کتاب کی قیمت درود شریف

کاغذ بھی آرٹ پیپر ہے اورتصاویر بھی مزین ہے لیکن سولہ سو روپے قیمت؟۔

barq@email.com

اپنے پڑوسی ملک کی ایک بزرگہ '' تیاگ اور تپسا'' میں اتنی مگن ہو گئی ہے کہ لباس تک کو تیاگ چکی ہے اور صرف چار گرہ کے دو ٹکڑوں پر گزارہ کر تی ہے، اپنے ایک آئیٹم سانگ میں فرمایا ہے کہ یہ مت دیکھو کہ زندگی میں کتنے ''پل '' ہے بلکہ یہ سوچ کہ ہر پل میں زندگی کتنی ہے؟

اب ہم اتنے پہنچے ہوئے تو ہیں نہیں کہ اس کی بات کی اصل گہرائی تک پہنچیں البتہ سطحی طور اتنا سمجھ پائے ہیں کہ اس کا مدعا یہ ہے کہ زندگی میں ''پھل'' مت گن بلکہ پھلوں میں زندگی ڈھونڈو ، ٹھیک ہے اس بزرگہ نے پھل نہیں ''پل '' کہا ہے لیکن ہم جیسے عامی اسے ''پل '' کے بجائے پھل سمجھیں تو بھی بات بنتی ہے یعنی ہمیں یہ دیکھنا نہیں چاہیے ہم کتنے اور کیسے کیسے پھل خرید کر کھا سکتے ہیں بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ ہم جو ''پھل'' ایفورڈ کر سکتے ہیں خرید سکتے ہیں یا کھا سکتے ہیں ان کے اندر خوبیاں کتنی ہیں۔

اس لحاظ سے ہم غریبوں کے ایک مشہور اور دستیاب پھل '' صبر '' کا ذکر تو کر چکے ہیں کہ اس ایک پھل میں کتنی مٹھاس بھری ہوئی ہے اور غریبوں کی خوش نصیبی دیکھیے کہ اس پھل پر مکمل اجارو داری غریبوں یا عوام کی ہے مجا ل ہے جو خواص اسے چکھ بھی سکیں او یہ سب حکومت کے حسن انتظام ، غریب نوازی اور عدل و انصاف کی برکت سے ممکن ہوا ہے کہ صبر کا پھل صرف عوام کو نصیب ہے،لیکن اس صبر کے میٹھے پھل کے علاوہ ایک اور پھل بھی ہے جو مکمل طور پر ہولی سولی عوامی پھل ہے اور وہ پھل ہے گناّ جو نہ صرف خود میٹھا ہے بلکہ تمام مٹھاسوں کی ماں بھی ہے یا شاید باپ ہو۔

'' گنے '' کی غریبوں کے ساتھ تعلق کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصل آباد کے ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم نے اس پر ایک بڑی خوبصورت بلکہ میٹھی کتاب بھی لکھی ہے۔ نام ہے ''گنا کھیت سے کھیت تک''۔ڈاکٹر صاحب فیصل آباد کے ایوب ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں شوگر کے شعبے میں ماہر ہیں۔


انھوں نے غریبوں کے پھل گنے پر جو کتاب لکھی ہے اس سے ''گنے '' کا سارا تاریخ جغرافیہ بیان کیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس میٹھے پھل کی کاشت میں کیا کیا کر کے اس کی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے لیکن ہم نے جب کتاب کی قیمت دیکھی 1600روپے تو مٹھاس میں کچھ کڑواہٹ سی گھل گئی لہذا فوراً ٹیلیفون اٹھا کر ڈاکٹر صاحب سے رجوع کیا کہ گنے کا تو سارا تعلق ہی غریبوں سے ہے اور کاشکار ویسے بھی پاکستان میں منافع خوریوی کا شکار ہو کر نان شبینہ کو محتاج ہو رہے ہیں، وہ بچارے سولہ سو روپے میں یہ کتاب کیسے خرید پائیں گے مانا کہ بڑی مفید کتاب ہے اور ہر گنے کے کسان کے پاس اس کا ہونا ضروری ہے لیکن پھر بھی سولہ سو روپے قیمت بہت ہے ٹھیک ہے کتاب کی طباعت بہت ہی اعلیٰ درجے کی ہے۔

کاغذ بھی آرٹ پیپر ہے اورتصاویر بھی مزین ہے لیکن سولہ سو روپے قیمت؟۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ قیمت تو کتاب کے اخراجات کو مد نظر کر رکھی گئی ہے اور یہ شکایت کچھ دوسرے لوگوں نے بھی کی ہے اس لیے میں نے ایک سیکم بنائی ہے کہ جو کوئی کسان سولہ مرتبہ درود شریف پڑھے وہ مجھ سے رجوع کرکے کتاب مفت حاصل کرلے ۔کچھ بالکل ہی نئی قسم کی آفر ہے ۔ لیکن پھر ہمیں ڈاکٹر صاحب کی دوسری کتابوں کا خیال آیا جو انھوں نے دین محمدیﷺ کے جذبے سے سرشار ہو کر لکھی ہیں اور خود ان کی شخصیت بھی آنکھوں میں پھر گئی تب سمجھ میں آیا کہ ڈاکٹر صاحب لوگوں کو دہرا فائدہ پہچانا چاہتے ہیں، درود شریف کے بدلے کتاب گویا کتاب کی کتاب اور ثواب کا ثواب یا ہم'' خر ما و ہم ثواب'' کے مصداق ہم گنا و ہم ثواب۔

اس آفر کی مقصدیت بڑی گہری ہے۔ ایک شخص جب سولہ بار عشق محمدﷺ سے مجبور ہو کر ان پر سلام اور درود بھیجے گا ابتدا میں صرف کتاب کے حصول کے لیے سہی لیکن سولہ سو بار پڑھتے پڑھتے وہ خود بھی اتنا تو متاثر ہو گا کہ ایک شخص سولہ سو روپے دے کر لوگوں سے درود پڑھوا رہا ہے تو میں کیسا مسلمان ہوں جو اب خلوص سے درود نہ پڑوں۔یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ہمارے عوام اور بالخصوص کسان نہایت ہی مخلص اور سراپا محبت ہوتے ہیں، ان کو تو صرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے باقی جذبہ تو ان کے اندر بہت ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے مطابق یہ اسکیم سولہ ہفتوں یعنی چودہ اگست تک قائم رہے گی ،کوئی بھی درود شریف سولہ بار پڑھے اور آکر یا رابطہ کرکے مجھ سے کتاب مفت میں حاصل کر لیں۔اسے ہم دو شیرینیوں کا پیکیج بھی کہہ سکتے ہیں اور مجموعہ '' حلا وتین '' یعنی شیرینی ہی شیرینی اگر کتاب کے ساتھ پیغمبر سے محبت بھی ملے تو بد نصیب ہی ہوگا جو اس سے خود کو محروم رکھے گا اس لیے ہم تو کہیں گے کہ اٹھو بھاگو اور حاصل کرو۔ دنیا اور آخرت کی دو شیرینیاں ایک ساتھ ۔ اور ایک مرتبہ پھر بتادیں کہ یہ سعادت صرف غریب کسان کے لیے ہے کیونکہ گنا بھی غریبوں کا پھل ہے اور درود شریف بھی ۔وہ جو خاص لوگ ہیں ان کا تو ۔

ایک حقیقہ یاد آرہا ہے۔ میرے گاؤں کے ایک کاشتکار کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ ہم ایک بڑے افسر کے ہاں گئے تو ''گنوں '' کا تحفہ بھی ساتھ لے گئے۔ گنے نو کر کے حوالے کیے لیکن تھوڑی دیر بعد صاحب نکلے تو گنوں کا گٹھا بھی نوکر واپس لے آیا اور ہمارے آگے پھینکتے ہوئے صاحب بولے تم کتنے احمق جاہل اور نالائق لوگ ہو، یہ تم کیا لائے ہو، جانتے نہیں ہمارے بچوں کے منہ کتنے نازک ہیں، اس کم بخت گنے سے چھل جائیں گے۔اور وہ واقعی خاص لوگوں میں سے اکثر کے منہ گنے سے بھی چھیلتے ہیں اور شاید درود شریف سے بھی۔
Load Next Story