افغانستان سے متصل شمالی وزیرستان کا بارڈر کھولنے کا فیصلہ
2014ء میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد غلام خان بارڈر ہر قسم کی تجارت اور آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا
2014ء میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد غلام خان بارڈر ہر قسم کی تجارت اور آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا . فوٹو : فائل
اخباری اطلاع کے مطابق وفاقی حکومت اور سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے متصل شمالی وزیرستان کا غلام خان بارڈر تجرباتی بنیادوں پر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم یہ روٹ صرف تجارت کے لیے استعمال ہو گا' فی الحال عام لوگوں کو آمدورفت کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس ضمن میں حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے تاہم عنقریب اس کا اعلان کیا جائے گا۔
2014ء میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد غلام خان بارڈر ہر قسم کی تجارت اور آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا جو تاحال بند ہے' یہ علاقہ افغانستان کے صوبہ خوست سے ملتا ہے اور طورخم کے بعد افغانستان اور دیگر وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کا دوسرا بڑا روٹ ہے۔ تجارتی روٹ کھولنے کا فیصلہ صائب ہے اس سے سرحد کے دونوں اطراف کے عوام کو خاطر خواہ فائدہ ملے گا' شمالی وزیرستان کے 60فیصد سے زیادہ لوگ تجارت سے وابستہ ہیں'بارڈر بند ہونے سے قبل افغانستان سے خشک میوہ' پھل اور دیگر الیکٹرانک سامان آتا تھا جب کہ یہاں سے گوشت'چینی' سیمنٹ اور کئی دیگر اشیا کی تجارت ہوتی تھی۔
روٹ کھلنے کے بعد مقامی لوگوں کو جو معاشی مشکلات درپیش آ رہی تھیں وہ دور ہو جائیں گی' سرحد کھولنے سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور کارروائیوں کے باعث یہاں امن و امان کی صورت حال بہت بہتر ہو چکی ہے اور دہشت گردی سے جو مسائل پیدا ہوئے تھے اس سے بھی لوگوں کو نجات مل گئی ہے۔ پہاڑی اور پسماندہ علاقہ ہونے کے باعث شمالی وزیرستان میں روز گار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں یہاں دہشت گردی کے مستقل خاتمے اور شہریوں کی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے کہ روز گار کے وسیع مواقع فراہم کیے جائیں اس مقصد کے لیے صنعت کاروں کو دعوت دی جائے تاکہ وہ صنعتیں قائم کریں جس سے یہاں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ اس کے علاوہ یہاں تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز قائم کیے جائیں کیونکہ جہالت اور غربت کے باعث نوجوانوں کی ایک تعداد دہشت گردوں کے جھانسے میں آ جاتی ہے۔
ایک سینئر سرکاری افسر کے مطابق جب تک بارڈر پر امیگریشن کا عملہ پوری طرح تعینات نہیں کیا جاتا عام شہریوں کی اس راستے آمدورفت بند رہے گی، غلام خان بارڈر کو کھولنے کے بعد ابتدائی طور پر اس کا دورانیہ صرف 6دنوں کے لیے ہو گا۔ بارڈر پر تجارت کے لیے کسٹم اور ایکسائز حکام کو بھی تعینات کیا جائے اور تجارت کرنے والوں سے ٹیکس وصول کیا جائے اس سے حکومت کی آمدن میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا دوسری جانب اسمگلنگ کا راستہ روکنے کے لیے بھی سخت اقدامات کیے جائیں۔
2014ء میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد غلام خان بارڈر ہر قسم کی تجارت اور آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا جو تاحال بند ہے' یہ علاقہ افغانستان کے صوبہ خوست سے ملتا ہے اور طورخم کے بعد افغانستان اور دیگر وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کا دوسرا بڑا روٹ ہے۔ تجارتی روٹ کھولنے کا فیصلہ صائب ہے اس سے سرحد کے دونوں اطراف کے عوام کو خاطر خواہ فائدہ ملے گا' شمالی وزیرستان کے 60فیصد سے زیادہ لوگ تجارت سے وابستہ ہیں'بارڈر بند ہونے سے قبل افغانستان سے خشک میوہ' پھل اور دیگر الیکٹرانک سامان آتا تھا جب کہ یہاں سے گوشت'چینی' سیمنٹ اور کئی دیگر اشیا کی تجارت ہوتی تھی۔
روٹ کھلنے کے بعد مقامی لوگوں کو جو معاشی مشکلات درپیش آ رہی تھیں وہ دور ہو جائیں گی' سرحد کھولنے سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور کارروائیوں کے باعث یہاں امن و امان کی صورت حال بہت بہتر ہو چکی ہے اور دہشت گردی سے جو مسائل پیدا ہوئے تھے اس سے بھی لوگوں کو نجات مل گئی ہے۔ پہاڑی اور پسماندہ علاقہ ہونے کے باعث شمالی وزیرستان میں روز گار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں یہاں دہشت گردی کے مستقل خاتمے اور شہریوں کی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے کہ روز گار کے وسیع مواقع فراہم کیے جائیں اس مقصد کے لیے صنعت کاروں کو دعوت دی جائے تاکہ وہ صنعتیں قائم کریں جس سے یہاں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ اس کے علاوہ یہاں تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز قائم کیے جائیں کیونکہ جہالت اور غربت کے باعث نوجوانوں کی ایک تعداد دہشت گردوں کے جھانسے میں آ جاتی ہے۔
ایک سینئر سرکاری افسر کے مطابق جب تک بارڈر پر امیگریشن کا عملہ پوری طرح تعینات نہیں کیا جاتا عام شہریوں کی اس راستے آمدورفت بند رہے گی، غلام خان بارڈر کو کھولنے کے بعد ابتدائی طور پر اس کا دورانیہ صرف 6دنوں کے لیے ہو گا۔ بارڈر پر تجارت کے لیے کسٹم اور ایکسائز حکام کو بھی تعینات کیا جائے اور تجارت کرنے والوں سے ٹیکس وصول کیا جائے اس سے حکومت کی آمدن میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا دوسری جانب اسمگلنگ کا راستہ روکنے کے لیے بھی سخت اقدامات کیے جائیں۔