بلوچستان میں قانون شکن عناصر کا تعاقب ناگزیر
’سی پیک‘ جو علاقے کے لیے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے اس کا آغاز بھی اسی بندرگاہ کے وجود سے ہورہا ہے
’سی پیک‘ جو علاقے کے لیے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے اس کا آغاز بھی اسی بندرگاہ کے وجود سے ہورہا ہے ۔ فوٹو : فائل
لاہور:
کوئٹہ اور پنجگور میں فائرنگ کے مختلف واقعات کے نتیجے میں متعدد افراد کے جاں بحق و زخمی ہونے کے نتیجے میں تشدد کی ایک نئی لہر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ یہ واقعات ایسے موقعے پر رونما ہوئے جب آرمی چیف کوئٹہ میں موجود تھے اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کررہے تھے۔ کوئٹہ میں سیاسی جماعت بی این پی کے رہنما اور پشتوزبان کے شاعرکے بیٹے کی ہلاکت اور پنجگور میں صوبائی وزیر صحت کے قافلے پر فائرنگ اور راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ بلاشبہ صوبائی انتظامیہ کی کاوشوں ، پولیس اور ایف سی کے جوانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر شورش شدہ علاقوںمیں امن وامان کی صورت حال خاصی بہتر ہوئی ہے ، لیکن ابھی کچھ وقفے کے بعد دہشتگرد عناصر موقع پاکر اپنی مذموم حرکتوں اور قیمتی انسانی جانوں کی ہولی کھیلنے سے باز نہیں آتے ۔ان کی آڑ میں کچھ قوتیں بھی سرگرم عمل ہیں، بلوچستان رقبے کے لحاظ سے آدھا پاکستان ہے ، قدرتی اور معدنی وسائل کی دولت سے مالا مال اور اب گوادر بندرگاہ کے فنکشنل ہونے سے اس کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔
'سی پیک' جو علاقے کے لیے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے اس کا آغاز بھی اسی بندرگاہ کے وجود سے ہورہا ہے، یہ بات ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو اچھی نہیں لگی اور وہ حسد و رقابت کی آگ میں جل کر 'را' کے ذریعے پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو بگاڑنے کی سازشوں میں مصروف ہے اور افغانستان کے دہشتگرد عناصر کو اپنا ساتھ ملا کر بلوچستان میں 'سی پیک' سبوتاژ کرنا چاہتا ہے ۔پاکستان کی حکومت اور فوج اس سازش کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، اسی تناظر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے جنرل ہیڈکوارٹر میں ملاقات کی۔
اس موقعے پر آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج دستیاب وسائل سے استفادہ کے لیے صوبہ بلوچستان کی معاونت کو ایک مقدس فریضہ اور فخر سمجھتی ہے۔ بلاشبہ دشمن کی سازشیں ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سیکیورٹی انتظامات کے نقائص کو دورکرکے مزید فول پروف بنایا جائے تاکہ انسانی جان ومال کا تحفظ ہوسکے اور دہشتگردوں کو کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے کی جرات اور ہمت نہ ہو۔ بلوچستان میں امن وامان کی بحالی سے پاکستان میں ترقی اورخوشحالی کے نئے سفر کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔
کوئٹہ اور پنجگور میں فائرنگ کے مختلف واقعات کے نتیجے میں متعدد افراد کے جاں بحق و زخمی ہونے کے نتیجے میں تشدد کی ایک نئی لہر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ یہ واقعات ایسے موقعے پر رونما ہوئے جب آرمی چیف کوئٹہ میں موجود تھے اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کررہے تھے۔ کوئٹہ میں سیاسی جماعت بی این پی کے رہنما اور پشتوزبان کے شاعرکے بیٹے کی ہلاکت اور پنجگور میں صوبائی وزیر صحت کے قافلے پر فائرنگ اور راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ بلاشبہ صوبائی انتظامیہ کی کاوشوں ، پولیس اور ایف سی کے جوانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر شورش شدہ علاقوںمیں امن وامان کی صورت حال خاصی بہتر ہوئی ہے ، لیکن ابھی کچھ وقفے کے بعد دہشتگرد عناصر موقع پاکر اپنی مذموم حرکتوں اور قیمتی انسانی جانوں کی ہولی کھیلنے سے باز نہیں آتے ۔ان کی آڑ میں کچھ قوتیں بھی سرگرم عمل ہیں، بلوچستان رقبے کے لحاظ سے آدھا پاکستان ہے ، قدرتی اور معدنی وسائل کی دولت سے مالا مال اور اب گوادر بندرگاہ کے فنکشنل ہونے سے اس کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔
'سی پیک' جو علاقے کے لیے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے اس کا آغاز بھی اسی بندرگاہ کے وجود سے ہورہا ہے، یہ بات ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو اچھی نہیں لگی اور وہ حسد و رقابت کی آگ میں جل کر 'را' کے ذریعے پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو بگاڑنے کی سازشوں میں مصروف ہے اور افغانستان کے دہشتگرد عناصر کو اپنا ساتھ ملا کر بلوچستان میں 'سی پیک' سبوتاژ کرنا چاہتا ہے ۔پاکستان کی حکومت اور فوج اس سازش کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، اسی تناظر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے جنرل ہیڈکوارٹر میں ملاقات کی۔
اس موقعے پر آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج دستیاب وسائل سے استفادہ کے لیے صوبہ بلوچستان کی معاونت کو ایک مقدس فریضہ اور فخر سمجھتی ہے۔ بلاشبہ دشمن کی سازشیں ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سیکیورٹی انتظامات کے نقائص کو دورکرکے مزید فول پروف بنایا جائے تاکہ انسانی جان ومال کا تحفظ ہوسکے اور دہشتگردوں کو کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے کی جرات اور ہمت نہ ہو۔ بلوچستان میں امن وامان کی بحالی سے پاکستان میں ترقی اورخوشحالی کے نئے سفر کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔