دنیا کے نصاب تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت
ان بلاؤں میں ایک بلائے عظیم مذہبی انتہا پسندی عرف دہشت گردی جو اگرچہ مسلمانوں کے کھاتے ہیں لکھی جارہی ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
PESHAWAR:
دنیا آج جنگ، نفرت، ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت کے جن جنجالوں میں پھنسی ہوئی ہے، ان سے نکلنے کی جتنی کوششیں کی جاتی ہیں دنیا ان جنجالوں میں اتنی ہی زیادہ پھنستی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جنگیں، نفرتیں انسانوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم، سامراجی ملکوں کی ضرورت ہے۔ بلکہ ان ساری خرابیوں اورگندگیوں کی اصل وجہ ہی انسانوں کی ملک و ملت رنگ، نسل، زبان، قومیت، دین دھرم کے حوالوں سے تقسیم ہے۔ اس تقسیم کی جڑ میں ہزاروں سال کی گہرائیوں میں جمی ہوئی ہیں اور ان میں کمی کے بجائے اضافے کی بالواسطہ اور بلاواسطہ کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ انسانوں کی اصل اور حقیقی تقسیم تو صرف دو حوالوں یعنی رنگ اور نسل ہی ہوسکتی ہے۔ باقی تمام تقسیمیں اکتسابی ہیں۔
انسانوں کی ملک و ملت، رنگ، نسل، دین دھرم وغیرہ کے حوالے سے تقسیم اگر شناخت تک محدود رہے توکوئی قابل اعتراض بات نہیں لیکن جب اس تقسیم کو تعصبات، تنگ نظری، نفرتوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ تقسیم انسانوں کے لیے زہر قاتل بن جاتی ہے۔ تقسیم صدیوں سے نسل در نسل چلی آرہی ہے جس کا نتیجہ صلیبی جنگوں، عالمی جنگوں سے ہوتا ہوا آج کی علاقائی جنگوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ فلسطین اورکشمیر کی ''مقدس'' جنگیں 70 سالوں سے لڑی جارہی ہیں جن میں اب تک لاکھوں انسان مارے جاچکے ہیں اور لاکھوں بے گھر اور بے وطن ہوچکے ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد ''فاتح'' ملکوں نے اپنی جاگیر سمجھ کر کوریا اور جرمنی کو دو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور ایک نسل ایک قوم کے لوگوں کو ایک دوسرے سے برسر پیکار کردیا۔ جرمنی کے عوام نے دیر ہی سے سہی اس سامراجی اور غیر انسانی تقسیم کو ختم کردیا لیکن کوریا پر سامراجی طاقتوں کی گرفت اس قدر مضبوط ہے کہ کوریا ابھی تک دو حصوں میں بٹا ہوا ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے سے برسر پیکار ہے۔ سامراجی ملکوں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا میں ابھی تک سوشلزم کے جراثیم موجود ہیں اور ان جراثیم کے نام پر سرمایہ دارانہ سامراجی ملکوں کی روح فنا ہوجاتی ہے۔ نسلی امتیازات ابھی تک مغربی ملکوں کی سماجی زندگی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ملک و ملت کے حوالوں سے تقسیم کئی بار جنگوں کا سبب بن چکی ہے۔ چین، جاپان، کوریا کے درمیان جو کشیدگی موجود ہے اس کے پیچھے بھی ملک و ملت کے جذبات کار فرما ہیں یا استعمال کیے جارہے ہیں۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام، دین دھرم ملک و ملت کا شاخسانہ ہے۔
ان بلاؤں میں ایک بلائے عظیم مذہبی انتہا پسندی عرف دہشت گردی جو اگرچہ مسلمانوں کے کھاتے ہیں لکھی جارہی ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کی سرپرستی اسرائیل کے ذریعے سرمایہ دارانہ بڑے ملک کررہے ہیں۔ عراق، شام، یمن، لیبیا اور افریقی ملک اس طوفان کی لپیٹ میں ہیں۔ لاکھوں سادہ لوح اور بے گناہ انسان جن میں بوڑھے، جوان، عورتیں اور بچے شامل ہیں ترک وطن پر مجبور ہیں اور جائے پناہ کی تلاش میں کشتیوں میں اوور لوڈ ہوکر سمندر برد ہورہے ہیں۔1947 میں تقسیم ہند کے موقعے پر 22 لاکھ انسانوں کا وحشیانہ قتل اسی ناپاک سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ فقہی اختلافات اب خون خرابے کا اصل سبب بنے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی اسی بنیاد پر کھڑی ہوئی ہے۔
یہ مسائل بلکہ دنیا کی تاریخ کے شرمناک مسائل کی جڑیں ہزاروں سال کی گہرائی میں موجود ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ خدا کے گھروں کو جنھیں محبت اور اخوت کے گہوارے ہونا چاہیے، نفرتوں اور تعصبات کے مرکزوں میں بدل دیا گیا ہے۔ بعض تنظیمیں، بعض مذہبی جماعتیں اپنے بچوں کی تربیت ہی فرقہ وارانہ نفرتوں پرکرتے ہیں۔ انتہا پسند مذہبی جماعتیں اپنے کارکنوں کے ذہنوں کو فرقہ وارانہ زہر سے اس طرح آلودہ کردیتی ہیں کہ وہ جان دینے اور جان لینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ درس گاہیں جن کا کام حیوانوں کو انسان بنانا ہوتا ہے، وہ بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ انسانوں کو حیوان بنانے کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔
ہر ملک کی درس گاہوں میں تاریخ پڑھائی جاتی ہے اور ہر قوم اپنی تاریخ کو دوسری قوموں کے خلاف نفرت کے فروغ کے لیے استعمال کررہی ہے۔ اقوام متحدہ پر ان حوالوں سے بڑی ذمے داریاں آتی ہیں لیکن یہ ادارہ بڑی طاقتوں کی سیاست اور کھینچا تانی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ضرورت بلکہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ دنیا کے تعلیمی نصاب میں مذہبی یکجہتی، قومی مفاہمت، انسان دوستی اور انسانی رشتوں کی اہمیت کے اسباق شامل کیے جائیں اور رنگ و نسل ذات پات زبان قومیت دین دھرم کے حوالے سے پیدا کیے جانے والے تعصبات نفرتوں کے بغیر اور خونخوار اثرات کے نتائج سے نئی نسلوں کو آگاہ کیا جائے اور انھیں بتایا جائے کہ کرۂ ارض پر موجود 17 ارب سے زیادہ انسان ایک ہی جد امجد آدمؑ کی اولاد ہیں۔ اس رشتے کے حوالے سے ان کے درمیان محبت، اخوت، بھائی چارے کے جذبات کا فروغ بنی نوع انسان کے حال اور مستقبل کی ضرورت ہے۔ کیا اقوام متحدہ دنیا کے نصاب تعلیم کو بدل کر اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرے گی؟
دنیا آج جنگ، نفرت، ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت کے جن جنجالوں میں پھنسی ہوئی ہے، ان سے نکلنے کی جتنی کوششیں کی جاتی ہیں دنیا ان جنجالوں میں اتنی ہی زیادہ پھنستی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جنگیں، نفرتیں انسانوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم، سامراجی ملکوں کی ضرورت ہے۔ بلکہ ان ساری خرابیوں اورگندگیوں کی اصل وجہ ہی انسانوں کی ملک و ملت رنگ، نسل، زبان، قومیت، دین دھرم کے حوالوں سے تقسیم ہے۔ اس تقسیم کی جڑ میں ہزاروں سال کی گہرائیوں میں جمی ہوئی ہیں اور ان میں کمی کے بجائے اضافے کی بالواسطہ اور بلاواسطہ کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ انسانوں کی اصل اور حقیقی تقسیم تو صرف دو حوالوں یعنی رنگ اور نسل ہی ہوسکتی ہے۔ باقی تمام تقسیمیں اکتسابی ہیں۔
انسانوں کی ملک و ملت، رنگ، نسل، دین دھرم وغیرہ کے حوالے سے تقسیم اگر شناخت تک محدود رہے توکوئی قابل اعتراض بات نہیں لیکن جب اس تقسیم کو تعصبات، تنگ نظری، نفرتوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ تقسیم انسانوں کے لیے زہر قاتل بن جاتی ہے۔ تقسیم صدیوں سے نسل در نسل چلی آرہی ہے جس کا نتیجہ صلیبی جنگوں، عالمی جنگوں سے ہوتا ہوا آج کی علاقائی جنگوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ فلسطین اورکشمیر کی ''مقدس'' جنگیں 70 سالوں سے لڑی جارہی ہیں جن میں اب تک لاکھوں انسان مارے جاچکے ہیں اور لاکھوں بے گھر اور بے وطن ہوچکے ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد ''فاتح'' ملکوں نے اپنی جاگیر سمجھ کر کوریا اور جرمنی کو دو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور ایک نسل ایک قوم کے لوگوں کو ایک دوسرے سے برسر پیکار کردیا۔ جرمنی کے عوام نے دیر ہی سے سہی اس سامراجی اور غیر انسانی تقسیم کو ختم کردیا لیکن کوریا پر سامراجی طاقتوں کی گرفت اس قدر مضبوط ہے کہ کوریا ابھی تک دو حصوں میں بٹا ہوا ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے سے برسر پیکار ہے۔ سامراجی ملکوں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا میں ابھی تک سوشلزم کے جراثیم موجود ہیں اور ان جراثیم کے نام پر سرمایہ دارانہ سامراجی ملکوں کی روح فنا ہوجاتی ہے۔ نسلی امتیازات ابھی تک مغربی ملکوں کی سماجی زندگی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ملک و ملت کے حوالوں سے تقسیم کئی بار جنگوں کا سبب بن چکی ہے۔ چین، جاپان، کوریا کے درمیان جو کشیدگی موجود ہے اس کے پیچھے بھی ملک و ملت کے جذبات کار فرما ہیں یا استعمال کیے جارہے ہیں۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام، دین دھرم ملک و ملت کا شاخسانہ ہے۔
ان بلاؤں میں ایک بلائے عظیم مذہبی انتہا پسندی عرف دہشت گردی جو اگرچہ مسلمانوں کے کھاتے ہیں لکھی جارہی ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کی سرپرستی اسرائیل کے ذریعے سرمایہ دارانہ بڑے ملک کررہے ہیں۔ عراق، شام، یمن، لیبیا اور افریقی ملک اس طوفان کی لپیٹ میں ہیں۔ لاکھوں سادہ لوح اور بے گناہ انسان جن میں بوڑھے، جوان، عورتیں اور بچے شامل ہیں ترک وطن پر مجبور ہیں اور جائے پناہ کی تلاش میں کشتیوں میں اوور لوڈ ہوکر سمندر برد ہورہے ہیں۔1947 میں تقسیم ہند کے موقعے پر 22 لاکھ انسانوں کا وحشیانہ قتل اسی ناپاک سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ فقہی اختلافات اب خون خرابے کا اصل سبب بنے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی اسی بنیاد پر کھڑی ہوئی ہے۔
یہ مسائل بلکہ دنیا کی تاریخ کے شرمناک مسائل کی جڑیں ہزاروں سال کی گہرائی میں موجود ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ خدا کے گھروں کو جنھیں محبت اور اخوت کے گہوارے ہونا چاہیے، نفرتوں اور تعصبات کے مرکزوں میں بدل دیا گیا ہے۔ بعض تنظیمیں، بعض مذہبی جماعتیں اپنے بچوں کی تربیت ہی فرقہ وارانہ نفرتوں پرکرتے ہیں۔ انتہا پسند مذہبی جماعتیں اپنے کارکنوں کے ذہنوں کو فرقہ وارانہ زہر سے اس طرح آلودہ کردیتی ہیں کہ وہ جان دینے اور جان لینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ درس گاہیں جن کا کام حیوانوں کو انسان بنانا ہوتا ہے، وہ بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ انسانوں کو حیوان بنانے کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔
ہر ملک کی درس گاہوں میں تاریخ پڑھائی جاتی ہے اور ہر قوم اپنی تاریخ کو دوسری قوموں کے خلاف نفرت کے فروغ کے لیے استعمال کررہی ہے۔ اقوام متحدہ پر ان حوالوں سے بڑی ذمے داریاں آتی ہیں لیکن یہ ادارہ بڑی طاقتوں کی سیاست اور کھینچا تانی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ضرورت بلکہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ دنیا کے تعلیمی نصاب میں مذہبی یکجہتی، قومی مفاہمت، انسان دوستی اور انسانی رشتوں کی اہمیت کے اسباق شامل کیے جائیں اور رنگ و نسل ذات پات زبان قومیت دین دھرم کے حوالے سے پیدا کیے جانے والے تعصبات نفرتوں کے بغیر اور خونخوار اثرات کے نتائج سے نئی نسلوں کو آگاہ کیا جائے اور انھیں بتایا جائے کہ کرۂ ارض پر موجود 17 ارب سے زیادہ انسان ایک ہی جد امجد آدمؑ کی اولاد ہیں۔ اس رشتے کے حوالے سے ان کے درمیان محبت، اخوت، بھائی چارے کے جذبات کا فروغ بنی نوع انسان کے حال اور مستقبل کی ضرورت ہے۔ کیا اقوام متحدہ دنیا کے نصاب تعلیم کو بدل کر اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرے گی؟