نریندر مودی کا دورہ اسرائیل

بھارت جنگجویانہ جنون اورخطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے میں مصروف ہے

بھارت جنگجویانہ جنون اورخطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے میں مصروف ہے . فوٹو : اے ایف پی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی منگل کی شام سہ روزہ سرکاری دورہ پر تل ابیب پہنچے۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی حکام سے ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، وہ پہلے بھارتی وزیراعظم ہیں جو اسرائیل کا دورہ کررہے ہیں، اس دورے کے اختتام پر وہ جرمنی روانہ ہوں گے جہاں وہ جی 20 کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر ممالک کا میڈیا بھارت اسرائیل تعلقات کے تناظر میں مودی یاترا کو دوررس نتائج کا حامل قرار دے رہا ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق مودی اس دورہ میں دفاع، زراعت، تجارت، ڈپلومیسی اور آبی انتظام کاری کے شعبوں میں معاہدوں پر دستخط کریں گے،اسرائیلی اخبار ''ہاریٹز'' کے مطابق دونوں ملکوں نے اقتصادی امور پر اپنا روڈ میپ پہلے سے تیار کررکھا ہے، اور یہ بھی کہ بھارت اور اسرائیلی حکام کی سوچ میں یکسانیت ہے، بھارت اسرائیلی دفاعی سازوسامان کا سب سے بڑا خریدار ہے۔


اسی سے بھارت جنگجویانہ جنون اورخطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے میں مصروف ہے، جب کہ بھارتی تجزیہ کاروں نے مودی پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے متوازن پالسی اختیار کریں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مودی کا دورہ اسرائیل میں مقیم بھارتی یہودیوں کے لیے لینڈ مارک واقعہ ہے ۔ مودی نے مشرق وسطیٰ کے ملکوں سے تجارتی ،دفاعی اور معاشی روابط کے لیے بھی پیش رفت کی ہے، چنانچہ اس وقت جب کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال سعودی عرب، قطر اور ایران تنازع کے باعث فلیش پوائنٹ بنی ہوئی ہے پاکستان کو بھی بین الاقوامی روابط کے نئے پیراڈائم قائم کرنے کی ضرورت ہے ، عالمی قوتوں کے مابین اتحاد ، پارٹنرشپس کی مختلف جہتوں اور اقتصادی و دفاعی تعلقات میں گرم جوشی نظر انداز نہیں کی جانی چاہیے۔

پرانی دشمنیوں کو فراموش کر کے نئے دوست بنانے کی رواں صدی میں پاکستان کو ایک ذمے دار ایٹمی ریاست کے طور پر عالمی برادری کی صف میں اپنا سافٹ ، روادارانہ اور جمہوری امیج پورے وقار کے ساتھ ابھارنا چاہیے، اس لیے لازم ہے کہ وطن عزیز کولڈ وار اسٹرٹیجی کو خیرباد کہے، بھارت،اسرائیل تعلقات کے تناظر میں اپنی خارجہ پالیسی کو قومی سلامتی کی ترجیحات سے مربوط رکھے ۔ ہمارے حکمرانوں اور خارجہ پالیسی سازوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ مشرق وسطیٰ میں جب بھی عرب ممالک اور عالم اسلام کو ضرورت پڑے گی تو ان کی نظر انتخاب پاکستان پر ہی پڑے گی۔
Load Next Story