کشمیری عوام حق خود ارادیت کے منتظر
جب عالمی دباؤ پڑتا ہے تو ڈپلومیسی یا بیک ڈور چینل کی بھارت کو یاد آتی ہے، وقت نکل جاتا ہے پھر وہی چال بے ڈھنگی۔
بھارت ہمیشہ سے پاکستان پر ہی الزامات لگاتا آیا ہے کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں تربیتی کیمپ کھولے ہوئے ہیں۔ فوٹو : فائل
پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر آج منایا جارہا ہے۔حکومت نے اس دن کی مناسبت سے عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔یہ ایک تاریخ ساز لمحہ ہے اور خود احتسابی کادورانیہ بھی ۔ جب کہ پوری قوم اہل کشمیر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کر رہی ہے ، ملک بھر کی سیاسی، جمہوری ، مذہبی و دینی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں اس عہد کی تجدید کررہی ہیں کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد کے حوالہ اپنے تاریخی اور اصولی موقف سے کبھی دستبردار نہیں ہوسکتا اور بھارت سمیت پوری دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ کشمیر کا تنازعہ جنگ سے نہیں دو طرفہ بات چیت سے حل ہوگا، اس لیے کشمیری عوام کے خلاف غیر انسانی سلوک اور مظالم کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ بھارتی قیادت کو خطے میں امن کے لیے پاکستان کو دھمکانے کا سلسلہ ترک کرنا ہو گا' پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہوچکی ہیں، اعلیٰ سطح پر مذاکرات اور اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات نظر انداز کیے جاتے رہے۔ کشمیر کے تنازعہ پر بھارت نے کبھی بھی کشادہ دلی، معاملہ فہمی ، تدبر اور انصاف کے اصولوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا ۔خطے کی پوری تاریخ کشمیر کے عدم تصفیہ سے زخم زخم ہے، بھارتی جارحیت اور ہٹ دھرمی کے باعث وہ اقدامات بھی ثمر بار ثابت نہیں ہورہے جو مسئلہ کشمیر کے حتمی تصفیہ سے قبل عبوری طور پر ہی سہی ، دو طرفہ تجارت کے تسلسل، پاک بھارت عوام کے مابین تعلقات کی بحالی، ثقافتی وفود کے تبادلہ اور سرحد پاردہشت گردی کے خاتمہ کی مشترکہ کوششوں اور دیگر یقین دہانیوں پر پانی پھیرتے رہے ۔ کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی بھی اسی امر کی غماز ہے۔
جب عالمی دبائو پڑتا ہے تو ڈپلومیسی اور ٹریک تو یا بیک ڈور چینل کی بھارت کو یاد آتی ہے، وقت نکل جاتا ہے پھر وہی چال بے ڈھنگی۔ چنانچہ کشمیری عوام تاریخ کے ایک عظیم فیصلہ کے انتظار میں ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی اسٹیک ہولڈر کشمیر کے مسئلہ کا کوئی پائیدار،منصفانہ اور باوقار حل نکالیں ، ان کی تقریباً تین نسلیں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ظلم و جبر کا شکار رہی ہیں ، بھارت تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ختم نہیں کرسکا۔ ان کے بعض ہارڈ لائنرز بھی بات چیت کے اب قائل ہوچکے ہیں،جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں، بھارتی بندوقوں سے کشمیر کی جدوجہد کو خاموش نہیں کیا جاسکتا۔بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ وقت کے تقاضوںٕ کا ادراک کریں اور کشمیریوں کو ان کا جائز حق دلائیں۔
کشمیری مجاہدین نے اپنے جائز کاز اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے بے مثال صبر وتحمل اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے،اس مقصد کے لیے ان کے جوانوں،خواتین،بوڑھوں اور بچوں نے جام شہادت نوش کیا ہے، تاریخ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ تمام مین اسٹریم جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ 5 فروری کو ملک بھر میں یومِ یکجہتی ٔ کشمیر منایا جارہا ہے ۔آج کشمیری حریت پسندوں سے اظہار یکجہتی کے لیے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلسے اور جلوس منعقد کیے جارہے ہیں ۔ان رہنمائوں نے کہا کہ بھارت مسلسل اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف کررہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل خطے میں امن کے لیے ضروری ہے۔اب تاخیر نہ کی جائے ،خطے کے عوام پاک بھارت مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے بریک تھرو کی خوش خبری سننے کے منتظر ہیں۔
ان کے دکھوں اور مصائب کے دن اب ختم ہونے چاہئیں اور انھیں ابھی اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ 5فروری کے دن کی اپنی ایک اہمیت ہے ، مسئلہ کشمیر پاکستان کی سلامتی، اس کی مکمل شناخت اور مستقبل کے معاشی،تزویراتی،عسکری اور تاریخی تقاضوں اور قوم سے کیے گئے بانیٔ پاکستان کے عہد سے مشروط ہے۔ اس دن کو منانے کے لیے بلاشبہ جلسے ، جلوسوں ، سیمیناروتقاریب کے انعقاد کی روایت سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن سوال یہ ہے کہ جس وادی میں بھارتی جارحیت اور کشمیریوںکے خلاف ظلم وستم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںکا ایک دردناک داستاں رقم کی گئی ہے ۔
صدرآصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کا تاریخی تناظر میں جائزہ لیں گے جب کہ ملک بھر کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اس دن کے حوالہ سے اہل کشمیر سے اپنی یکجہتی اور کشمیری مجاہدین اور ان کے شہدا سے اصولی ،اخلاقی اور تاریخی کمٹمنٹ کی تجدید اس مطالبہ سے کریں گی کہ ارباب اختیار کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جامع کشمیر پالیسی پنانی چاہیے تاکہ اسی کی روشنی میں عالمی قوتوں پر زور ڈالا جاسکے کہ اب خطے میں انصاف و امن کا بول بالاکشمیریوں کو ان کے جائز حق کی فراہمی سے ہونا چاہیے۔
پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ بھارتی قیادت کو خطے میں امن کے لیے پاکستان کو دھمکانے کا سلسلہ ترک کرنا ہو گا' پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہوچکی ہیں، اعلیٰ سطح پر مذاکرات اور اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات نظر انداز کیے جاتے رہے۔ کشمیر کے تنازعہ پر بھارت نے کبھی بھی کشادہ دلی، معاملہ فہمی ، تدبر اور انصاف کے اصولوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا ۔خطے کی پوری تاریخ کشمیر کے عدم تصفیہ سے زخم زخم ہے، بھارتی جارحیت اور ہٹ دھرمی کے باعث وہ اقدامات بھی ثمر بار ثابت نہیں ہورہے جو مسئلہ کشمیر کے حتمی تصفیہ سے قبل عبوری طور پر ہی سہی ، دو طرفہ تجارت کے تسلسل، پاک بھارت عوام کے مابین تعلقات کی بحالی، ثقافتی وفود کے تبادلہ اور سرحد پاردہشت گردی کے خاتمہ کی مشترکہ کوششوں اور دیگر یقین دہانیوں پر پانی پھیرتے رہے ۔ کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی بھی اسی امر کی غماز ہے۔
جب عالمی دبائو پڑتا ہے تو ڈپلومیسی اور ٹریک تو یا بیک ڈور چینل کی بھارت کو یاد آتی ہے، وقت نکل جاتا ہے پھر وہی چال بے ڈھنگی۔ چنانچہ کشمیری عوام تاریخ کے ایک عظیم فیصلہ کے انتظار میں ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی اسٹیک ہولڈر کشمیر کے مسئلہ کا کوئی پائیدار،منصفانہ اور باوقار حل نکالیں ، ان کی تقریباً تین نسلیں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ظلم و جبر کا شکار رہی ہیں ، بھارت تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ختم نہیں کرسکا۔ ان کے بعض ہارڈ لائنرز بھی بات چیت کے اب قائل ہوچکے ہیں،جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں، بھارتی بندوقوں سے کشمیر کی جدوجہد کو خاموش نہیں کیا جاسکتا۔بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ وقت کے تقاضوںٕ کا ادراک کریں اور کشمیریوں کو ان کا جائز حق دلائیں۔
کشمیری مجاہدین نے اپنے جائز کاز اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے بے مثال صبر وتحمل اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے،اس مقصد کے لیے ان کے جوانوں،خواتین،بوڑھوں اور بچوں نے جام شہادت نوش کیا ہے، تاریخ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ تمام مین اسٹریم جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ 5 فروری کو ملک بھر میں یومِ یکجہتی ٔ کشمیر منایا جارہا ہے ۔آج کشمیری حریت پسندوں سے اظہار یکجہتی کے لیے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلسے اور جلوس منعقد کیے جارہے ہیں ۔ان رہنمائوں نے کہا کہ بھارت مسلسل اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف کررہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل خطے میں امن کے لیے ضروری ہے۔اب تاخیر نہ کی جائے ،خطے کے عوام پاک بھارت مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے بریک تھرو کی خوش خبری سننے کے منتظر ہیں۔
ان کے دکھوں اور مصائب کے دن اب ختم ہونے چاہئیں اور انھیں ابھی اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ 5فروری کے دن کی اپنی ایک اہمیت ہے ، مسئلہ کشمیر پاکستان کی سلامتی، اس کی مکمل شناخت اور مستقبل کے معاشی،تزویراتی،عسکری اور تاریخی تقاضوں اور قوم سے کیے گئے بانیٔ پاکستان کے عہد سے مشروط ہے۔ اس دن کو منانے کے لیے بلاشبہ جلسے ، جلوسوں ، سیمیناروتقاریب کے انعقاد کی روایت سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن سوال یہ ہے کہ جس وادی میں بھارتی جارحیت اور کشمیریوںکے خلاف ظلم وستم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںکا ایک دردناک داستاں رقم کی گئی ہے ۔
صدرآصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کا تاریخی تناظر میں جائزہ لیں گے جب کہ ملک بھر کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اس دن کے حوالہ سے اہل کشمیر سے اپنی یکجہتی اور کشمیری مجاہدین اور ان کے شہدا سے اصولی ،اخلاقی اور تاریخی کمٹمنٹ کی تجدید اس مطالبہ سے کریں گی کہ ارباب اختیار کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جامع کشمیر پالیسی پنانی چاہیے تاکہ اسی کی روشنی میں عالمی قوتوں پر زور ڈالا جاسکے کہ اب خطے میں انصاف و امن کا بول بالاکشمیریوں کو ان کے جائز حق کی فراہمی سے ہونا چاہیے۔