انکم ٹیکس چھوٹ ریفنڈز ختم ہونے سے 3 کھرب آمدن ہوگی

1200 نان ریذیڈنٹ کمپنیوں کو 2003 سے دی گئی چھوٹ جنوری 2013 سے ختم ہوئی۔

ایف بی آر کو 2500 ارب کا نقصان ہوا، رقم واپس لی جائے، فیڈرل ریونیو الائنس ایمپلائز یونین۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے نان ریذیڈنٹ کمپنیوں کو انکم ٹیکس میں دی گئی چھوٹ اور ریفنڈز ختم کرنے سے قومی خزانے کو سالانہ 300 ارب روپے کی آمدنی ہوگی۔


ایف بی آر کی جانب سے جاری سرکلر نمبر1 اور 2 کے مطابق نان ریذیڈنٹ کمپنیوں کو ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ جنوری 2013 سے ختم کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں فیڈرل ریونیو الائنس ایمپلائز یونین پاکستان کے مرکزی صدر میاں عبدالقیوم نے پیر کے روز انکم ٹیکس لاہور ریجن کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 1200 کے لگ بھگ نان ریذیڈنٹ کمپنیوں کو 2003 سے ٹیکس چھوٹ دی گئی تھی اور وہ ریفنڈز بھی حاصل کر رہی تھیں جس کے باعث ایف بی آر کو سالانہ 300 ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا تھا، اس طرح ایف بی آر کو مجموعی طور پر 2500 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ یہ رقم پاکستان کے کل وفاقی بجٹ جتنی بنتی ہے۔

انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری، وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ نان ریذیڈنٹ کمپنیوں کی جانب سے غیر قانونی ٹیکس چھوٹ اور غیر قانونی ریفنڈز کی مد میں قومی خزانے کو 2500 ارب روپے کا نقصان پہنچانے پر اعلٰیٰ سطحی کمیشن قائم کیا جائے، جو اس اسکینڈل میں ملوث کمپنیوں اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کرے اور یہ رقم ریکور کرکے قومی خزانے میںجمع کرائی جائے، تاکہ پاکستان کی مالی مشکلات میں کمی آسکے۔
Load Next Story