے وہ پورے نہیں کیے۔نواز شریف تو اس مذاکراتی عمل میں شریک ہونے سے انکاری ٹھہرے مگر دوسری جانب خیبر پختون خوا حکومت نے طالبان کی اس پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خوش آیند قرار دیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے موقف اختیار کیا کہ طالبان کی اس پیش کش کو اے این پی کی جانب سے بلائی جانے والی اے پی سی میں زیر بحث لایا جائے گا تاکہ اس سلسلے میں موقف اپنایا جا سکے۔ جے یو آئی (ف) خیبر پختون خوا کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات عبدالجلیل نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سارا عمل گرینڈ قبائلی جرگہ کے ذریعے ہونا چاہیے کیونکہ یہ جرگہ حکومت اور طالبان کے درمیان حقیقی معنوں میں پل کا کردار ادا کرے گا۔ طالبان کو یہ گلہ ہے کہ انھوں نے مذاکرات پر حکومت کو مثبت جواب دیا تھا مگر حکومت کی جانب سے مثبت جواب نہ آنے پر اس کی غیر سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔
طالبان حکومت پر مثبت جواب نہ دینے کا الزام تو دھر رہے ہیں مگر انھیں اپنے رویے پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے کہ وہ ایک جانب مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں تو دوسری جانب حکومت کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کو موت کے گھاٹ اتار کر ان کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ ویڈیو پیغام میں احسان اللہ احسان کے ساتھ عدنان رشید موجود ہیں، وہ سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے مگر بعدازاں بنوں جیل توڑ کر فرار ہو گئے ۔
جب طالبان حکومت اور اس کے اتحادی ارکان کو نشانہ بنائیں گے تو پھر حکومت انھیں کیسے مثبت جواب دے سکتی ہے۔ جس گرفتار طالبان رہنما مسلم خان کی رہائی کی شرط رکھی گئی ہے وہ موصوف بھی سوات میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف رہے ہیں۔ طالبان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ایک مثبت علامت ہے مگر ضروری ہے کہ طالبان پہلے ہتھیار ڈالیں' القاعدہ اور افغان طالبان سے علیحدگی کا اعلان کریں، سیاسی جماعتوں کی جانب اپنا معاندانہ رویہ ترک کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائیاں ختم کریں تو پھر امید ہے کہ حکومت بھی ان کو مذاکرات کا مثبت جواب دے گی اور دوسری قوتیں بھی ضامن بننے کی پیشکش بخوشی قبول کریں گی۔