مالیاتی شعبہ مستحکم مسائل پر نظر ہے اسٹیٹ بینک
بعض ابھرتے ہوئے پست تا معتدل سطح کے خطرات قلیل تا وسط مدت میں توجہ کے طالب ہیں
معاشی سست روی وخلیجی ممالک میں معاشی دھچکوںسمیت عالمی حالات پر پالیسی سازتوجہ دیں،رواں سال بھی مالیاتی شعبہ مثبت رہے گا،سالانہ جائزہ رپورٹ فوٹو: فائل
بینک دولت پاکستان نے اپنی سالانہ مطبوعہ 'مالی استحکام جائزہ' (ایف ایس آر) جاری کردی، جائزے میں کیلنڈرایئر2016 کے دوران مالی شعبے کی تجزیاتی جانچ، اس سے منسلک خطرات اور بینکاری شعبے کی لچک کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
ایف ایس آر میں کہا گیا کہ پاکستان کا مالی شعبہ 2016 کے خاتمے پر صحت مند اور مستحکم حالت میں ہے، مالی اور غیرمالی دونوں شعبوں کی کارکردگی نے بحیثیت مجموعی نظام کی رسک پروفائل کو بہتر بنایا ہے کیونکہ مالی نظام کو درپیش خطرات کم رہے بلکہ کم ہورہے ہیں تاہم بعض ابھرتے ہوئے پست تا معتدل سطح کے خطرات قلیل تا وسط مدت میں توجہ کے طالب ہیں اور اسٹیٹ بینک ان کا بغور جائزہ لے رہا ہے، 2016 میں مالی شعبے نے قدرے دشوار مالی ماحول میں کام کیا۔ جائزے میں بعض عالمی دشواریوں کو اجاگر کیا گیا جیسے پست عالمی معاشی نمو، خصوصاً ترقی یافتہ معیشتوں میں پست نمو اور تیل کی قیمت کی وجہ سے خلیج تعاون کونسل کے ممالک (جہاں کافی پاکستانی برآمدات جاتی ہیں اور ترسیلات زر آتی ہیں) میں معاشی دھچکے، عالمی تجارت میں سست رفتاری، بڑھتے ہوئے تحفظ پسندی کے احساسات اور امریکا میں پالیسی کا معمول پر آنا جو ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی یافتہ معیشتوں میں سخت مالی حالات کا باعث بن سکتے ہیں۔
جائزے میں کہا گیا کہ ان حالات پر پالیسی سازوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جائزے میں کہا گیا ہے کہ ملکی معاشی ماحول 2016 میں سازگار رہا ہے، پیداوار (جی ڈی پی اور ایل ایس ایم دونوں) بڑھی ہے، مہنگائی قابو میں رہی ہے، کافی زرمبادلہ ذخائر کے ہمراہ ایکس چینج ریٹ مستحکم ہے، بینکاری شعبے سے حکومتی قرض کم ہوا ہے، امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے اور معاشی امکانات خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں حوصلہ افزا ہیں، چنانچہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ بینکاری شعبے کی کارکردگی اطمینان بخش رہی ہے اور مالی منڈیاں بالعموم ہموار طور پر چلتی رہی ہیں، علاوہ ازیں کارپوریٹ شعبے کو بھی سازگار مائیکروفنانشل حالات سے فائدہ ہوا ہے اور اس میں بھرپور منافع درج کیا گیا ہے، مالی شعبے کے تقریباً تین چوتھائی پر مشتمل بینکاری شعبے نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ قرضوں کی نمو کی رفتار میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اثاثہ جاتی معیار میں بہتری جبکہ انفیکشن کے تناسبات میں کمی آئی ہے، خصوصاً 2016 میں خام قرضوں میں 12.81 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ برس یہ 8.12 فیصد بڑھے تھے، غیر فعال قرضوں اور مجموعی قرضوں کا تناسب کم ہو کر 2016 کے اختتام تک ایک دہائی کی پست ترین سطح 10.01 فیصد پر آ گیا ہے تاہم گزشتہ چند برسوں میں غیرمعمولی طور پر بلند اضافے کے بعد بینکوں کی نفع یابی میں اعتدال آ گیا ہے، سیالیت کی صورتحال اطمینان بخش رہی جبکہ کفایت سرمایہ کا تناسب (سی اے آر) 16.2 فیصد کی بلند سطح پر ہے، 2016 میں بازار زر، زرمبادلہ اور ایکویٹی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ قدرے دھیما رہا، اگرچہ نان بینک فنانشیل انسٹی ٹیوشنز (این بی ایف آئیز) کا حجم چھوٹا ہے تاہم یہ بینکاری شعبے کے ساتھ نمو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
این بی ایف آئیز کا موجودہ ریگولیٹری فریم ورک اور پیچیدہ و بلند قدر کے حامل ڈھانچوں (نجی ایکویٹی فنڈز اور ہیج فنڈز) کی عدم موجودگی اس شعبے کے خطرات کو محدود رکھنے کا باعث بنی۔ جائزے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ این بی ایف آئیز کے شعبے کا اہم حصہ چند بڑے اداروں میں مرتکز ہے جبکہ کچھ چھوٹے اداروں کو ادائیگی قرض کے مسائل درپیش ہیں، دباؤ کے زمانے میں این بی ایف آئیز کے پاس عمومی طور پرسیالیت کی ہنگامی اعانت کے محدود ذرائع ہیں۔ جائزے میں کارپوریٹ شعبے کی مالی صحت کا تجزیہ بھی شامل ہے جس میں شعبے کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ جائزے میں گھریلو شعبے کے مالی استحکام کا جائزہ لینے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔
گھریلو شعبے کیلیے مثبت پہلو یہ ہے کہ فی کس آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ جائزے کے مطابق پاکستان کی مالی منڈیوں کا انفرااسٹرکچر مستحکم رہا ہے اور ہموار اور کارگر طریقے سے کام کر رہا ہے، بڑی مالیت کی ادائیگیوں میں نمو کا سلسلہ جاری ہے، برقی بینکاری تیزی سے کاغذی طریقوں کی جگہ لے رہی ہے۔ جائزے میں رائے ظاہر کی گئی ہے کہ 2017 میں مالی شعبے کا منظر نامہ اجاگر کیے گئے خطرات کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک مثبت رہے گا۔
ایف ایس آر میں کہا گیا کہ پاکستان کا مالی شعبہ 2016 کے خاتمے پر صحت مند اور مستحکم حالت میں ہے، مالی اور غیرمالی دونوں شعبوں کی کارکردگی نے بحیثیت مجموعی نظام کی رسک پروفائل کو بہتر بنایا ہے کیونکہ مالی نظام کو درپیش خطرات کم رہے بلکہ کم ہورہے ہیں تاہم بعض ابھرتے ہوئے پست تا معتدل سطح کے خطرات قلیل تا وسط مدت میں توجہ کے طالب ہیں اور اسٹیٹ بینک ان کا بغور جائزہ لے رہا ہے، 2016 میں مالی شعبے نے قدرے دشوار مالی ماحول میں کام کیا۔ جائزے میں بعض عالمی دشواریوں کو اجاگر کیا گیا جیسے پست عالمی معاشی نمو، خصوصاً ترقی یافتہ معیشتوں میں پست نمو اور تیل کی قیمت کی وجہ سے خلیج تعاون کونسل کے ممالک (جہاں کافی پاکستانی برآمدات جاتی ہیں اور ترسیلات زر آتی ہیں) میں معاشی دھچکے، عالمی تجارت میں سست رفتاری، بڑھتے ہوئے تحفظ پسندی کے احساسات اور امریکا میں پالیسی کا معمول پر آنا جو ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی یافتہ معیشتوں میں سخت مالی حالات کا باعث بن سکتے ہیں۔
جائزے میں کہا گیا کہ ان حالات پر پالیسی سازوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جائزے میں کہا گیا ہے کہ ملکی معاشی ماحول 2016 میں سازگار رہا ہے، پیداوار (جی ڈی پی اور ایل ایس ایم دونوں) بڑھی ہے، مہنگائی قابو میں رہی ہے، کافی زرمبادلہ ذخائر کے ہمراہ ایکس چینج ریٹ مستحکم ہے، بینکاری شعبے سے حکومتی قرض کم ہوا ہے، امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے اور معاشی امکانات خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں حوصلہ افزا ہیں، چنانچہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ بینکاری شعبے کی کارکردگی اطمینان بخش رہی ہے اور مالی منڈیاں بالعموم ہموار طور پر چلتی رہی ہیں، علاوہ ازیں کارپوریٹ شعبے کو بھی سازگار مائیکروفنانشل حالات سے فائدہ ہوا ہے اور اس میں بھرپور منافع درج کیا گیا ہے، مالی شعبے کے تقریباً تین چوتھائی پر مشتمل بینکاری شعبے نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ قرضوں کی نمو کی رفتار میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اثاثہ جاتی معیار میں بہتری جبکہ انفیکشن کے تناسبات میں کمی آئی ہے، خصوصاً 2016 میں خام قرضوں میں 12.81 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ برس یہ 8.12 فیصد بڑھے تھے، غیر فعال قرضوں اور مجموعی قرضوں کا تناسب کم ہو کر 2016 کے اختتام تک ایک دہائی کی پست ترین سطح 10.01 فیصد پر آ گیا ہے تاہم گزشتہ چند برسوں میں غیرمعمولی طور پر بلند اضافے کے بعد بینکوں کی نفع یابی میں اعتدال آ گیا ہے، سیالیت کی صورتحال اطمینان بخش رہی جبکہ کفایت سرمایہ کا تناسب (سی اے آر) 16.2 فیصد کی بلند سطح پر ہے، 2016 میں بازار زر، زرمبادلہ اور ایکویٹی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ قدرے دھیما رہا، اگرچہ نان بینک فنانشیل انسٹی ٹیوشنز (این بی ایف آئیز) کا حجم چھوٹا ہے تاہم یہ بینکاری شعبے کے ساتھ نمو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
این بی ایف آئیز کا موجودہ ریگولیٹری فریم ورک اور پیچیدہ و بلند قدر کے حامل ڈھانچوں (نجی ایکویٹی فنڈز اور ہیج فنڈز) کی عدم موجودگی اس شعبے کے خطرات کو محدود رکھنے کا باعث بنی۔ جائزے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ این بی ایف آئیز کے شعبے کا اہم حصہ چند بڑے اداروں میں مرتکز ہے جبکہ کچھ چھوٹے اداروں کو ادائیگی قرض کے مسائل درپیش ہیں، دباؤ کے زمانے میں این بی ایف آئیز کے پاس عمومی طور پرسیالیت کی ہنگامی اعانت کے محدود ذرائع ہیں۔ جائزے میں کارپوریٹ شعبے کی مالی صحت کا تجزیہ بھی شامل ہے جس میں شعبے کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ جائزے میں گھریلو شعبے کے مالی استحکام کا جائزہ لینے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔
گھریلو شعبے کیلیے مثبت پہلو یہ ہے کہ فی کس آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ جائزے کے مطابق پاکستان کی مالی منڈیوں کا انفرااسٹرکچر مستحکم رہا ہے اور ہموار اور کارگر طریقے سے کام کر رہا ہے، بڑی مالیت کی ادائیگیوں میں نمو کا سلسلہ جاری ہے، برقی بینکاری تیزی سے کاغذی طریقوں کی جگہ لے رہی ہے۔ جائزے میں رائے ظاہر کی گئی ہے کہ 2017 میں مالی شعبے کا منظر نامہ اجاگر کیے گئے خطرات کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک مثبت رہے گا۔