سندھ حکومت کے لیے کرپشن کا خاتمہ ایک چیلنج
اپوزیشن ہو یاحکمران جماعت دونوں مل بیٹھ کرایک ایسا قانون بنائیں جوکرپشن کی جڑیں اکھاڑنےمیں اہم کرداراداکرے
اپوزیشن ہو یاحکمران جماعت دونوں کو چاہیے کہ مل بیٹھ کر ایک ایسا قانون بنائیں جو کرپشن کی جڑیں اکھاڑنے میں اہم کردار ادا کرے ۔ فوٹو: فائل
SHANGHAI:
سندھ اسمبلی میں قومی احتساب آرڈیننس 1999کی تنسیخ سے متعلق بل2017 اکثریت رائے سے منظوری کے بعد ایک نئی بحث اوراپوزیشن کے احتجاج نے جنم لیا ہے۔اس ضمن میںدو مختلف موقف سامنے آئے ہیں، سندھ کے وزیراعلیٰ نے بل کی منظوری کو ایک تاریخی کارنامہ قرار دیا اورکہا ایک ماہ کے اندرصوبائی سطح پر احتساب کا قانون لائیںگے جس سے کرپشن کا خاتمہ کرکے دکھائیں گے، نیب آرڈیننس درحقیقت ایک صوبائی سبجیکٹ ہے کیونکہ صوبوں میں اینٹی کرپشن کا محکمہ پہلے ہی موجود ہے جب کہ قائد حزب اختلاف نے تو اس بل کی منظوری کو ملک سے 'غداری' قرار دے دیا ۔حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کی شدید ترین خواہش ہے کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو، تاکہ ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہوسکے ، یہ ایک چیلنج ہے ، کیونکہ کرپشن ہماری بنیادوں کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے، بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے یا تو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پائے یا اگر مکمل بھی ہوئے تو ان کا وہ معیار نہیں تھا، جس کے باعث قومی دولت کا ضیاع ہوا اور ترقی کا سفر اس رفتار سے جاری نہیں رہ سکا جس رفتار سے ہونا چاہیے تھا، لامحالہ اس کا نتیجہ ترقی معکوس کی صورت رونما ہوا جس کے باعث عوام کی مشکلات بڑھ چکی ہیں۔
صوبائی وزیرقانون کے مطابق آئین کی 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد یہ صوبائی اختیار ہے کہ وہ کرپشن کی روک تھام کے لیے ایک متوازن اور منصفانہ قانون متعارف کرائے۔ یقینا یہ بل عوام کی منتخب کردہ حکومت نے کچھ سوچ وسمجھ کر ہی تیارکیا ہے اوراس کے مندرجات کی تیاری میں قانونی نکات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہوگا۔ساری قانونی موشگافیوں سے قطع نظر اہمیت اس امرکی ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کیونکر ہو، اس کا درست اور صائب حل تجویزکرنا بھی حکومتی نمایندوں کی ذمے داری ہے۔
اپوزیشن ہو یا حکمران جماعت دونوں کو چاہیے کہ مل بیٹھ کر ایک ایسا قانون بنائیں جو کرپشن کی جڑیں اکھاڑنے میں اہم کردار ادا کرے ۔ عوام کی توقعات جمہوری نظام سے بہت زیادہ وابستہ ہیں۔ وہ سرکاری محکموں کے ستائے ہوئے ہیں ان کو ریلیف ملنا چاہیے ناکہ عوامی نمایندے اپنی سہولت کو دیکھیں۔ بدعنوانی کا کلچر پورے سیاسی اور انتظامی سسٹم میں جڑیں مضبوط کرچکا ہے جسے ادارہ جاتی سطح پر اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔ لہذا ہم ان سطور کے ذریعے پوری توقع رکھتے ہیں کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت ایسے مناسب اور فوری اقدامات اٹھائے گی جس اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
سندھ اسمبلی میں قومی احتساب آرڈیننس 1999کی تنسیخ سے متعلق بل2017 اکثریت رائے سے منظوری کے بعد ایک نئی بحث اوراپوزیشن کے احتجاج نے جنم لیا ہے۔اس ضمن میںدو مختلف موقف سامنے آئے ہیں، سندھ کے وزیراعلیٰ نے بل کی منظوری کو ایک تاریخی کارنامہ قرار دیا اورکہا ایک ماہ کے اندرصوبائی سطح پر احتساب کا قانون لائیںگے جس سے کرپشن کا خاتمہ کرکے دکھائیں گے، نیب آرڈیننس درحقیقت ایک صوبائی سبجیکٹ ہے کیونکہ صوبوں میں اینٹی کرپشن کا محکمہ پہلے ہی موجود ہے جب کہ قائد حزب اختلاف نے تو اس بل کی منظوری کو ملک سے 'غداری' قرار دے دیا ۔حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کی شدید ترین خواہش ہے کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو، تاکہ ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہوسکے ، یہ ایک چیلنج ہے ، کیونکہ کرپشن ہماری بنیادوں کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے، بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے یا تو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پائے یا اگر مکمل بھی ہوئے تو ان کا وہ معیار نہیں تھا، جس کے باعث قومی دولت کا ضیاع ہوا اور ترقی کا سفر اس رفتار سے جاری نہیں رہ سکا جس رفتار سے ہونا چاہیے تھا، لامحالہ اس کا نتیجہ ترقی معکوس کی صورت رونما ہوا جس کے باعث عوام کی مشکلات بڑھ چکی ہیں۔
صوبائی وزیرقانون کے مطابق آئین کی 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد یہ صوبائی اختیار ہے کہ وہ کرپشن کی روک تھام کے لیے ایک متوازن اور منصفانہ قانون متعارف کرائے۔ یقینا یہ بل عوام کی منتخب کردہ حکومت نے کچھ سوچ وسمجھ کر ہی تیارکیا ہے اوراس کے مندرجات کی تیاری میں قانونی نکات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہوگا۔ساری قانونی موشگافیوں سے قطع نظر اہمیت اس امرکی ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کیونکر ہو، اس کا درست اور صائب حل تجویزکرنا بھی حکومتی نمایندوں کی ذمے داری ہے۔
اپوزیشن ہو یا حکمران جماعت دونوں کو چاہیے کہ مل بیٹھ کر ایک ایسا قانون بنائیں جو کرپشن کی جڑیں اکھاڑنے میں اہم کردار ادا کرے ۔ عوام کی توقعات جمہوری نظام سے بہت زیادہ وابستہ ہیں۔ وہ سرکاری محکموں کے ستائے ہوئے ہیں ان کو ریلیف ملنا چاہیے ناکہ عوامی نمایندے اپنی سہولت کو دیکھیں۔ بدعنوانی کا کلچر پورے سیاسی اور انتظامی سسٹم میں جڑیں مضبوط کرچکا ہے جسے ادارہ جاتی سطح پر اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔ لہذا ہم ان سطور کے ذریعے پوری توقع رکھتے ہیں کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت ایسے مناسب اور فوری اقدامات اٹھائے گی جس اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے میں مدد ملے گی۔