کرکٹ جیت کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے

چیمپیئنز ٹرافی جیتنے والی کرکٹ کے نوجوان کھلاڑی اس وقت قوم کے ہیروز بن چکے ہیں

چیمپیئنز ٹرافی جیتنے والی کرکٹ کے نوجوان کھلاڑی اس وقت قوم کے ہیروز بن چکے ہیں . فوٹو ـ فائل

MINGORA:
چیمپیئنز ٹرافی جیتنے والی کرکٹ کے نوجوان کھلاڑی اس وقت قوم کے ہیروز بن چکے ہیں، انھیں وطن عزیزمیں خوب پذیرائی مل رہی ہے، قوم کا ہرشخص انھیں سرآنکھوں پر بٹھا رہا ہے۔ یہ کھلاڑی جہاں جاتے ہیں وہاں ان کا شاندار استقبال کیا جاتا ہے اور عوام کا جم غفیر ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب نظر آتا ہے، جب کہ مختلف ادارے ان کے اعزاز میں تقریبات منعقد کر کے انھیں انعامات سے بھی نواز رہے ہیں ۔ اسی تسلسل میں جیتنے والی قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ آنے والا وقت پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کا ہے،ایک دن آئے گا جب غیرملکی ٹیمیں بھاگم بھاگ پاکستان آئیں گی ۔ فاتح ٹیم کے ہرکھلاڑی کو ایک کروڑ روپے کا نقد انعام دیا گیا۔کرکٹ کو جومقبولیت اورعوامی پذیرائی پاکستان میں حاصل ہے۔


اس کا شمار کرنا اور اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں، ہر پاکستانی اس کا دیوانہ ہے، یہی وجہ ہے کہ جب کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو وہ راتوں رات سپراسٹارز بن جاتے ہیں اور قومی ہیروز کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں اور جب خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ہیرو کو زیرو ہوتے دیر نہیں لگتی،ایک جذباتی وابستگی ہے پاکستانی شائقین کرکٹ کی کھلاڑیوں کے ساتھ ۔ ویسے تو ہمارا قومی کھیل 'ہاکی' ہے لیکن کرکٹ کو جو مقبولیت حاصل ہے اس کا کوئی مقابل نہیں۔ بلاشبہ چمپیئنز ٹرافی کے پہلے دومیچز ہارنے اور رینکنگ میں آٹھویں درجے کی ٹیم سے کوئی توقع نہیں کر پارہا تھا کہ وہ ایسا کم بیک کرے گی کہ ٹرافی جیت کر ہی دم لے گی۔

نوجوان کھلاڑیوں نے حیرت انگیزکارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ٹرافی جیتی بلکہ قوم کو جیت کی خوشی میں محورقص ہونے پر مجبورکردیا۔کھلاڑیوں کی پذیرائی، حوصلہ افزائی اورانعامات ونوازشات کی بارش اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہیں، لیکن اب کھلاڑیوں پر بھاری اوردہری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جیت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انتھک محنت کریں،اپنی کارکردگی میں نکھار لائیں ، ورلڈکپ کی آمد آمد ہے، اس کو جیتنے کے لیے بھرپورپلاننگ اور ٹیم کے ہر کھلاڑی کو انتھک محنت کرنا پڑے گی اور بہترین کرکٹ کھیلنا ہوگی، تب ہی جاکر امید پیدا ہوگی ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتنے کی ۔ ٹیم جتنے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اتنا ہی انٹرنیشنل ٹیموں کے لیے پاکستان آکر کھیلنے کے لیے کشش بھی پیدا ہوگی اور برسوں سے سنسنان گراؤنڈ آباد ہوں گے اور شائقین کرکٹ کو بہترین کھیل دیکھنے کو ملے گا۔
Load Next Story